سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا حدیث کی روایت کرنا
علی محمد الصلابیسیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا شمار ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہوتا ہے جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث کی روایت کا شرف حاصل تھا، اس کا سبب یہ تھا کہ چوں کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبِ وحی اور سسرالی رشتہ دار تھے، اس لیے فتح مکہ کے بعد سیدنا معاویہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہتے تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک سو تریسٹھ حدیثیں روایت کی ہیں، ان میں سے چار حدیثوں پر امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ کا اتفاق ہے اور ان میں سے چار حدیثوں کو تنہا امام بخاریؒ اور پانچ حدیثوں کو تنہا امام مسلمؒ نے روایت کیا ہے۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 23)
گورنری کے زمانہ میں رعایا کے ساتھ سیدنا معاویہؓ کا کردار دوسرے گورنروں سے بہتر تھا، جس کے باعث لوگ سیدنا معاویہؓ سے محبت کرتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث میں واردہے آپ فرماتے ہیں:
خِیَارُ أَئَمَّتِکُمْ - حُکَّامِکُمْ- الَّذِیْن تُحِبُّوْنَہُمْ وَ یُحِبُّوْنَکُمْ وَ تَصِلُوْنَ عَلَیْہِمْ وَ یَصِلُوْنَ عَلَیْکُمْ، وَ شُرَّ أَئِمَّتِکُمُ الَّذِیْنَ تُبْغِضُوْنَہُمْ وَ یُبْغِضُوْنَکُمْ، تَلْعَنُوْنَہُمْ وَیَلْعَنُوْنَکُمْ۔
(صحیح مسلم: کتاب الإمارۃ حدیث نمبر 65)
’’تمھارے اچھے حکام وہ ہیں جنھیں تم پسند کرو اور وہ تمھیں پسند کریں، تم ان کے لیے دعا کرو اور وہ تمھارے لیے دعائے خیر کریں اور تمھارے برے حکام وہ ہیں جنھیں تم ناپسند کرو اور وہ تمھیں ناپسند کریں، تم ان پر لعنت بھیجو اور وہ تم پر لعنت بھیجیں۔‘‘