صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے گستاخوں کا مال فئی میں کچھ حق نہیں ہے
جو کوئی اصحابِ رسولﷺ میں سے کسی صحابی کی منقصت کرے تو اُس کا اس فئی میں کچھ حق نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ نے اس فئی کو تین قسم میں منقسم فرمایا ہے۔ پس فرمایا:
لِلۡفُقَرَآءِ الۡمُهٰجِرِيۡنَ الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَاَمۡوَالِهِمۡ يَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا وَّيَنۡصُرُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوۡنَ۞(سورۃ الحشر: آیت 8)
ترجمہ: (یہ مال ) واسطے ان مفلسوں وطن چھوڑنے والوں کے (ہے) جو نکالے ہوئے آئے ہیں اپنے گھروں سے اور مالوں سے، ڈھونڈتے رہے ہیں فضل اللہ تعالیٰ کا اور رضامندی اس کی، اور مدد دیتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو یہی لوگ ہیں سچے انتھیٰ پھر فرمایا:
وَالَّذِيۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالۡاِيۡمَانَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ يُحِبُّوۡنَ مَنۡ هَاجَرَ اِلَيۡهِمۡ وَلَا يَجِدُوۡنَ فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَيُـؤۡثِرُوۡنَ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٌ ؕ وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَـفۡسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ۞ (سورۃ الحشر: آیت 9)
ترجمہ: اور جو جگہ پکڑ رہے ہیں اس گھر میں اور ایمان میں ان سے پہلے، محبت کرتے ہیں ان سے جو وطن چھوڑ آئے انکے پاس، اور نہیں پاتے اپنے دل میں غرض اس چیز سے جو انکو ملا اور اول رکھتے ہیں انکو اپنی جان سے اور اگرچہ ہو اپنے اوپر بھوک انتھی اور یہ انصار ہیں پھر فرمایا:
وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ۞ (سورۃ الحشر: آیت 10)
ترجمہ: اور مال فئی واسطے ان لوگوں کے ہے جو آئے ہیں پیچھے انکے، کہتے ہیں اے ہمارے رب! بخش ہم کو اور ہمارے بھائیوں کو جو پہلے ایمان لائے ہم سے اور مت کر ہمارے دلوں میں کینہ واسطے ان لوگوں کی جو ایمان لائے ہیں۔ اے ہمارے رب! تو ہی نرمی والا مہربان ہے۔
پس جو کوئی ان کی تنقیص کرے سو فئی المسلمین میں اسکا کوئی حق نہیں
(شمیم الریاض اردو ترجمہ الشفاء قاضی عیاضؒ: جلد 2 صفحہ 290)