سیدنا معاویہ و حسن رضی اللہ عنہما کے مابین امیر المؤمنین…

سیدنا معاویہ و حسن رضی اللہ عنہما کے مابین امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے کا معاملہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

4: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی دست برداری کے بعد تنہا سیدنا معاویہؓ کے پاس پوری خلافت رہی، آپ کا اتفاق ہو گیا، تمام علاقوں پر انھی کی بادشاہت ہوگئی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے میں ان کا کیا فائدہ تھا، بلکہ حکمت اور حسن سیاست کا تقاضا تھا کہ ایسا نہ کیا جائے، اس لیے کہ اس سے لوگ پرسکون ہوں گے، معاملات سلجھیں گے، اس طرح کی باتیں سیدنا معاویہؓ جیسے شخص پر مخفی نہیں رہ سکتیں، جن کے حسنِ سیاست و تدبر کی امت گواہی دیتی ہے۔

5: مستقل خلیفہ بن جانے کے بعد سیدنا معاویہ اور علی رضی اللہ عنہما کی اولاد کے مابین الفت اور ایک دوسرے سے قربت تھی، جس کا تذکرہ تاریخ و سیر کی کتابوں میں مشہور و معروف ہے۔

(الانتصار للصحب و الآل: صفحہ 376)

اس کی بعض مثالیں درج ذیل ہیں:

سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما سیدنا معاویہؓ کے پاس گئے تو انھوں نے ان دونوں کو دو لاکھ دیے اور کہا: مجھ سے پہلے کسی نے اتنا نہیں دیا ہے۔ جواب میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ نے ہم سے افضل کسی شخص کو نہیں دیا ہوگا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 139)

ایک مرتبہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انھوں نے کہا: اے نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم آپ کا استقبال کرتے ہیں اور انھیں تین لاکھ دینے کا حکم دیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 140)

اس طرح کی باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے پر لوگوں کو ابھارنے کی جو تہمت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر لگائی جاتی ہے وہ قطعی جھوٹ ہے، اس لیے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے جب کہ ان کے مابین اور ان کی اولاد کے مابین اس طرح کی الفت و محبت اور اکرام و احترام موجود ہو، اس سے اس مسئلے کی حقیقت اور سچائی واضح ہو جاتی ہے۔

(الانتصار للصحب والآل: صفحہ 377)

اسی طرح اس وقت کے لوگ شرعی احکام کے پابند تھے، ان پر عمل کرنے کے حریص تھے، اس لیے وہ لعن طعن، فحش گوئی اور بدکلامی سے بہت دور رہتے تھے، چنانچہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے:

لَیْسَ الْمُوْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَ لَا بِاللَّعَّانِ وَ لَا بِالْفَاحِشِ وَ لَا الْبَذِیِٔ۔

(صحیح ابن حبان: حدیث نمبر 47، الصحیحۃ للالبانی: حدیث نمبر 320)

’’مومن نہ تو طعن و تشنیع کرنے والا ہوتا ہے، نہ ہی لعنت و ملامت کرنے والا، اور نہ فحش گو ہوتا ہے اور نہ بدکلام۔‘‘

نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرک مردوں کو برا بھلا کہنے سے روکا ہے تو اللہ کے اولیائے صالحین کو کیسے برا بھلا کہا جاسکتا ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً روایت ہے:

لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّہُمْ قَدْ أَفْضُوْا إِلٰی مَا قَدَّمُوْا۔ 

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 6516)

’’مردوں کو برا بھلا نہ کہو، وہ اپنے بھیجے ہوئے عمل تک پہنچ چکے۔‘‘

صلح ہو جانے کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ خلافت سے دست بردار ہو گئے، وہیں سے اختلاف و انتشار ختم ہو گیا، سب متحد ہو گئے، اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ متفق علیہ خلیفہ بن گئے، ایک روایت کے مطابق ایسا 40ھ میں ہوا، 

(دراسۃ فی الخلفاء الأمویین: صفحہ 69، المعجم الکبیر للطبرانی: جلد 3 صفحہ 26)

 لیکن ابن اسحاق،

( تہذیب التہذیب: جلد 2 صفحہ 299 ترجمۃ الحسن بن علی)

واقدی

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 69)

اور خلیفہ بن خیاط

(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 203)

 کی رائے میں ایسا 41ھ میں ہوا، البتہ ان کے مابین مہینہ میں اختلاف ہے کہ وہ ربیع الاول کا مہینہ تھا یا ربیع الآخر یا جمادی الاولیٰ یا جمادی الاخریٰ کا، 

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 69)

اس کے بعد سے بلا کسی فتنہ کے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ امت کی قیادت کرتے رہے۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 70)


صفحہ 4 از 4