ثانیا فتوحات کا پہلا دور لوٹ آیا
علی محمد الصلابیلوگوں کو اللہ کے دین میں داخل ہونے کی دعوت دینا اسلام کے عظیم ترین مقاصد میں سے ہے، اور اس کے حصول کے لیے عہد خلفائے راشدینؓ میں جن وسائل کا استعمال کیا گیا انھی میں سے اسلامی فتوحات کا مبارک سلسلہ تھا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ کی تحریک ارتداد کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا فتنہ اسلامی دعوت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مانا جاتا ہے، اس لیے کہ شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ کے باعث اسلامی جہاد کا سلسلہ رک گیا اور مسلمانوں کی تلواروں کا رخ باہم ایک دوسرے کی جانب ہو گیا، اور ایسا فتنہ پیدا ہوا جو قریب تھا کہ امت اسلامیہ کا صفایا کر دیتا اگر اللہ کی رحمت سے سیدنا حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین صلح ہو کر اس کا خاتمہ نہ ہو جاتا۔
مصادر و مراجع ایسے نصوص سے بھرے پڑے ہیں جو تحریک جہادِ اسلامی کے رک جانے میں اس فتنے کی تاثیر کو واضح کرتے ہیں،
(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 309)
ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:
1۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں: میں نے سوچا کہ مدینہ جا کر وہیں قیام کر لوں، اور اس چیز کو معاویہ کے لیے چھوڑ دوں، فتنہ بہت طویل ہو چکا، اس میں بہت خونریزی ہو چکی، رشتہ داریاں منقطع ہو گئیں، راستے مسدود ہوگئے، سرحدیں بے حفاظت چھوڑ دی گئی ہیں۔
(الطبقات: تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 331)
2۔ وہ روایت جسے ابوزرعہ دمشقی نے اپنی سند سے نقل کیا ہے کہتے ہیں: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا اور ان میں اختلاف پیدا ہو گیا تو ان کا جہادی حملہ نہ تو گرمی میں ہوتا تھا نہ ہی اس کے علاوہ موسم میں، تاآنکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں امت متحد ہوگئی۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 310)
3۔ ابوبکر مالکی کا قول ہے: فتنہ پیدا ہوا، عثمان رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے، ان کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلیفہ ہونے تک افریقہ کے علاقے اپنی حالت پر باقی رہے۔
(ریاض النفوس: جلد 1 صفحہ 27)
اس طرح صلح کے نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ نکلا کہ فتوحات کا پہلا دور لوٹ آیا، اور عہدِ معاویہ رضی اللہ عنہ میں جہاد کے تین بنیادی محاذ کھل گئے جو درج ذیل ہیں: