Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

گستاخ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سزا


طبقات الحنابلہ میں امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ نے فرمایا نبی کریمﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے محاسن ذکر کیا جائے اور ان کی لغزشوں کو ذکر کرنے اور ان کے مابین ہونے والے مشاجرات کو بیان کرنے سے اجتناب کیا جائے۔ جو شخص تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا ان میں سے کسی ایک صحابی کی شان میں گستاخی کرتا ہے یا ان کی تنقیص کرتا ہے یا ان پر طعن و ملامت کرتا ہے یا ان پر عیب لگانے کی کوشش کرتا ہے یا ان میں سے کسی ایک صحابی پر عیب لگاتا ہے تو وہ خبیث، بدعتی رافضی ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں نہ اس کا کوئی فرض قبول ہے اور نہ کوئی نفل، بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت سنت ہے، ان کی اقتداء کامیابی کا وسیلہ ہے اور ان کے آثار کی اتباع میں بہت بڑا درجہ ہے۔

کسی کیلئے جائز نہیں کہ وہ ان کی لغزشوں کو ذکر کرے، اور نہ کسی کے لئے یہ جائز ہے کہ ان پر عیب لگائے یا ان کی تنقیص کرے۔ جو شخص ایسا کرے تو حاکم پر واجب ہے کہ اس کو سزا دے اور اسے معاف نہ کرے، اسے سخت سزا دے اور اس سے توبہ کرائے، اگر وہ توبہ کرے تو ٹھیک ہے ورنہ اسے پھر سزا دے اور ہمیشہ قید خانے میں رکھے، یہاں تک کہ وہ رجوع کرے یا وہیں مر جائے ۔ (توہین صحابہ كا شرعى حكم: صفحہ 94)