Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

صلح کے نتائج اولا ایک قائد کی ماتحتی میں امت کا اتحاد

  علی محمد الصلابی

امت کی تاریخ میں عام الجماعۃ (اتحاد کا سال) درج ہو گیا، یہ واقعہ امت کے قابلِ فخر کارناموں میں سے ہے جس پر امت ہمیشہ فخر کرتی رہے گی، پوری امت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں اکٹھی ہو گئی، انھیں خلیفہ تسلیم کر لیا، اختلاف و انتشار کے بعد اس جامع اتحاد پر اچھے مسلمان خوش ہوئے، اس میں اللہ کے بعد سب سے اہم کردار اس مصالحانہ منصوبہ کے منصوبہ ساز حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا تھا، عام الجماعۃ(اتحاد کا سال) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دلیل اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی فضیلتوں میں سے بہت بڑی فضیلت تھی، جن مؤرخین نے 41ھ کو ’’عام الجماعۃ‘‘ قرار دیا ہے، عقاد نے ان پر جو شدید نکتہ چینی ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، نکتہ چینی میں انھوں نے کہا ہے: ایسے مؤرخین سے زیادہ گمراہ اور جاہل کوئی نہیں ہو گا جنھوں نے 41ھ کو ’’عام الجماعۃ‘‘ قرار دیا ہے، اس لیے کہ یہی وہ سال ہے جس میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خلافت پر بلاشرکتِ غیرے قابض ہوگئے، اس لیے بھی کہ ابتدائے اسلام میں امت جتنا اس سال گروہوں میں بٹی اور اس کے ہر گروہ میں اختلاف پیدا ہوا اتنا کسی اور سال میں نہیں۔

(معاویۃ بن أبی سفیان: للعقاد: صفحہ 125)

عقاد نے اپنی اس نکتہ چینی میں کوئی نئی چیز نہیں پیش کی ہے، بلکہ اس کی جانب بہت سارے اثنا عشریہ شیعہ مؤرخین نے سبقت کی ہے۔

سیدنا معاویہؓ کے فخر کے لیے یہ بات کافی تھی کہ ان کے عہد میں زندہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان سے بیعت کی تھی، چنانچہ ان سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت نے بیعت کی۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 167)

اس سلسلے میں ابن حزمؒ کہتے ہیں: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے بیعت کی گئی، پھر خلافت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دی گئی، حالاں کہ موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ایسے بھی صحابی تھے جو بالاتفاق ان دونوں سے افضل تھے، اور فتح مکہ سے پہلے خرچ کرنے اور جہاد کرنے والے تھے، تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کی اور انھیں خلیفہ تسلیم کیا۔

(الفصل: جلد 5 صفحہ 6)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بیعت سے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے رویہ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے تفقہ سے پتہ چلتا ہے کہ اختلاف سے روکنے والی آیات وہ اچھی طرح سمجھتے تھے۔ ارشاد ربانی ہے:

وَاَنَّ هٰذَا صِرَاطِىۡ مُسۡتَقِيۡمًا فَاتَّبِعُوۡهُ‌ وَلَا تَتَّبِعُوۡا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ‌ ذٰلِكُمۡ وَصّٰٮكُمۡ بِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ۞(سورۃ الأنعام آیت 153)

ترجمہ: اور (اے پیغمبر! ان سے) یہ بھی کہو کہ: یہ میرا سیدھا سیدھا راستہ ہے، لہٰذا اس کے پیچھے چلو، اور دوسرے راستوں کے پیچھے نہ پڑو، ورنہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے الگ کر دیں گے۔ لوگو! یہ باتیں ہیں جن کی اللہ نے تاکید کی ہے تاکہ تم متقی بنو۔

صراط مستقیم سے مراد قرآن، اسلام اور وہ فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، سبل سے مراد خواہشات نفس، فرقے اور بدعتیں ہیں۔ امام مجاہدؒ کہتے ہیں: آیت کے اس ٹکڑے {وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ} میں سبل سے مراد بدعات، شبہات اور گمراہیاں ہیں۔

(تفسیر مجاہد: صفحہ ،227)

اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اس اختلاف و انتشار سے روکا ہے، جس کی شکار سابقہ قومیں اس کے بعد ہوئیں کہ ان کے پاس واضح دلیلیں آ چکی تھیں اور اللہ نے ان کے لیے کتاب نازل کر دی تھی، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَاخۡتَلَفُوۡا مِنۡ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡبَيِّنٰتُ‌وَاُولٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ۞( سورۃ آل عمران آیت 105)

ترجمہ: اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جن کے پاس کھلے کھلے دلائل آچکے تھے، اس کے بعد بھی انہوں نے آپس میں پھوٹ ڈال لی اور اختلاف میں پڑگئے، ایسے لوگوں کو سخت سزا ہو گی۔

نیز اللہ تعالیٰ نے اس امت کو اس بات سے روکا ہے کہ وہ ان مشرکین میں سے ہو جائے جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروہ در گروہ ہوگئے، چنانچہ فرمایا:

فَاَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّيۡنِ حَنِيۡفًا فِطۡرَتَ اللّٰهِ الَّتِىۡ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيۡهَا لَا تَبۡدِيۡلَ لِخَـلۡقِ اللّٰهِ‌ ذٰلِكَ الدِّيۡنُ الۡقَيِّمُ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۞ مُنِيۡبِيۡنَ اِلَيۡهِ وَاتَّقُوۡهُ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَلَا تَكُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ۞ مِنَ الَّذِيۡنَ فَرَّقُوۡا دِيۡنَهُمۡ وَكَانُوۡا شِيَعًا كُلُّ حِزۡبٍ بِمَا لَدَيۡهِمۡ فَرِحُوۡنَ ۞ (سورۃ الروم آیت 30 تا 32)

ترجمہ: لہٰذا تم یک سو ہو کر اپنا رخ اس دین کی طرف قائم رکھو۔ اللہ کی بنائی ہوئی اس فطرت پر چلو جس پر اس نے تمام لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ یہی بالکل سیدھا راستہ ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ فطرت کی پیروی) اس طرح (کرو) کہ تم نے اسی (اللہ) سے لو لگا رکھی ہو اور اس سے ڈرتے رہو، اور نماز قائم کرو اور ان لوگوں کے ساتھ شامل نہ ہو جو شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ وہ جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا، اور مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ ہر گروہ اپنے اپنے طریقے پر مگن ہے۔

اللہ تعالیٰ نے یہ خبر بھی دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں سے بری ہیں جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود بھی گروہ در گروہ ہو گئے۔

(دراسات فی الأہواء و الفرق و البدع: ناصر العقل: صفحہ 49)

چنانچہ فرمایا:

 اِنَّ الَّذِيۡنَ فَرَّقُوۡا دِيۡنَهُمۡ وَكَانُوۡا شِيَـعًا لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ‌ اِنَّمَاۤ اَمۡرُهُمۡ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ يُنَـبِّـئُـهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡعَلُوۡنَ ۞ (سورۃ الأنعام آیت 159)

ترجمہ: (اے پیغمبر) یقین جانو کہ جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے، اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں، ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا معاملہ تو اللہ کے حوالے ہے۔ پھر وہ انہیں جتلائے گا کہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے:

وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا‌۞(سورۃ آل عمران آیت 103)

ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو سب ملکر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو،

اللہ کے فضل پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کرنے میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی کامیابی سے شریعت کا ایک بہت بڑا مقصد مسلمانوں کا اتحاد و اتفاق حاصل ہو گیا، اور یہ مقصد اللہ کے دین کے غلبہ کے اہم اسباب میں سے ہے۔

چوں کہ ہمیں باہمی طور پر حق بات اور صبر کی تلقین کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس لیے آپس کے اختلافات کو بناوٹی نہیں بلکہ مکمل اور حقیقی طور پر ختم کرنے کے لیے طلبہ کرام، علمائے عظام، اسلامی تحریکات کے قائدین اور دعاۃ کی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں، مسلمانوں کے مابین الفت قائم کرنے اور انھیں متحد کرنے سے متعلق جہاد پر شیخ عبدالرحمٰن سعدی رحمۃاللہ نے گفتگو کی ہے، مسلمانوں کے باہمی ربط اور اتحاد پر دلالت کرنے والی آیات و احادیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں: جہاد کی عظیم ترین قسموں میں سے مسلمانوں کے مابین الفت پیدا کرنے، دین اور دینی و دنیاوی مصلحتوں پر انھیں اکٹھا کرنے کی کوشش ہے۔

(وجوب التعاون بین المسلمین: صفحہ 5)

بلاشبہ مسلمانوں کے دلوں میں الفت پیدا کرنے اور ان کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کے لیے وسائل کو اپنانا جہاد کی عظیم ترین قسموں میں سے ہے، اس لیے کہ مسلمانوں کو معزز بنانے، ان کی حکومت کے قیام اور رب کی شریعت کے نفاذ کے لیے ایسا قدم اٹھانا بہت ضروری ہے، یہی خلفائے راشدینؓ کا تفقہ تھا، اور اس کی نمایاں شکل امت کے اتحاد، خونریزی سے بچاؤ اور منجانب اللہ اجر و ثواب کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا خلافت سے دست بردار ہو جانا ہے۔