Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

داڑھی چٹ مونچھیں دراز

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

آج کل شیعانِ علی کا نشانِ امتیاز یہ ہے کہ داڑھی چٹ اور مونچھیں دراز ہوتی ہیں پس اسی حلیہ سے وہ پہچانے جاتے ہیں جس کی داڑھی مسنون ہو اور شوارب (مونچھیں کٹی ہوئی ہوں اس کو شیعہ حضرات غیظ و غضب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اس لیے کتبِ شیعہ سے اس مسئلہ پر روشنی ڈالنا ضروری ہے تا کہ دیکھ کر اپنی حالت پر افسوس ہو اور آئندہ اس سے باز آجائیں۔ 

1: شیعہ کی مستند کتاب حدیث من لا یحضرہ الفقیہ میں ہے:

قَالَ رَسُول اللَّهِ ﷺ احْفُوا الشَّوَارِبَ وَاعْفُو لِلَّحِی وَلَا تُشَبِّهُوا بِالْيَهُودِ۔ 

ترجمہ: رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مونچھیں کٹاؤ اور داڑھی رکھو اور یہودیوں سے مشابہت پیدا نہ کرو) 

2: فروع کافی جلد، 3 صفحہ 53 میں ہے:

عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ عَنْ أَبِی عَبْدِاللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِی قَدْرِ اللَّحْيَةِ قَالَ تَقْبِضُ بِيَدِكَ وَتَجُرُ مَا فَضْلَ۔

ترجمہ: سیدنا صادقؒ سے بعض اصحاب نے داڑھی کی مقدار کا سوال کیا ، آپ نے فرمایا، بقدر قبضہ رکھو اور اس سے زائد کاٹو۔

3: اسی کتاب کے صفحہ مذکور میں ہے:

عَنْ عَلِی ابْنَ جَعْفَرَ عَنْ أَخِيهِ أَبِی الْحَسَنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ سَنَلَهُ عَنْ قَصَّ الشَّوَارِبِ أَمِنَ السَّنَّةِ قَالَ نَعَمْ۔

(حیات القلوب جلد 1 صفحہ 136 میں ہے: از سنتہائے ابراہیم است، شارب را گرفتن و ریش را بلند داشتن۔ مونچھیں کٹانا اور داڑھی رکھنا سنتِ ابراہیم علیہ السلام سے ہے)

ترجمہ: علی ابن جعفر ہی کے اپنے بھائی ابوالحسن سے روایت کی ہے کہ ان سے دریافت ہوا کیا مونچھوں کا کٹانا سنت ہے؟ کہا، ہاں بے شک !) 

4: پھر اسی کتاب کے صفحہ 53 میں ہے:

عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ لَا يُطَوّلَنَّ أَحَدُكُمْ شَارِبَهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَتَّخِذُوهُ خَبَاءَ يستربه۔

ترجمہ: سیدنا صادقؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کوئی شخص تم میں سے مونچھوں کو نہ بڑھائے کیونکہ شیطان خیمہ بناتا ہے جو اس کے پردہ کا کام دے۔

5: اصولِ کافی صفحہ 217 میں ہے:

يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَمَا جُندُ بَنِی مَرْوَانَ قَالَ فَقَالَ لَهُ قَوْمٌ خَلَقُوا اللحِی وَقَتَلُوا الشَّوَارِبَ۔

ترجمہ: سیدنا امیرؓ (سیدنا علیؓ) سے پوچھا گیا بنو مردان کا لشکر کون ہے تو فرمایا وہ ایک قوم تھی جو ڈاڑھی چیٹ کراتے اور مونچھوں کو تاؤ دیتے تھے ان کی صورتیں مسخ ہو گئیں۔

شیعہ غور کریں: حدیث نمبر 1 میں مونچھیں کٹانے اور ڈاڑھی رکھنے کا صاف حکم ہے اور یہ کہ جو ایسا نہیں کرتے وہ یہودیوں سے مشابہ بنتے ہیں۔ 

حدیث نمبر 2 میں ڈاڑھی کی مقدار بتائی گئی ہے کہ بقدر قُبضہ اس کا رکھنا ضروری ہے۔ حدیث نمبر 3 سے میں مونچھیں کٹانا سنت نبوی قرار دیا گیا ہے۔ 

حدیث نمبر 4 میں تو مونچھیں کٹانے کی ایسی تاکید کی گئی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا لمبی مونچھیں شیطان کے خیمہ کے کام آتی ہیں، جس سے وہ پردہ بناتا ہے۔ 

حدیث نمبر 5 میں ڈاڑھی چٹ اور مونچھیں دراز بنو مروان کے لشکر کا حلیہ بتایا گیا ہے۔ 

جو حضراتِ شیعہ ان احادیث کے خلاف داڑھی چٹ اور مونچھیں دراز اپنا شعار بنائے ہوئے ہیں، وہ ان احادیث کی رُو سے یہودی صفت اور سنتِ نبویﷺ کے منکر شیطان کے مددگار ہیں کہاں ہیں وہ شیعہ جو جہال کو کہا کرتے ہیں کہ لمبی مونچھیں سیدنا علی کے شاہپر ہیں؟ اور اس لیے ہم سنتِ علی جیل کے عامل ہیں اگر تمہاری کتابیں سچی اور تمہارے امام صادق اور رسول اللہﷺ کا قول سچا ہے تو یہ لوگ سنتِ شیطان کے عامل اور یہود صفت خداوندِ رسولﷺ کے نافرمان ہیں، خدا ان کو ہدایت کرے غضب تو یہ ہے کہ شیعہ علماء بھی ڈاڑھی چٹ اور مونچھیں دراز نظر آتے ہیں گویا وہ اس کو شعار اسلام سمجھتے ہیں، ایسے علماء سے خدا کی پناہ جو ضَلُّوا فَاضَلُّوا کے مصداق ہیں۔