سیدنا معاویہ و حسن رضی اللہ عنہما کے مابین امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے کا معاملہ
علی محمد الصلابیتاریخی کتابوں میں ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ شرط لگائی تھی کہ ان کے سنتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا نہ کہا جائے، گویا نہ سننے کی صورت میں سیدنا علیؓ کو برا بھلا کہنے کو سیدنا حسنؓ نے چھوڑ دیا تھا، اسی لیے میرے استاد ڈاکٹر محمد بطاینہ کہتے ہیں:
’’اس معاملہ پر سیدنا حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین بحث ہی نہیں ہوئی ہوگی۔‘‘
(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 68)
شیعہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر تہمت لگائی ہے کہ وہ لوگوں کو مسجدوں کے منبروں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے اور ان پر لعنت بھیجنے کے لیے ابھارتے تھے، لیکن یہ تہمت بے بنیاد ہے، سب سے زیادہ تکلیف کی بات یہ ہے کہ باحثین نے اس افترا پردازی اور تہمت کو بلاچھان بین اور تجزیہ کے قبول کر لیا، یہاں تک کہ متاخرین کے یہاں یہ ایسی تسلیم شدہ بات بن گئی جس میں بحث و مناقشہ کی کوئی گنجائش نہیں رہ گئی، حالاں کہ یہ بات کسی بھی صحیح روایت سے ثابت نہیں ہے، اور دمیری، یعقوبی اور ابو الفرج اصفہانی کی کتابوں میں جو وارد ہے اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، نیز صحیح تاریخ سے ثابت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل بیت کا احترام کرتے تھے اور یہ بات ان لوگوں کی ذکر کردہ بات کے خلاف ہے۔
(الحسن و الحسین محمد رضا: صفحہ 18، کلام المحقق: دیکھیے۔ أحمد أبو الشباب)
اس لیے بنی امیہ کے منبروں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت بھیجنے کی بات واقعات اور جھگڑنے والوں کی فطرت سے میل نہیں کھاتی، عہد بنوامیہ کی تاریخی کتابوں کا مراجعہ کرنے پر ہمیں ان میں اس طرح کی کسی چیز کا تذکرہ ہرگز نہیں ملتا، بعد کے مؤرخین کی کتابوں میں ایسی باتیں ملتی ہیں جنھوں نے اپنی تاریخی کتابیں عہد بنی عباس میں لکھیں، ان کا مقصد تھا کہ مسلمانوں کی نگاہ میں بنوامیہ کی ساکھ خراب کر دیں، لعنت کی اس بات کو مسعودی نے ’’مروج الذہب‘‘ میں اور دوسرے شیعہ مؤرخین نے لکھا ہے، یہ جھوٹ اہل سنت کی تاریخی کتابوں میں در آیا، حالاں کہ اس سلسلے میں کوئی صریح اور صحیح روایت نہیں ملتی، جب کہ اس طرح کے دعویٰ کو صحیح روایت، جرح سے عاری سند اور اعتراض سے خالی متن کی ضرورت ہوتی ہے، باحثین و محققین کو پتہ ہے کہ اس طرح کے دعویٰ میں کتنا دم ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس طرح کی تہمتوں سے مبرّا ہیں اس لیے کہ دین کے معاملے میں آپ کی فضیلت ثابت ہے
اور لوگوں میں سیدنا معاویہؓ کا کردار قابل تعریف تھا، بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بہت سے بلند پایہ تابعین نے سیدنا معاویہؓ کی تعریف کی ہے، سیدنا معاویہؓ کی دینداری، علم، عدل و انصاف، حلم و بردباری، اور بہت ساری اچھی عادتوں کی گواہی دی ہے۔
(الانتصار للصحب و الآل: للرحیلی: صفحہ 367)
1۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب انھیں(معاویہ رضی اللہ عنہ کو) شام کا گورنر بنایا تو کہا: ’’معاویہ رضی اللہ عنہ کو اچھائی سے یاد کرو۔‘‘
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 25)
2۔ جنگ صفین سے واپسی کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’لوگو! معاویہ کی امارت کو تم ناپسند نہ کرو، ان کے نہ رہنے پر لوگوں کے سرحنظل کے مانند تنوں سے جدا ہوں گے۔‘‘
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 134)
3۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑا بزرگ نہیں دیکھا۔ پوچھا گیا: آپ کے والد بھی نہیں؟ کہا: میرے والد عمر رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ سے بہتر تھے، اور معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے بزرگ تر تھے۔‘‘
(سیر أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 152، السنۃ للخلال: جلد 1 صفحہ 443)
4۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے: ’’معاویہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بادشاہت کے لائق میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا۔‘‘
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 137)
صحیح بخاری میں ہے کہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کی کوئی رائے ہے؟ وہ تو صرف ایک ہی رکعت وتر پڑھتے ہیں، جواب دیا: بلاشبہ وہ فقیہ ہیں۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3765)
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر ہوا تو انھوں نے کہا: ابن ہند (معاویہ) کی خوبی اللہ ہی کے لیے ہے، ان کا خاندان کتنا اچھا ہے، ان کی صلاحیت کتنی اچھی ہے، اللہ کی قسم انھوں نے ہماری اور اپنی خاندانی وجاہت کی حفاظت کرتے ہوئے نہ تو منبر سے اور نہ ہی زمین پر کبھی ہمیں برا بھلا کہا۔
(تاریخ دمشق: جلد 62 صفحہ 128، 129)
5۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا قول ہے: ’’ابن ہند یعنی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خوبی اللہ ہی کے لیے ہے، ہم ان سے ڈرتے تھے، شیر اپنے خونخوار پنجوں کے باوجود ان سے زیادہ جری نہیں تھا، اگر ہم انھیں دھوکہ بھی دیتے تو وہ ہمیں چھوڑ دیتے تھے، حالاں کہ کوئی بھی ان سے زیادہ زیرک نہیں تھا (یعنی بے وقوف نہیں تھے) کہ وہ ہم سے دھوکہ کھا جاتے، اللہ کی قسم میری خواہش تھی کہ ہم ان سے فائدہ اٹھاتے جب تک جبلِ ابوقبیس میں کوئی پتھر رہتا، یعنی ہمیشہ ہمیشہ ان سے فائدہ اٹھاتے۔
6۔ زہری کا قول ہے: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سالہا سال تک سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی سیرت پر بلا کسی کمی و کوتاہی کے عمل کیا۔
اس سلسلے میں صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے بہت سے آثار و اقوال ہیں، ہم نے صرف ایک جزء کو ذکر کیا ہے۔ اسی طرح سیرت و تاریخ کے بہت سے محققین اور اسماء الرجال کے بہت سے ناقدین نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی تعریف کی ہے:
1۔ ابن تیمیہ رحمۃاللہ کا قول ہے: علماء کا اتفاق ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس امت کے سب سے بہتر بادشاہ ہیں، ان سے پہلے چاروں حضرات علیٰ منہاج النبوۃ خلیفہ تھے، اور آپ پہلے ملک (بادشاہ) تھے، ان کی بادشاہت، بادشاہت اور رحمت تھی۔
(مجموع الفتاویٰ: جلد 4 صفحہ 478)
نیز ان کا قول ہے: مسلمانوں کے بادشاہوں میں کوئی بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بہتر نہیں تھا اور کسی بھی بادشاہ کے زمانے کے لوگ سیدنا معاویہؓ کے زمانے کے لوگوں سے بہتر نہیں تھے۔
(منہاج السنۃ: جلد 6 صفحہ 232)
2۔ ابن کثیر رحمۃاللہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سوانح میں لکھتے ہیں: 41ھ میں تمام لوگوں نے سیدنا معاویہؓ کی بیعت پر اجماع کر لیا، اسی سال سے لے کر اپنی وفات کے سال تک خلیفہ رہے، دشمنوں کے علاقوں میں جہاد جاری رہا، اللہ کا کلمہ سر بلند رہا، اطراف و اکناف سے اموالِ غنیمت آتے رہے، سیدنا معاویہؓ کے زمانے میں مسلمانوں کو پورا آرام، عدل و انصاف اور عفو و درگزر حاصل تھا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 122)
3۔ ابن ابوالعز حنفی کا قول ہے: مسلمانوں کے سب سے پہلے بادشاہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں اور وہ مسلمانوں کے بادشاہوں میں سب سے بہتر ہیں۔
(شرح العقیدۃ الطحاویۃ: صفحہ 722)
4۔ ذہبی رحمۃاللہ نے سیدنا معاویہؓ کی سوانح میں لکھا ہے: أمیر المؤمنین ملک الإسلام
(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 120)
(یعنی مسلمانوں کے بادشاہ) تھے نیز انھی کا قول ہے: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان اچھے بادشاہوں میں سے تھے جن کا عدل و انصاف ان کے ظلم پر غالب تھا۔
(سیر أعلام النبلاء: صفحہ 371)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں مذکورہ باتیں ثابت ہیں، اور جس کی یہ سیرت ہو نہایت محال ہے کہ وہ لوگوں کو منبروں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ جیسے صاحب فضیلت پر لعنت بھیجنے کے لیے ابھارے، اس کا مطلب یہ ہو گا کہ سلف صالحین اور ان کے بعد کے اہل علم جنھوں نے ان کی جم کر تعریف کی ہے ظلم و زیادتی میں ان کا تعاون کیا ہے اور سب غلطی پر ہیں۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 138)
اور یہ صحابہ کرامؓ، تابعین عظامؒ اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والے علمائے ربانیین پر بہت بڑی تہمت ہو گی۔ جو حکومت سے متعلق سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیرت اور رعایا کے حق میں آپ کے مشہور حلم و بردباری، عفو و درگزر اور حسنِ سیاست سے واقف ہو گا اسے بآسانی معلوم ہو جائے گا کہ یہ بہت بڑا جھوٹ ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حلم و بردباری میں ضرب المثل اور آنے والی نسلوں کے قدوہ و نمونہ تھے، ذیل میں بعض مثالیں پیش ہیں:
1۔ عبدالملک بن مروانؓ کے پاس معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر ہوا تو انھوں نے کہا: حلم و بردباری، قوتِ برداشت اور عالی ظرفی میں میں نے ان کے جیسا کسی کو نہیں دیکھا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 138)
2۔ قبیصہ بن جابر کا قول ہے: میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ بردبار، ان سے بڑا سردار، ان سے زیادہ باوقار، نرم اور بھلائی میں آگے رہنے والا نہیں دیکھا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 138)
3۔ ابن کثیرؒ نے نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بہت برا بھلا اور سخت و سست کہا۔ ان سے کہا گیا: کاش آپ اس پر چڑھ بیٹھتے تو انھوں نے کہا: میں اس بات پر اللہ سے شرماتا ہوں کہ رعایا میں سے کسی کی غلطی پر میری بردباری جواب دے جائے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 138)
4۔ ایک شخص نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے تم سے زیادہ خسیس اور کمینہ نہیں دیکھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں اس طرح کے سلوک کے ساتھ لوگوں سے کون پیش آئے گا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 138)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ امیر المؤمنین ہیں، احمق قسم کے لوگ انھیں گالی گلوچ دیتے ہیں، پھر بھی آپؓ ان کے ساتھ حلم وبردباری سے پیش آتے ہیں تو کیا اس کے بعد بھی یہ بات عقل میں سماتی ہے کہ وہ خلیفۂ راشد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ پر منبروں سے لعنت بھیجنے کا حکم دیں گے، اور تمام علاقوں کے گورنروں کو اس کا حکم دیں گے، اور یہ لعنت و ملامت جاری رہے گی تاآنکہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃاللہ آ کر اسے ختم کریں؟ ہر صاحب عقل و فہم اس بارے میں فیصلہ کر سکتا ہے۔
(الانتصار للصحب والآل: صفحہ 372)
اس افتراء پردازی اور تہمت کی دلیل میں شیعہ صحیح مسلم کی جو روایت پیش کرتے ہیں اس میں ان کے زعم باطل کی کوئی دلیل نہیں:
فَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: أَمَرَ مُعَاوِیَۃُ بْنُ أَبِیْ سُفْیَانَ
سَعْدًا فَقَالَ: مَا مَنَعَکَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا تُرَابٍ؟ فَقَالَ: أَمَا مَا ذَکَرْتُ ثَلَاثًا قَالَہُنَّ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم فَلَنْ أَسُبَّہُ لَأَنْ تَکُوْنَ لِیْ وَاحِدَۃً مِنْہُنَّ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ حُمُرِ النَّعَمِ۔
(صحیح مسلم: کتاب فضائل الصحابۃ: جلد 4 صفحہ 1871)
’’عامر بن سعد بن ابی وقاص رحمۃاللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سعد رضی اللہ عنہ کو گورنر بنایا توان سے پوچھا: کیا چیز ابو تراب علی(رضی اللہ عنہ) کو برا بھلا کہنے سے تمھیں روکتی ہے؟ جواب دیا: جن تین باتوں کا میں نے ذکر کیا ہے جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں کہا ہے تو میں(ان کے باعث) انھیں ہرگز برا بھلا نہیں کہوں گا، ان میں سے ایک بات بھی میرے لیے ہوتی تو وہ میرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہوتی۔‘‘
امام نووی رحمۃاللہ کہتے ہیں:
’’سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس قول میں اس بات کی صراحت نہیں کہ انھوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو انھیں برا بھلا کہنے کا حکم دیا تھا، بات صرف اتنی تھی کہ انھوں نے ان سے صرف اس سبب کے بارے میں سوال کیا جو انھیں برا بھلا کہنے سے روکنے والا تھا، گویا وہ کہہ رہے تھے کیا احتیاط کے سبب برا بھلا نہیں کہتے ہو یا خوف کے سبب یا کسی دوسری چیز کے سبب، اگر ایسا احتیاط اور اکرام و احترام کے سبب ہے تو تمھارا ایسا کرنا درست ہے، اور اگر کسی دوسرے سبب سے ہے تو اس کا دوسرا جواب ہو گا، شاید سعد رضی اللہ عنہ کچھ ایسے لوگوں کے ساتھ تھے جو برا بھلا کہتے تھے، لیکن وہ برا بھلا کہنے میں ان کا ساتھ نہیں دیتے تھے، انھیں روکنے سے عاجز تھے، یا روکتے تھے، اس پر انھوں نے ان سے یہ سوال کیا تھا۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک دوسری تاویل کا احتمال ہے کہ اس کے معنیٰ یہ ہوں: کون سی چیز مانع ہے کہ تم ان کی رائے اور اجتہاد کو غلط قرار دو اور ہماری اچھی رائے اور اجتہاد کا اور ان کی غلطی کا لوگوں میں اعلان کرو۔‘‘
(شرح صحیح مسلم: جلد 15 صفحہ 175)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے ضرار صدائی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اوصاف بیان کیے اور ان کی تعریف کی، اس پر معاویہ رضی اللہ عنہ رو پڑے اور ضرار کی باتوں کی تصدیق کی۔ اس پر صاحب ’’المفہم‘‘ ابوالعباس قرطبی تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت، قدر و منزلت، ان کے عظیم حق اور بلند مقام و مرتبہ کا اعتراف تھا، ایسی صورت میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بعید تھا جب کہ ان میں عقل، دین، حلم اور اچھے اخلاق کے اوصاف تھے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت بھیجنے اور انھیں برا بھلا کہنے کے لیے صریح حکم دیتے، اس سلسلے میں ان سے جو کچھ مروی ہے اس کی اکثریت سراسر جھوٹ ہے، اس سلسلے میں صحیح ترین بات سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے ان کا سوال کرنا ہے کہ ابوتراب علی(رضی اللہ عنہ) کو برا بھلا کہنے سے تمھیں کون سی چیز روک رہی ہے؟ یہ برا بھلا کہنے کا صریح حکم نہیں ہے، یہ تو صرف ان کے برا بھلا نہ کہنے کے سبب کے بارے میں سوال تھا، تاکہ اس سلسلے میں ان کی مثبت یا منفی رائے کو جان لیں، جیسا کہ ان کے جواب سے ظاہر ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے جب یہ جواب سنا تو مطمئن ہوگئے اور اسے قبول کر لیا، اور مستحق کے حق کا اعتراف کر لیا۔‘‘
(المفہم للقرطبی: جلد 6 صفحہ 278)
بہترین کتاب ’’الانتصار للصحب و الآل من افتراءات السماوی الضال‘‘ کے مؤلف ڈاکٹر ابراہیم رحیلی کہتے ہیں:
’’اس سلسلے میں، واللہ اعلم، جو میں سمجھتا ہوں وہ یہ کہ سیدنا معاویہؓ نے سعد رضی اللہ عنہ کی چٹکی لیتے ہوئے ان سے سوال کیا تھا، اس سے آپ کا مقصد تھا کہ وہ سیدنا علیؓ کے بعض فضائل کا اظہار کریں، بلاشبہ سیدنا معاویہؓ بہت ذہین اور ہوشیار تھے، لوگوں سے سوال و جواب کرنا اور اس کے ذریعہ سے ان کی رائے معلوم کر لینا پسند کرتے تھے، چنانچہ آپ نے چاہا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سعد رضی اللہ عنہ کی رائے معلوم کر لیں، چنانچہ ان سے اس برانگیختہ کرنے والے اسلوب میں سوال کیا، ان کا یہ قول اس قول جیسا ہے جیسے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا تھا: کیا آپ علی(رضی اللہ عنہ) کے طور طریقے پر ہیں؟ تو ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے انھیں جواب دیا: عثمان(رضی اللہ عنہ) کے طور طریقے پر بھی نہیں ہوں، میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طور طریقے پر ہوں۔‘‘
(الإبانۃ لابن بطۃ: جلد 1 صفحہ 355، شرح أصول اعتقاد: اللألکائی: جلد 1 صفحہ 94)
ظاہر سی بات ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے چٹکی لیتے ہوئے کہی تھی، اسی طرح سعد رضی اللہ عنہ سے جو با ت کہی تھی وہ بھی اسی قبیل سے تھی۔
شیعوں کا یہ دعویٰ کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے برا بھلا کہنے کا حکم دیا تھا، سیدنا معاویہؓ کی جانب سے اس طرح کے حکم کا صادر ہونا بعید از قیاس ہے۔
(الانتصار للصحب و الآل: صفحہ 374)
اور اس طرح کے حکم کے صدور سے درج ذیل باتیں مانع ہیں:
1: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بذات خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا نہیں کہتے تھے تو دوسرے کو اس کا حکم کیسے دیں گے، بلکہ وہ تو ان کی تعظیم کرتے تھے، ان کی فضیلت اور اسلام میں سبقت کا اعتراف کرتے تھے، جیسا کہ ان کے اقوال ان چیزوں پر دلالت کرتے ہیں۔
ا: ابن کثیرؒ کا قول ہے: کئی طرق سے یہ بات وارد ہے کہ ابو مسلم خولانیؒ اور ان کے ساتھ کچھ اور لوگ سیدنا معاویہؓ کے پاس گئے اور ان سے کہا: آپ علی رضی اللہ عنہ سے لڑتے ہی ہیں یا آپ ان کے جیسے ہیں؟ جواب دیا: اللہ کی قسم میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ مجھ سے بہتر اور افضل ہیں، اور خلافت کے مجھ سے زیادہ حقدار ہیں۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 133)
ب: نیز ابن کثیر رحمۃاللہ نے جریر بن عبدالحمید کی روایت نقل کی جسے وہ مغیرہ سے روایت کرتے ہیں کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو رونے لگے، اس پر ان کی بیوی نے کہا: آپ ان پر رو رہے ہیں جب کہ آپ نے سیدنا علیؓ سے جنگ کی ہے؟ کہا: تیرا ستیاناس ہو، تجھے معلوم نہیں کہ لوگوں نے کس فضل، فقہ اور علم کو کھو دیا ہے۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 8 صفحہ 133)
تو کیا کوئی صاحبِ عقل و دین اس بات کو قبول کرے گا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہیں، بلکہ لوگوں کو اس پر ابھاریں جب کہ وہ ان کے بارے میں اس طرح کا اعتقاد رکھتے ہوں۔
(الانتصار للصحب والآل: صفحہ 375)
2۔ کسی صحیح روایت سے ثابت نہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان کی زندگی میں اور ان سے برسرپیکار رہتے ہوئے برا بھلا کہا ہو، تو کیا یہ بات معقول ہے کہ لڑائی ختم ہو جانے اور ان کی وفات پاجانے کے بعد ان کو برا بھلا کہیں گے، یہ عقلاء کے نزدیک بہت ناممکن ہے اور اس سے زیادہ ناممکن یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ان کے سبّ و شتم پر ابھاریں۔
3: سیدنا معاویہؓ نہایت ہوشیار اور عقلمندی اور زیرکی میں مشہور تھے۔ اگر وہ لوگوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے پر ابھارنا ہی چاہتے تو کیا سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جیسے شخص سے اس کا مطالبہ کرتے جب کہ وہ نہایت بہادر، صاحب فضل اور پرہیزگار تھے، فتنے میں بالکل شامل ہی نہیں تھے، یہ تو معمولی عقل و خرد والا شخص بھی نہیں کرتا چہ جائے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کریں۔
4: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی دست برداری کے بعد تنہا سیدنا معاویہؓ کے پاس پوری خلافت رہی، آپ کا اتفاق ہو گیا، تمام علاقوں پر انھی کی بادشاہت ہوگئی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے میں ان کا کیا فائدہ تھا، بلکہ حکمت اور حسن سیاست کا تقاضا تھا کہ ایسا نہ کیا جائے، اس لیے کہ اس سے لوگ پرسکون ہوں گے، معاملات سلجھیں گے، اس طرح کی باتیں سیدنا معاویہؓ جیسے شخص پر مخفی نہیں رہ سکتیں، جن کے حسنِ سیاست و تدبر کی امت گواہی دیتی ہے۔
5: مستقل خلیفہ بن جانے کے بعد سیدنا معاویہ اور علی رضی اللہ عنہما کی اولاد کے مابین الفت اور ایک دوسرے سے قربت تھی، جس کا تذکرہ تاریخ و سیر کی کتابوں میں مشہور و معروف ہے۔
(الانتصار للصحب و الآل: صفحہ 376)
اس کی بعض مثالیں درج ذیل ہیں:
سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما سیدنا معاویہؓ کے پاس گئے تو انھوں نے ان دونوں کو دو لاکھ دیے اور کہا: مجھ سے پہلے کسی نے اتنا نہیں دیا ہے۔ جواب میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ نے ہم سے افضل کسی شخص کو نہیں دیا ہوگا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 139)
ایک مرتبہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انھوں نے کہا: اے نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم آپ کا استقبال کرتے ہیں اور انھیں تین لاکھ دینے کا حکم دیا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 140)
اس طرح کی باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے پر لوگوں کو ابھارنے کی جو تہمت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر لگائی جاتی ہے وہ قطعی جھوٹ ہے، اس لیے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے جب کہ ان کے مابین اور ان کی اولاد کے مابین اس طرح کی الفت و محبت اور اکرام و احترام موجود ہو، اس سے اس مسئلے کی حقیقت اور سچائی واضح ہو جاتی ہے۔
(الانتصار للصحب والآل: صفحہ 377)
اسی طرح اس وقت کے لوگ شرعی احکام کے پابند تھے، ان پر عمل کرنے کے حریص تھے، اس لیے وہ لعن طعن، فحش گوئی اور بدکلامی سے بہت دور رہتے تھے، چنانچہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے:
لَیْسَ الْمُوْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَ لَا بِاللَّعَّانِ وَ لَا بِالْفَاحِشِ وَ لَا الْبَذِیِٔ۔
(صحیح ابن حبان: حدیث نمبر 47، الصحیحۃ للالبانی: حدیث نمبر 320)
’’مومن نہ تو طعن و تشنیع کرنے والا ہوتا ہے، نہ ہی لعنت و ملامت کرنے والا، اور نہ فحش گو ہوتا ہے اور نہ بدکلام۔‘‘
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرک مردوں کو برا بھلا کہنے سے روکا ہے تو اللہ کے اولیائے صالحین کو کیسے برا بھلا کہا جاسکتا ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً روایت ہے:
لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّہُمْ قَدْ أَفْضُوْا إِلٰی مَا قَدَّمُوْا۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6516)
’’مردوں کو برا بھلا نہ کہو، وہ اپنے بھیجے ہوئے عمل تک پہنچ چکے۔‘‘
صلح ہو جانے کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ خلافت سے دست بردار ہو گئے، وہیں سے اختلاف و انتشار ختم ہو گیا، سب متحد ہو گئے، اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ متفق علیہ خلیفہ بن گئے، ایک روایت کے مطابق ایسا 40ھ میں ہوا،
(دراسۃ فی الخلفاء الأمویین: صفحہ 69، المعجم الکبیر للطبرانی: جلد 3 صفحہ 26)
لیکن ابن اسحاق،
( تہذیب التہذیب: جلد 2 صفحہ 299 ترجمۃ الحسن بن علی)
واقدی
(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 69)
اور خلیفہ بن خیاط
(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 203)
کی رائے میں ایسا 41ھ میں ہوا، البتہ ان کے مابین مہینہ میں اختلاف ہے کہ وہ ربیع الاول کا مہینہ تھا یا ربیع الآخر یا جمادی الاولیٰ یا جمادی الاخریٰ کا،
(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 69)
اس کے بعد سے بلا کسی فتنہ کے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ امت کی قیادت کرتے رہے۔
(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 70)