Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قاتلین عثمان سے متعلق سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا رویہ

  علی محمد الصلابی

کوئی پوچھ سکتا ہے کہ خلیفہ بن جانے کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے قاتلینِ عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا کیا؟ تو ’’عیون الاخبار‘‘ میں اس کا جواب دیتے ہوئے ابن قتیبہ کہتے ہیں: 

’’عام الجماعۃ (اتحاد کا سال) کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ آئے اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوئے، اس پر عائشہ بنت عثمان بن عفان چیخ اٹھیں، رونے لگیں اور اپنے والد کو بلانے لگیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بیٹی! لوگوں نے میری اطاعت قبول کر لی، میں نے انھیں امان دی ہے، ہم نے ان کے لیے حلم و بردباری کا اظہار کیا ہے جس کی تہ میں غصہ ہے، اور انھوں نے ہمارے لیے اتباع کا اظہار کیا ہے جس کی تہ میں کینہ ہے، ہر انسان کے پاس اس کی تلوار ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس کے لوگ کہاں ہیں، اگر ہم لوگوں کے ساتھ بدعہدی کریں گے تو وہ بھی ہمارے ساتھ بدعہدی کریں گے، اور ہمیں نہیں معلوم کہ انجام ہمارے حق میں ہوگا یا ہمارے خلاف، عوام میں سے ایک عورت ہونے کے بالمقابل تمھارا امیر المؤمنین کی چچا زاد بہن ہونا بہترہے۔‘‘

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 70)

ابن قتیبہ کے کلام کا وہ حصہ قابلِ لحاظ ہے جس کا تعلق ان عہود و مواثیق سے ہے جو سیدنا معاویہ و حسن رضی اللہ عنہما کے مابین طے ہوئے اور جن کے باعث لوگوں کے مابین مصالحت ہو گئی، جنگ رک گئی، خونریزی بند ہوگئی، لوگوں کو برانگیختہ کرنے کا سلسلہ تھم گیا، ساتھ ہی ساتھ جمل، صفین، نہروان اور مصر وغیرہ کی جنگوں پر مشتمل پانچ سالوں میں وہ لوگ ختم ہو چکے تھے جن کے نام قتلِ عثمانؓ کی تہمت میں بار بار آتے تھے، اس کے باوجود قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ کا معاملہ خلفائے بنوامیہ اور ان کے وزیروں کے ذہنوں میں موجود تھا، رہا بنو امیہ کی جانب سے خون سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بدلہ کا مطالبہ تو یہ بلاشبہ ایک واضح حقیقت ہے۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الأمویین: صفحہ 70)

اسی طرح وہ تمام صحابہ کرامؓ جنھوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے بیعت کی تھی محال تھا کہ اموی حکومت کے منبروں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا جائے اور وہ سب خاموش رہیں، امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ نہ انجام دیں، ان کے نام درج ذیل روایت میں مذکور ہیں، اوزاعی سے مروی ہے وہ کہتے ہیں: بہت سارے صحابہ کرامؓ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کی تائید کی تھی، انھی میں سے سعد، اسامہ، جابر، ابن عمر، زید بن ثابت، مسلمہ بن مخلد، ابوسعید خدری، رافع بن خدیج، ابو امامہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم ہیں، جن کے نام ذکر کیے گئے ہیں ان سے کئی گنا زیادہ صحابہ کرامؓ نے تائید کی تھی، وہ سب کے سب چراغِ ہدایت اور سراپا علم تھے، نزولِ قرآن کے وقت وہ موجود تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی تفسیر سیکھی تھی، اور تابعین نے بھی تائید کی جن میں سے عبدالرحمٰن بن اسود بن عبدیغوث، سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر اور عبداللہ بن محیریز رحمہم اللہ تھے، امت محمدیہ کے کسی بھی اتحاد سے ان لوگوں نے اپنا ہاتھ نہیں کھینچا۔

( البدایۃ و النہاۃ: جلد 8 صفحہ 33، نقلا عن أثر العلماء فی الحیاۃ السیاسیۃ فی الدولۃ الأمویۃ: عبداللہ الخرعان: صفحہ 83)