Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے گستاخ کا مال فئی میں کچھ حصہ نہیں ہے


دوسری صدی ہجری کے فتاویٰ جات

 امام مالک رحمۃ اللہ کا فتویٰ

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے گستاخ کا مال فئی میں کچھ حصہ نہیں ہے

مالک بن انس وغیرہ نے فرمایا ہے کہ جس نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مبغوض رکھا اور اُن کو بُرا کہا، ہو اُس کا مسلمانوں کے مال فئی میں کچھ حق نہیں اور انہوں نے یہ بات سورہ حشر کی اس آیت سے نکالی ہے:

وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ۞ (سورۃ الحشر: آیت 10)

ترجمہ: واسطے ان لوگوں کے ہے جو آئے ہیں پیچھے اُن کے، کہتے ہیں اے ہمارے رب! بخش ہم کو اور ہمارے بھائیوں کو جو پہلے ایمان لائے ہم سے اور مت کر ہمارے دلوں میں کینہ واسطے اُن لوگوں کے کہ ایمان لائے ہیں ۔ اے ہمارے رب ! تو ہی نرمی والا مہربان ہے۔

اور کہا ہے کہ جس کو اصحابِ محمدﷺ کے سبب غصہ پیدا ہو، سو وہ کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے فرمایا لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌ (سورۃ الفتح: آیت 48) تاکہ غصہ دلائے کافروں کو۔ (شمیم الریاض: اردو ترجمہ الشفاء قاضی عیاضؒ: جلد 2 صفحہ 45)