نقشہ اسلام حسب عقائد شیعہ
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہاس بات کو مخالفینِ اسلام بھی مانتے ہیں کہ اسلام نے تھوڑے عرصہ میں حیرت انگیز ترقی کی کہ اقطاع الارض میں اس کی روشنی پھیل گئی اور جس سینے میں نورِ اسلام پرتوفگن ہوا، پھر اس میں ظلمتِ کفر لوٹنا محال تھا، اور یہی صداقتِ اسلام کی ایک روشن دلیل ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ شیعہ صاحبان اسلام کے دعوے دار ہو کر یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہادی اسلام (فداه أبی و أمی) کی تبلیغی جدوجہد اور خدا کے پاک کلام قرآن کی تعلیم کا صرف یہ نتیجہ ہوا کہ سچے مسلمان رسول اللہﷺ کے کنبہ کے لوگوں کے علاوہ صرف تین شخص: ابوذرؓ، مقدادؓ اور سلمان فارسیؓ پیدا ہوئے، جو آخری دم تک اسلام پر ثابت قدم رہے باقی تمام مسلمان، جن کی تعداد لاکھوں کی تھی، برائے نام مسلمان تھے جو رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد یک لخت اسلام سے پھر گئے اور الٹے خاندانِ نبوت کے جانی دشمن بن بیٹھے۔
اس کے متعلق شیعہ کی معتبر کتب کے حوالے درج ذیل کیے جاتے ہیں:
1: فروع کافی: جلد، 3 کتاب الروضہ: صفحہ، 115 میں درج ہے:
عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ قَالَ: كَانَ النَّاسُ أَهْلَ رِدَّةٍ بَعْدَ النَّبِی إِلَّا ثَلَاثَةٌ فَقُلْتُ: وَمَنِ الثَّلَاثَةُ؟ فَقَالَ: الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ، وَأَبُوذَرٍّ الْغِفَارِی وَسَلْمَانُ الْفَارِسِی۔
ترجمہ: سیدنا محمد باقر صادقؒ سے روایت ہے، فرمایا: رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد سب لوگ مرتد ہو گئے، صرف تین مسلمان رہ گئے۔ راوی نے پوچھا: وہ کون؟ فرمایا: مقدادؓ، ابوذرؓ اور سلمان فارسیؓ۔
2: حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 200 میں ہے: بسندِ معتبر از حضرت صادقؒ روایت کرده است کہ مردم ہلاک شدند بعد از وفاتِ رسولﷺ مگر سلمان، ابوذر و مقداد۔
ترجمہ: سیدنا صادقؒ سے بسندِ معتبر روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد سب لوگ ہلاک ہو گئے (مرتد ہو گئے) صرف سلمانؓ، ابوذرؓ اور مقدادؓ مسلمان رہے۔
ایسا ہی شیعہ کی دوسری کتابوں میں ہے اور یہ عقیدہ متفقہ ہے، اس لیے زیادہ بحث کی ضرورت نہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ مسلمان کیسے تھے۔
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ و حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کی ایمانی حالت
حیات القلوب: جلد، 2 صفحہ، 200 میں سلمانؓ و مقدادؓ کے ایمان کی کیفیت عجیب لکھی ہے کہ ایک کی حالت کی دوسرے کو خبر ہو تو فوراً کافر ہو جائے عبارت یوں ہے:
در کتاب اختصاص بسندِ معتبر روایت کرده است کہ حضرت رسولﷺ۔
ترجمہ: فرمودہ کہ: اے سلمانؓ! اگر عرض کنند علمِ ترا بر مقداد، ہر آئینہ کافر میشود۔
کتاب اختصاص میں معتبر سند سے امام صادقؑ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: اے سلمانؓ! اگر تیرا علم مقدادؓ پر پیش کیا جائے تو ضرور وہ کافر ہو جائے۔
کیا خوب مسلمانی ہے:
کہ سلمانؓ کے علم کی اطلاع مقدادؓ کو ملے تو وہ کافر ہو جائے، اور مقدادؓ کے صبر کی سلمانؓ کو خبر ملے تو وہ بھی کافر ہو جائے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ہادی اسلام نے بمشکل تین ایسے مسلمان پیدا کیے جو بعد از وفاتِ رسول اللہﷺ مسلمان رہے ان میں سے بھی دو ایسے ڈھلمل تھے کہ ایک کی حالت پر دوسرا مطلع ہو جائے تو اسلام کو خیر باد کہہ دے اب صرف ابوذرؓ مسلمان رہ گئے اس سے تو نہ صرف رسول اللہﷺ اور قرآنِ پاک پر بلکہ خدائے پاک پر بھی حرف آتا ہے کہ اتنا بڑا کارخانہ اسلام قائم ہوا، رسول اللہﷺ خاتم الانبیاء مبعوث ہوئے، اور حسبِ فرمان: وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ الخ۔
(سورۃ سبا: آیت 28)
ترجمہ: ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے۔
لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ صرف ایک مسلمان باقی رہا کیا کوئی شخص اس عقیدے کو درست مان کر مخالفینِ اسلام کے سامنے ایک منٹ کے لیے بھی صداقتِ اسلام پر بحث کر سکتا ہے؟ تف ہے ایسے بُرے عقیدے پر! مسلمانو! غور کرو، اور پھر غور کرو۔