Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سنت کی اہمیت

  علی محمد الصلابی

جیسا کہ گزر چکا ہے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ عہدِ خلافت راشدہ سے پوری طرح واقف تھے، سیدنا ابوبکر صدیق، عمر فاروق، عثمان ذوالنورین اور اپنے والد علی رضی اللہ عنہن کے عہد خلافت سے بہت سارے اسباق سیکھے اور تجربات حاصل کیے، عہد خلافت راشدہ کی اہمیت اس بات سے عیاں ہوتی ہے کہ وہ عہد نبوی سے ملا ہوا ہے اور اس سے قریب ہے، عہد خلافت راشدہ عہد نبوی ہی کا تسلسل تھا، اس میں عہد نبوی کی تمام باتوں پر مکمل عمل ہوتا تھا، انھیں مکمل طور پر عمل میں لایا جاتا تھا، حرف بہ حرف ان کی تنفیذ ہوتی تھی اور ان کا التزام کیا جاتا تھا، ساتھ ہی ساتھ عہدِ خلافت راشدہ میں شورائی اصولوں پر حکومت کو مضبوط کرنے اور نوع بہ نوع نئے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے حکومت کے تمام شعبوں سے متعلق نئی ترتیبات وضع کی گئیں، مختلف مجالات میں نئے اجتہادات سامنے آئے، جن سے حکومت اور ملتِ اسلامیہ نے استفادہ کیا۔ تاقیامت مسلمان حکمرانوں کے لیے عہد خلافت راشدہ کی اہمیت کی سب سے بڑی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول ہے:

عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِیْ وَ سُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّیْنَ مِنْ بَعْدِیْ۔

(سنن أبی داؤد: جلد 4 صفحہ 201، سنن الترمذی: سنن الترمذی: جلد 5 صفحہ 44، اس کی سند حسن ہے۔)

’’تم میری سنت اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدینؓ کی سنت کو لازم پکڑو۔‘‘

نیز آپﷺ کا یہ قول بھی:

اِقْتَدُوْا بِالَّذِیْنَ مِنْ بَعْدِی أَبِیْ بَکْرٍ وَ عُمَرَ۔ 

(صحیح سنن الترمذی للالبانی: جلد 3 صفحہ 200)

’’میرے بعد ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی اقتداء کرو۔‘‘