Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سید جنتی ہے

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

شیعہ کا یہ بھی اعتقاد بیان کیا جاتا ہے کہ اولادِ سادات کے لیے جنت واجب ہو چکی ہے، خواہ سید عبادت کرے یا نہ کرے، اور اگر وہ کبیرہ گناہوں کا بھی مرتکب ہو تو بھی جنت اس کے ہاتھ سے نہیں جائے گی۔ گویا انہیں اللہ رب العزت سے جنت کا ٹھیکہ مل چکا ہے۔ اگرچہ (معاذ اللہ) زنا کرے، چوری کرے یا قتل و ڈاکہ جیسے جرائم کا مرتکب ہو، تب بھی دوزخ کی آگ اس پر حرام ہے۔

(حکم نکاح سیدہ با غیر سید: یہ بھی شیعوں کا عقیدہ ہے کہ سیدزادی کا نکاح غیر سید سے ہرگز جائز نہیں۔ جیسا کہ عیون شرح ہدایہ میں اس قول کو شیعہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔

لیکن مقررین اہلِ سنت کے نزدیک سیدہ کا نکاح غیر سید سے درست ہے چنانچہ اس مسئلہ کے متعلق حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ، سابق مفتی دارالعلوم دیوبند، ایک استفتسار کے جواب میں فرماتے ہیں:

ان لوگوں کا یہ خیال غلط اور بے دلیل ہے کے بنی ہاشم کی عورتوں کا نکاح بالغہ لڑکی اور اس کے اولیاء کی اجازت سے ہر قوم کے مسلمان میں ہو سکتا ہے، لیکن بغیر رضائے اولیاء قریش کے علاوہ کسی دوسری قوم میں کرنا درست نہیں، اور اگر کر لیا جائے تو وہ نکاح قولِ مفتیٰ بہ کے موافق درست نہ ہوگا، علیٰ ما اختار صاحب الدر المختار الشامی وغیرہ۔

البتہ قریش کے تمام خاندان، خواہ وہ بنی ہاشم میں سے ہوں یا نہ ہوں، بنی ہاشم کے کفو میں ہیں ان میں نکاح بلا اجازتِ اولیاء بھی جائز ہے۔ اور یہ حکم صرف بنی ہاشم کی عورتوں کا نہیں بلکہ جملہ اقوام کا یہی حکم ہے کہ غیر کفو میں نکاح کر لینے پر اولیاء کو فسخ کرانے کا حق ہوتا ہے۔

قال فی الهداية وغيرها وإذا زوَّجت المرأة نفسها من غير كفو فلا وليا أن يفرِّقوا بينهما دفعًا لضرر العاز عن أنفسهم انتھی والفتوی علی روایت الحسن عن انہ ینعقد کما صرح باقی الدر المختار۔ 

جو لوگ بنی ہاشم کی عورتوں کے نکاح کو غیر بنی ہاشم سے حرام کہتے ہیں وہ سخت گناہ گار ہیں۔

وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَالٌ وَهَذَا حَرَامٌ

البتہ "من حرّم حلالاً" کا فتویٰ کتبِ عقائد سے نقل کیا گیا ہے، وہ مقید بقیود ہے یہاں اس کا حکم جاری نہیں کیا جاتا اور ان لوگوں کو اسلام سے خارج کہنا جائز نہیں۔

(امداد المفتیین، باب الکفاءۃ، صفحہ، 12 فتاویٰ دارالعلوم دیوبند) مظہر حسین ابن مصف۔

فروع کافی، جلد 3، کتاب الروضہ، صفحہ 89:

عن أبی جعفر عليه السلام قال: قام رسولُ اللهﷺ على الصفا فقال: يا بنی هاشم، يا بنی عبد المطلب، إنی رسولُ الله إليكم، وإنی شفيقٌ عليكم، وإنَّ لی عملی ولكلِّ رجلٍ منكم عملُه، لا تقولوا إنَّ محمدًا منا فندخل مدخله، فلا والله ما أوليائی منكم ولا من غيركم إلا المتقون۔

ترجمہ: سیدنا محمد باقرؒ سے روایت ہے کہ رسولِ خداﷺ کوہِ صفا پر کھڑے ہو کر فرمانے لگے: اے بنو ہاشم اور اے بنو عبدالمطلب! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور تم پر شفقت کرنے والا ہوں لیکن میرا عمل میرے لیے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لیے یہ نہ کہنا کہ محمدﷺ ہم میں سے ہیں، اس لیے ہم ان کے ساتھ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ بخدا! میرے دوست تم میں سے ہوں یا دوسروں میں سے، وہی ہیں جو متقی اور پرہیزگار ہیں۔

یہ حضورﷺ کا اپنے تمام قبیلہ بنو ہاشم و بنو عبدالمطلب سے اعلان ہے کہ میری قرابت تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے گی اس غلط فہمی میں نہ رہنا کہ میرے طفیل تم بخشے جاؤ گے، بلکہ اپنے اپنے اعمال ہی کام آئیں گے میرے دوست وہی لوگ ہیں جو نیک اعمال کرتے اور اللہ سے ڈرتے ہیں، خواہ ہاشمی ہوں یا غیر ہاشمی۔

اب حضورِ اکرمﷺ کا وہ فرمان سنیے جو آپﷺ نے مرضِ وفات میں اپنی دخترِ گرامی حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے خطاب میں فرمایا۔ چنانچہ حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 651 میں لکھا ہے:

اے فاطمہؓ! عمل کن و طاعت بجا آرا کہ بدونِ عمل من فائدہ نتوانم بخشید۔

ترجمہ: اے فاطمہؓ! نیک اعمال کرو اور عبادتِ الٰہی سے غافل نہ ہونا، کیونکہ نیک اعمال کے بغیر میری قرابت سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکے گا۔

کیا سیدوں کا رتبہ جگر گوشہ رسول سیدہ فاطمہؓ سے زیادہ ہے؟ کہ ان کو تو یہ ارشاد ہوا کہ بغیر اعمالِ صالحہ کے قرابتِ رسولﷺ کوئی فائدہ نہ دے گی، اور بعض لوگ یہ امید رکھیں کہ اگرچہ چوری، زنا اور قتل و غارت کرتے رہیں، قیامت کے دن جنت کا تحفہ مل جائے گا؟ کلا و حاشا۔

حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کو، جو نبی کا فرزند تھا، نسبت نے کوئی فائدہ نہ دیا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے عرض کیا:

اِنَّ ابۡنِىۡ مِنۡ اَهۡلِىۡ الخ۔

(سورۃ ہود: آیت 45)

ترجمہ: یا اللہ! میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے، اسے نجات دے۔

لیکن جواب ملا:

اِنَّهٗ لَـيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ ‌اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ ‌‌الخ۔

(سورۃ ہود: آیت 46)

ترجمہ: وہ تمہارے اہل میں سے نہیں، اس کے اعمال درست نہیں ہیں۔

پھر آج کل کے مشتبہ سید اتنی دور کی نسبت سے کس طرح توقع کر سکتے ہیں بدوں عمل صالح جنت کے مالک ہو جائیں گے ائمہ عظام بھی ایسے شیعوں سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں جو برے اعمال کرکے امید رکھتے ہیں کے صرف محبت اہلِ بیتؓ ہمارے لیے کافی وسیلہ ہے ہم قیامت کو سیدھے جنت میں چلے جائیں گے۔

اصولِ کافی: صفحہ، 402 میں ہے:

عن جابر، عن أبی جعفر عليه السلام قال: يا جابر، أيكتفی من ينتحل التشيع أن يقول بحبنا أهل البيت؟ فوالله ما شيعتنا إلا من اتقى الله وأطاعه، وما كانوا يُعرفون إلا بالتواضع والتخشع والأمانة وكثرة ذكر الله والصوم والصلوٰة والبر بالوالدين والتعاهد للجيران من الفقراء وأهل المسكنة والغارمين والأيتام وصدق الحديث وتلاوة القرآن وكف الألسن عن الناس إلا من خير، وكانوا أمناء عشائرهم في الأشياء قال جابر: يا ابن رسول الله، ما نعرف اليوم أحداً بهذه الصفة فقال: يا جابر، لا تذهبن بك المذاهب، حسب الرجل أن يقول أحب علياً وأتولاه، ثم لا يكون مع ذلك فعالاً؟ فلو قال: إنی أحب رسول اللهﷺ، ورسول الله خير من علی ثم لا يتبع سيرته ولا يعمل بسنته، ما نفعه حبه إياه شيئاً فاتقوا الله واعملوا لما عند الله، ليس بين الله وبين أحد قرابة، أحب العباد إلى الله أتقاهم وأعلمهم بطاعته۔

ترجمہ: سیدنا جابرؒ نے سیدنا باقرؒ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: اے جابر! شیعہ پن یہی نہیں ہے کہ کہہ دیا جائے کہ ہم محبتِ اہلِ بیتؓ ہیں بخدا ہمارے شیعہ وہی لوگ ہیں جو خدا سے ڈرتے اور اس کی عبادت کرتے ہیں شیعہ کی پہچان عجز و نیاز، امانت اور یادِ الٰہی ہے، اور نماز و روزہ، ماں باپ سے بھلائی کرنا، اپنے پڑوسیوں کی امداد کرنا اور لوگوں کی بدگوئی سے اپنی زبان کو روکے رکھنا ہے، اور یہ کہ وہ اپنے قبائل میں بڑے امین ہوں سیدنا جابر نے کہا: اے فرزندِ رسولﷺ اس صفت کے شیعہ آج کل نظر نہیں آتے آپ نے فرمایا: اے جابر! ہم مذہبی پابندی سے بچا نہیں سکتے کوئی شخص گمان کرتا ہے کہ میں محبتِ علیؓ و اہلِ بیتؓ ہوں، پھر ان کے طریقے پر نہیں چلتا اگر وہ شخص کہے کہ میں محبِ رسولﷺ ہوں، اور رسولﷺ سیدنا علیؓ سے بہتر ہیں، پھر رسولﷺ کی سیرتِ پاک کی اتباع نہ کرے اور نہ نیک عمل کرے، تو یہ محبت اسے نفع نہ دے گی۔ خدا سے ڈرو اور یہ سمجھو کہ خدائے پاک کی کسی شخص سے قرابت نہیں ہے خدا کو وہی لوگ پسند ہیں جو بڑے متقی اور عبادت گزار ہیں۔

دیکھو! اس حدیث میں امام والا مقام نے سچے شیعوں کی شناخت کا معیار مقرر کر دیا ہے کہ وہ منکسر المزاج، متواضع اور امین ہوں، یادِ الٰہی میں ہمیشہ مشغول رہیں، نماز و روزہ کے سخت پابند ہوں، ماں باپ کے فرمانبردار ہوں، اپنے غریب پڑوسیوں کی امداد سے دریغ نہ کریں، سچ بولیں، تلاوتِ قرآن ان کا وظیفہ ہو، اور کسی کی بدگوئی نہ کریں۔

سیدنا نے کھول کر فرما دیا کہ نرا محبتِ علیؓ و اہلِ بیتؓ کا ادعا کوئی فائدہ نہیں دے سکتا جبکہ اعمال یزید کے سے ہوں یہ بھی فرمایا کہ رسولِ پاکﷺ کا درجہ علیؓ سے بھی بلند تر ہے کوئی شخص یہ کہہ دے کہ میں محبِ رسولﷺ ہوں لیکن اس کے اعمال کفار کے سے ہوں تو حبِ رسولﷺ اسے کیا فائدہ دے گی؟

جناب ممدوح نے یہ بھی بتایا کہ بخشش تو خدا کے ہاتھ میں ہے خدا کی کسی سے قرابت نہیں ہے اس کو وہی لوگ پسند ہیں جو متقی اور عابد و زاہد ہوں۔

اب شیعہ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں کہ ان میں اوصافِ بالا سے کوئی ایک صفت بھی پائی جاتی ہے اتقاد و ورع تو کجا، نماز و روزہ کا تو کبھی نام بھی نہیں لیا سچ تو کیا بولیں گے، تقیہ (جھوٹ) عبادت سمجھ رکھا ہے بدگوئی کا یہ حال ہے کہ شام و صبح اصحابؓ و ازواجِؓ رسولﷺ پر لعنت و طعن زبان پر جاری رہتا ہے تلاوتِ قرآن کی بجائے سرتال سے مرثیہ خوانی میں مصروف رہتے ہیں، جو سراسر توہینِ اہلِ بیتؓ ہے کیا ان لوگوں کو دعویٰ حبِ علیؓ و حسنینؓ کچھ فائدہ دے سکتا ہے؟ كَلَّا وَ حَاشَا

این خیال است و محال است و جنوں

ایسے لوگ قیامت میں سیدنا حسینؓ نہیں بلکہ یزید کے گروہ میں اٹھیں گے کیونکہ ان کے افعال و اعمال سب کے سب وہی ہیں جو یزید اور اس کے اتباع کے تھے سید گیری کسی کام نہ آئے گی جبکہ اعمال درست نہ ہوں۔ 

اختلافی مسائل پر ہم بحث کر چکے ہیں اور کتبِ شیعہ کے حوالہ جات سے اپنا مدعا ثابت کیا جا چکا ہے امید ہے کہ اہلِ انصاف ناظرین کی اس سے تسلی ہو جائے گی اسلام کے تمام فرقوں سے نرالے عقائد شیعہ کے ہیں جو عقل و نقل کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ تسلیم ہیں۔

شیعہ صاحبان بغضِ خلفائے ثلاثہؓ کی وجہ سے عقل بھی کھو چکے ہیں اور ان کو سمجھ نہیں آتی کہ سبائی مذہب کہاں تک اسلامی عقائد کی نقیض ہے!