Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

گستاخ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا جنازہ


حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت کرنے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دشمنوں سے دشمنی کرنے کا حکم دیا ہے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے گستاخ کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک ایک شخص کا جنازہ حاضر کیا گیا تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نماز نہ پڑھی اور فرمایا یہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دشمن رکھتا تھا سو خدا تعالیٰ جل شانہ نے اسکو دشمن رکھا۔

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی میرے اصحاب میں میری حفاظت کرے گا (اور میرے حق کو ملحوظ رکھے گا) قیامت کے روز میں اسکا حافظ اور نگہبان ہوں گا، اور فرمایا ہے کہ جو کوئی میرے اصحاب میں میری حفاظت کرے گا وہ میرے پاس میرے حوض پر وارد ہو گا، اور جو کوئی میرے اصحاب میں میری حفاظت نہ کرے گا سو میرے پاس میرے حوض پر وارد نہ ہو گا اور نہ مجھ کو دیکھے گا، مگر دور سے 

امام مالک رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جو سارے خلق کے ادب سکھانے والے ہیں اور جن کے سبب ہم کو اللہ تعالیٰ جل شانہ نے ہدایت کی ہے اور جن اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے رحمت للعالمین بنایا ہے وہ راتوں کو جنت البقیع کی جانب تشریف لے جاتے اور انکے لیے دعا و استغفار کرتے جیسے کہ آپ ان کو رخصت کر رہے ہوں اور اسی کا اللہ تعالیٰ جل شانہ نے آپ کو حکم دیا تھا اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت اور شفقت اور موالات کا اور ان اشخاص سے دشمنی کرنے کا حکم دیا ہے جو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دشمن رکھے۔

(شمیم الریاض اردو ترجمہ الشفاء قاضی عیاضؒ: جلد 2 صفحہ 46)