Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت سے متعلق امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ کا قول

  علی محمد الصلابی

سفیان بن لیل سے مروی ہے کہتے ہیں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما جب مدینہ سے کوفہ آئے تو انھیں مخاطب کرتے ہوئے میں نے ’’یا مذل المؤمنین‘‘ (اے مومنوں کو رسوا کرنے والے) کہا، انھوں نے کہا: ایسا نہ کہو، میں نے اپنے والد کو کہتے سنا ہے کہ کچھ ہی دنوں کے بعد سیدنا معاویہ حکومت کریں گے، اس پر مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ کا فیصلہ نافذ ہونے والا ہے، اس لیے مجھے ناپسند تھا کہ میرے اور ان کے مابین مسلمانوں کا خون بہے۔

(تاریخ دمشق: جلد 12 صفحہ 105)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ایک دوسری روایت میں ہے:

’’تم سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کو ناپسند نہ کرنا، اللہ کی قسم ان کے نہ رہنے پر حنظل کے مانند سر تنوں سے جدا ہوں گے۔‘‘

(تاریخ دمشق: جلد 12 صفحہ 105)

ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ میں حکومت کی صلاحیت و طاقت تھی، نیز یہ کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح سے متعلق باہمی گفت و شنید اور تعامل میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اچھے اسلوب کے نتیجے میں مصالحت کی مشترکہ مصلحتیں وجود میں آئیں، صلح کے منصوبہ کے بالفعل منصوبہ ساز حسن رضی اللہ عنہ تھے، لیکن صلح کی کامیابی میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت، ذہنی وسعت، کشادہ دلی اور اسلوب کی نرمی کا بہت بڑا دخل رہا۔

سیدنا معاویہؓ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا ادب کرتے تھے، ان کا احترام کرتے تھے اور اہلِ بیتؓ کے فضائل بیان کرتے تھے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ الہٰی قضا و قدر کے مطابق ان کے مابین جو بھی جھگڑے اور لڑائیاں ہو چکی تھیں اس کے باوجود وہ حق بات (اہل بیت کے احترام) کو ترجیح دیتے تھے۔

(الناہیۃ عن طعن أمیر المؤمنین معاویۃ: صفحہ 57)

امام احمد بن حنبلؒ نے مسند میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کو نقل کیا ہے، کہتے ہیں: 

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی زبان اور ہونٹوں کو اپنی زبان سے چوستے تھے اور اللہ تعالیٰ ایسی زبان اور ہونٹ کو عذاب میں ہرگز مبتلا نہیں کرے گا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان سے چوسا ہو۔‘‘

(المسند: حدیث نمبر 16848، اس کی سند صحیح ہے۔)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے بارے میں بہت صراحت پسند، اپنے گناہوں کے معترف، رب کی مغفرت کے طالب اور اس کی رحمت کے امیدوار تھے، چنانچہ ابنِ شہاب سے مروی ہے وہ عروہ سے روایت کرتے ہیں کہ مسور رضی اللہ عنہ نے انھیں بتایا کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے انھوں نے کہا: اے مسور! حکام کو تمھارے لعن طعن کرنے کا کیا نتیجہ نکلا؟ مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: چھوڑیے اس بات کو، جس بات کے لیے میں آیا ہوں اس پر اچھی طرح دھیان دیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ میں جتنے عیوب تم پاتے ہو، انھیں تم بذات خود مجھ سے ذکر کرو، چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے تمام عیوب بیان کر دیے، اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں برائیوں سے مبرّا نہیں، لیکن کیا تم عام لوگوں کے ساتھ میری بھلائیوں کو شمار نہیں کرتے، بلکہ انھیں چھوڑ کر صرف برائیوں کو شمار کرتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہاں، انھوں نے کہا: اللہ کے واسطے میں ہر برائی کا اقرار کرتا ہوں، لیکن کیا تمھارے اندر برائیاں نہیں، جنھیں تم نے خاص لوگوں کے ساتھ انجام دیا ہو اور تمھیں ان کا خوف لاحق ہو؟ چنانچہ انھوں نے اس کا اعتراف کیا، اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کون سی چیز تمھیں مغفرت کا مجھ سے زیادہ حق دار بناتی ہے؟ اللہ کی قسم میری بھلائیاں تمھاری بھلائیوں سے زیادہ ہیں، میں اللہ اور اس کے ماسوا میں سے صرف اللہ کا انتخاب کرتا ہوں، میں اس دین کا قائل ہوں جس میں اعمال قبول کیے جاتے ہیں اور نیکیوں کا بدلہ دیا جاتا ہے، مسور رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے مکمل احساس ہو گیا کہ انھوں نے مجھے مغلوب کر دیا، عروہ کہتے ہیں: اس کے بعد مسور رضی اللہ عنہ نے جب بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو ان کے لیے بھلائی کی دعا کی۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 392)

اگر اللہ تعالیٰ نے قوت بخشی اور اسباب مہیا کیے تو خلافت بنی امیہ سے متعلق لکھوں گا اور وہاں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کروں گا، لیکن اس نیت کے باوجود کوئی مانع نہیں کہ اس واقعے کا ذکر کروں، جو سیدنا معاویہؓ کے خوف و خشیت الہٰی کا پتہ دیتا ہے، سیدنا معاویہؓ کی مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کا جب بھی ذکر کیا گیا جس میں ہے کہ قیامت کے دن امتِ محمدیہ کے جن لوگوں کو پہلے جہنم میں ڈالا جائے گا وہ ریاکار، قرآن کا قاری، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا اور جہاد کرنے والا ہوگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا ذکر کر کے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا:

یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ أُولٰئِکَ الثَّلَاثَۃُ أَوُّلٌ خَلْقِ اللّٰہِ تُسْعَرُبِہِمُ النَّارُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔

(صحیح سنن الترمذی للالبانی: حدیث نمبر 1713، اس کو امام حاکمؒ نے بھی روایت کیا ہے۔)

’’اے ابوہریرہ یہی تینوں پہلے لوگ ہوں گے جنھیں قیامت کے دن سب سے پہلے جہنم میں ڈالا جائے گا۔‘‘

تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو سن کر فرمایا: جب اتنے بڑے بڑے کام کیے لوگوں کا یہ حال ہو گا تو بقیہ لوگوں کا حال کیا ہو گا؟ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ زار و قطار رونے لگے یہاں تک کہ ہمیں خدشہ لاحق ہو گیا کہ آپ ہلاک نہ ہو جائیں، پھر آپ کی حالت سدھری، چہرے کو صاف کیا اور فرمایا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا ہے:

مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَ زِيۡنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيۡهِمۡ اَعۡمَالَهُمۡ فِيۡهَا وَهُمۡ فِيۡهَا لَا يُبۡخَسُوۡنَ‏ ۞ اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ لَـيۡسَ لَهُمۡ فِىۡ الۡاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ‌ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِيۡهَا وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ۞

(النھایۃ فی الفتن: والملاحم: جلد 2 صفحہ 52)

 (سورۃ هود: آیت 15، 16)

ترجمہ: جو لوگ (صرف) دنیوی زندگی اور اس کی سج دھج چاہتے ہیں، ہم ان کے اعمال کا پورا پورا صلہ اسی دنیا میں بھگتا دیں گے، اور یہاں ان کے حق میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں دوزخ کے سوا کچھ نہیں ہے، اور جو کچھ کارگزاری انہوں نے کی تھی، وہ آخرت میں بیکار ہو جائے گی، اور جو عمل وہ کر رہے ہیں، (آخرت کے لحاظ سے) کالعدم ہیں۔

بلاشبہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت اور خدمتِ اسلام میں ان کے تاریخی کارناموں کا صلح کی کامیابی میں اہم کردار رہا، ہمارے خیال میں وہ ہدایت یافتہ خلفائے راشدینؓ کے طبقہ میں سے نہیں تھے، لیکن وہ عادل بادشاہوں میں سے تھے، سیدنا معاویہؓ کی سیرت اجتماعی، اقتصادی، فوجی، اداری اور سیاسی تفقہ سے بھرپور تھی، ضرورت ہے کہ سیدنا معاویہؓ کے کارناموں کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے اور لکھا جائے، اللہ سے اس کی توفیق کے ہم طالب ہیں۔