Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

رابعا ولی عہد مقرر کرنا یا معاملے کو مسلمانوں کی شورائیت پرچھوڑ دینا

  علی محمد الصلابی

کہا جاتا ہے کہ جانبین جن شرطوں پر متفق ہوئے تھے ان میں سے ایک شرط یہ تھی کہ خلافت، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے لیے ہو گی،

(فتح الباری: جلد 13 صفحہ 70)

اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ گیا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ زندہ رہے تو وہ انھیں ضرور نامزد کر دیں گے اور خلافت ان کے حوالے کر دیں گے۔

(سیرأعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 264)

لیکن اس سلسلہ میں ابن اعثم نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے:

’’رہا ان کے بعد خلافت کا معاملہ تو مجھے اس کی کوئی چاہت نہیں، اگر مجھے اس کی چاہت ہوتی تو ان کے حوالے نہ کرتا۔‘'

(الفتوح: جلد 3 صفحہ 293)

صلح کی عبارت جسے ابن حجر ہیثمیؒ نے نقل کیا ہے، اس میں وارد ہے کہ معاملہ ان کے بعد مسلمانوں کی شورائیت پر موقوف ہو گا۔

(الصواعق المرسلۃ: جلد 2 صفحہ 299)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی جانب سے خلافت کے مطالبہ سے متعلق روایتوں کی چھان بین کے بعد پتہ چلتا ہے کہ وہ روایتیں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عالی ظرفی، قوت اور خودداری سے میل نہیں کھاتیں، اللہ کی رضا اور مسلمانوں کی خونریزی کو روکنے کی خاطر کس طرح وہ خلافت سے دست بردار ہو کر پھر چاہیں گے کہ محکوم بن کر دنیاوی اسباب کو تلاش کریں اور دوبارہ خلافت کو للچائی ہوئی نگاہوں سے دیکھیں، اس کی عدم صحت کی دلیل جبیر بن نفیر کا قول ہے، کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہا: لوگوں کا خیال ہے کہ آپ کو خلافت کی چاہت ہے، سیدنا حسنؓ نے فرمایا: عرب کے لوگ میری مٹھی میں تھے، جن سے میں صلح کرتا ان سے وہ صلح کرتے اور جن سے میں جنگ کرتا ان سے وہ بھی جنگ کرتے، لیکن میں نے اسے (خلافت کو) اللہ کی رضا کی خاطر چھوڑ دیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 206)

قابل ملاحظہ بات یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یا ان کی اولاد میں سے کسی نے بھی یزید کے لیے بیعت کرتے وقت ایسی کسی چیز کا ذکر نہیں کیا ہے، اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ولی عہد مقرر کرنے کا معاملہ ہوتا جیساکہ بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اسے دلیل بناتے، لیکن مطلقاً ایسا کچھ نہیں سنا گیا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا حسنؓ عنہ کے خلیفہ بننے کا معاملہ بے بنیاد ہے، اگر شرائط صلح میں سیدنا حسنؓ کے ولی عہد مقرر کرنے کی بات شامل ہوتی تو حکومت چلانے میں سیدنا معاویہؓ کے بعد سب سے پیش پیش ہوتے، یا کسی بڑے علاقے کے گورنر ہوتے، نہ یہ کہ مدینہ جا کر حکومت کے تمام معاملات سے الگ تھلگ ہو جاتے، نیز اس زمانے کے حالات سے بھی پتہ چلتا ہے کہ شورائی طریقے سے خلیفہ اور حاکم کا انتخاب ہی اصل تھا۔