عہد خلافت راشدہ میں شریعت کے مصادر
علی محمد الصلابیأ: قرآن کریم :
ارشاد ربانی ہے:
اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الۡكِتٰبَ بِالۡحَـقِّ لِتَحۡكُمَ بَيۡنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰٮكَ اللّٰهُ وَلَا تَكُنۡ لِّـلۡخَآئِنِيۡنَ خَصِيۡمًا ۞ (سورۃ النساء آیت 105)
ترجمہ: بیشک ہم نے حق پر مشتمل کتاب تم پر اس لیے اتاری ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اس طریقے کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تم کو سمجھا دیا ہے، اور تم خیانت کرنے والوں کے طرف دار نہ بنو۔
چنانچہ وہی مصدر اول ہے جو زندگی کے تمام گوشوں سے متعلق شرعی احکام پر مشتمل ہے، اس میں تمام شعبہ ہائے حیات کی اصلاح کے قطعی احکام اور بنیادی اصول موجود ہیں، اس نے مسلمانوں کے لیے تمام بنیادی باتوں کو بیان کر دیا ہے۔
ب: حدیث نبوی:
یہ مصدر ثانی ہے جس سے اسلامی قانون اپنے اصول و ضوابط حاصل کرتا ہے، اس سے قرآنی احکام کی تنفیذی شکلوں کی تفصیل معلوم ہوتی ہے،
(فقہ التمکین فی القرآن الکریم للصلابی: صفحہ 432)
اور اللہ تعالی نے اطاعتِ رسول کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے:
قُلۡ اَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡكٰفِرِيۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 32)
ترجمہ: کہہ دو کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو، پھر بھی اگر منہ موڑو گے تو اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا
نیز اللہ تعالیٰ نے رسول کے حکم کی مخالفت کی خطرناکی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:
فَلۡيَحۡذَرِ الَّذِيۡنَ يُخَالِفُوۡنَ عَنۡ اَمۡرِهٖۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ فِتۡنَةٌ اَوۡ يُصِيۡبَهُمۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ۞(سورۃ النور آیت 63)
ترجمہ: لہٰذا جو لوگ اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں، ان کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی آفت نہ آپڑے، یا انہیں کوئی دردناک عذاب نہ آ پکڑے۔
نیز بتایا کہ رسول کے فیصلہ کے بعد مومنوں کو اختیار نہیں رہ جاتا، فرمایا:
وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٍ وَّلَا مُؤۡمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗۤ اَمۡرًا اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهُمُ الۡخِيَرَةُ مِنۡ اَمۡرِهِمۡ ۞ (سورۃ الأحزاب آیت 36)
ترجمہ: اور جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا حتمی فیصلہ کردیں تو نہ کسی مومن مرد کے لیے یہ گنجائش ہے نہ کسی مومن عورت کے لیے کہ ان کو اپنے معاملے میں کوئی اختیار باقی رہے۔
اختلافی صورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول ہی کی جانب رجوع کرنے کا حکم دیا ہے، فرمایا:
فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا ۞(سورۃ النساء آیت 59)
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو اور تم میں سے جو لوگ صاحب اختیار ہوں ان کی بھی۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو اگر واقعی تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور رسول کے حوالے کر دو۔ یہی طریقہ بہترین ہے اور اس کا انجام بھی سب سے بہتر
اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ ذٰلِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا ۞(سورۃ النساء آیت 59)
ترجمہ: اگر واقعی تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور رسول کے حوالے کر دو۔ یہی طریقہ بہترین ہے اور اس کا انجام بھی سب سے بہتر ہے۔
مذکورہ باتوں کی روشنی میں یہ بات لازمی تھی کہ حدیث نبوی عہد خلافتِ راشدہ میں شریعت کے مصادر میں سے ہو۔
بلاشبہ خلافت راشدہ کی حکومت شریعت کی پابند تھی، اس میں اسلامی قانون و شریعت کو ہر قانون پر فوقیت حاصل تھی، وہ نہایت روشن و تابناک حکومت تھی، اپنے تمام شعبوں میں شرعی احکام کی پابند تھی، اس کا حاکم ان احکام کی سختی سے پابندی کرتا تھا۔
(نظام الحکم فی الإسلام: صفحہ 227)
عہدِ خلافت راشدہ اور صحابہؓ کے معاشرے میں شریعت کو ہر چیز پر فوقیت حاصل تھی، حاکم و محکوم سب اس کے پابند تھے، اسی لیے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے امت سے جس اطاعت کا مطالبہ کیا اسے اللہ و رسول کی اطاعت سے مربوط کرتے ہوئے فرمایا:
أَطِیْعُوْنِیْ مَا أَطَعْتُ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہُ فَإِنَّ عَصَیْتُ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہُ فَلَا طَاعَۃَ لِی عَلَیْکُمْ۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 6 صفحہ 306)
’’جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کروں تم میری اطاعت کرو، اگر میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے لگوں تو تم پر میری اطاعت ضروری نہیں۔‘‘