Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کافی کلینی کی حدیث

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

اس کے متعلق بھی فروعِ کافی جلد 1 صفحہ 19 سے ایک حدیث پیش کی جاتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاؤں کا دھونا فرض ہے:

وَإِنْ نَّسِيتَ مَسْحَ رَاسِكَ حَتَّى تَغْسِلَ رِجْلَيْكَ فَامْسَحُ رَاسَكَ ثُمَّ اغْسِلْ رِجْلَيْكَ۔

ترجمہ: سیدنا صادقؒ نے فرمایا اگر سر کا مسح بھول جائے اور پہلے پاؤں کو دھو ڈالے تو سر کا پھر صبح کر لے اور بعد ازاں پاؤں دھو ڈالے۔

اس حدیث سے بالصراحت ثابت ہے کہ پاؤں کا دھونا فرض ہے اس لیے سیدنا صادقؒ نے فرمایا کہ اگر مسحِ سر کو بھول کر غلطی سے پاؤں دھوئے جائیں تو پھر ایسا کرنا چاہیے کہ سر کا مسح کر لیا جائے اور ترتیب کی درستی کے لیے پھر دوبارہ پاؤں دھوئے جائیں اگر پاؤں کا دھونا فرض نہیں بلکہ ازالہ نجاست منظور تھا جیسا کہ شیعہ کہا کرتے ہیں تو پہلے دھونے سے ازالہ نجاست تو ہو چکا تھا مسح سر کرنے کے بعد مکرر پاؤں دھونے کا حکم کیوں دیا جاتا؟ اس حدیث کا کوئی جواب شیعہ نہیں دے سکتے اور یہ حدیث خلافِ شیعہ ہمارے پاس ایک زبردست حربہ ہے جس سے ان کے تمام استدلال پر پانی پھر جاتا ہے۔ 

کیا لطف جو غیر پردہ کھولے 

جادو وہ جو سر چڑھ کے بولے 

فی الواقع کافی تمام مسائل کے لیے کافی و وافی ہے ہاں انصاف شرط ہے ضد کا کوئی علاج ہی نہیں۔