سید جنتی ہے - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

سید جنتی ہے

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 2

ترجمہ: سیدنا جابرؒ نے سیدنا باقرؒ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: اے جابر! شیعہ پن یہی نہیں ہے کہ کہہ دیا جائے کہ ہم محبتِ اہلِ بیتؓ ہیں بخدا ہمارے شیعہ وہی لوگ ہیں جو خدا سے ڈرتے اور اس کی عبادت کرتے ہیں شیعہ کی پہچان عجز و نیاز، امانت اور یادِ الٰہی ہے، اور نماز و روزہ، ماں باپ سے بھلائی کرنا، اپنے پڑوسیوں کی امداد کرنا اور لوگوں کی بدگوئی سے اپنی زبان کو روکے رکھنا ہے، اور یہ کہ وہ اپنے قبائل میں بڑے امین ہوں سیدنا جابر نے کہا: اے فرزندِ رسولﷺ اس صفت کے شیعہ آج کل نظر نہیں آتے آپ نے فرمایا: اے جابر! ہم مذہبی پابندی سے بچا نہیں سکتے کوئی شخص گمان کرتا ہے کہ میں محبتِ علیؓ و اہلِ بیتؓ ہوں، پھر ان کے طریقے پر نہیں چلتا اگر وہ شخص کہے کہ میں محبِ رسولﷺ ہوں، اور رسولﷺ سیدنا علیؓ سے بہتر ہیں، پھر رسولﷺ کی سیرتِ پاک کی اتباع نہ کرے اور نہ نیک عمل کرے، تو یہ محبت اسے نفع نہ دے گی۔ خدا سے ڈرو اور یہ سمجھو کہ خدائے پاک کی کسی شخص سے قرابت نہیں ہے خدا کو وہی لوگ پسند ہیں جو بڑے متقی اور عبادت گزار ہیں۔

دیکھو! اس حدیث میں امام والا مقام نے سچے شیعوں کی شناخت کا معیار مقرر کر دیا ہے کہ وہ منکسر المزاج، متواضع اور امین ہوں، یادِ الٰہی میں ہمیشہ مشغول رہیں، نماز و روزہ کے سخت پابند ہوں، ماں باپ کے فرمانبردار ہوں، اپنے غریب پڑوسیوں کی امداد سے دریغ نہ کریں، سچ بولیں، تلاوتِ قرآن ان کا وظیفہ ہو، اور کسی کی بدگوئی نہ کریں۔

سیدنا نے کھول کر فرما دیا کہ نرا محبتِ علیؓ و اہلِ بیتؓ کا ادعا کوئی فائدہ نہیں دے سکتا جبکہ اعمال یزید کے سے ہوں یہ بھی فرمایا کہ رسولِ پاکﷺ کا درجہ علیؓ سے بھی بلند تر ہے کوئی شخص یہ کہہ دے کہ میں محبِ رسولﷺ ہوں لیکن اس کے اعمال کفار کے سے ہوں تو حبِ رسولﷺ اسے کیا فائدہ دے گی؟

جناب ممدوح نے یہ بھی بتایا کہ بخشش تو خدا کے ہاتھ میں ہے خدا کی کسی سے قرابت نہیں ہے اس کو وہی لوگ پسند ہیں جو متقی اور عابد و زاہد ہوں۔

اب شیعہ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں کہ ان میں اوصافِ بالا سے کوئی ایک صفت بھی پائی جاتی ہے اتقاد و ورع تو کجا، نماز و روزہ کا تو کبھی نام بھی نہیں لیا سچ تو کیا بولیں گے، تقیہ (جھوٹ) عبادت سمجھ رکھا ہے بدگوئی کا یہ حال ہے کہ شام و صبح اصحابؓ و ازواجِؓ رسولﷺ پر لعنت و طعن زبان پر جاری رہتا ہے تلاوتِ قرآن کی بجائے سرتال سے مرثیہ خوانی میں مصروف رہتے ہیں، جو سراسر توہینِ اہلِ بیتؓ ہے کیا ان لوگوں کو دعویٰ حبِ علیؓ و حسنینؓ کچھ فائدہ دے سکتا ہے؟ كَلَّا وَ حَاشَا

این خیال است و محال است و جنوں

ایسے لوگ قیامت میں سیدنا حسینؓ نہیں بلکہ یزید کے گروہ میں اٹھیں گے کیونکہ ان کے افعال و اعمال سب کے سب وہی ہیں جو یزید اور اس کے اتباع کے تھے سید گیری کسی کام نہ آئے گی جبکہ اعمال درست نہ ہوں۔ 

اختلافی مسائل پر ہم بحث کر چکے ہیں اور کتبِ شیعہ کے حوالہ جات سے اپنا مدعا ثابت کیا جا چکا ہے امید ہے کہ اہلِ انصاف ناظرین کی اس سے تسلی ہو جائے گی اسلام کے تمام فرقوں سے نرالے عقائد شیعہ کے ہیں جو عقل و نقل کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناقابلِ تسلیم ہیں۔

شیعہ صاحبان بغضِ خلفائے ثلاثہؓ کی وجہ سے عقل بھی کھو چکے ہیں اور ان کو سمجھ نہیں آتی کہ سبائی مذہب کہاں تک اسلامی عقائد کی نقیض ہے!


صفحہ 2 از 2