عہد خلافت راشدہ کا خاتمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عہد خلافت راشدہ کا خاتمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا زمانہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت سے دست برداری پر ختم ہوگیا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

تَکُوْنُ النُّبُوَّۃُ فِیْکُمْ مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ، ثُمَّ یَرْفَعُہَا اللّٰہُ إِذَا شَائَ أَنْ یَّرْفَعَہَا، ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْہَاجِ النُّبُوَّۃِ، فَتَکُوْنُ مَا شَائَ أَنْ تَکُوْنَ، ثُمَّ یَرْفَعُہَا إِذَا شَائَ أَنْ یَرْفَعَہَا، ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا عَاضًّا فَتَکُوْنُ مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ، ثُمَّ یَرْفَعُہَا اللّٰہَ إِذَا شَائَ أَنْ یَّرْفَعَہَا، ثُمَّ تَکُوْنُ مُلْکًا جَبْرِیًّا، فَتَکُوْنُ مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ تَکُوْنَ، ثُمَّ یَرْفَعُہَا إِذَا شَائَ أَنْ یَرْفَعَہَا، ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْہَاجِ النُّبُوَّۃِ ثُمَّ سَکَتَ۔

(صحیح سنن ابی داؤد للالبانی: جلد 3 صفحہ 879، سنن أبی داود: شرح عون المعبود: جلد 12 صفحہ 259)

’’جب تک اللہ چاہے گا نبوت رہے گی، پھر جب چاہے گا ختم کر دے گا، پھر جب تک چاہے گا خلافت علیٰ منہاج النبوۃ رہے گی، پھر جب چاہے گا ختم کر دے گا، پھر جب تک چاہے گا ظالمانہ بادشاہت رہے گی، پھر جب چاہے گا ختم کر دے گا، پھر جب تک چاہے گا غاصبانہ بادشاہت رہے گی، پھر جب چاہے گا ختم کر دے گا، پھر خلافت علیٰ منہاج النبوۃ ہو گی، پھر خاموش ہو گئے۔‘‘

نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کر دیا ہے کہ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ تیس سال تک رہے گی پھر اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا بادشاہت یا اپنی بادشاہت دے گا۔

اور ارشاد نبوی ہے:

اَلْخِلَافَۃُ فِیْ أُمَّتِیْ ثَلَاثُوْنَ سَنَۃً ثُمَّ مُلْکٌ بَعْدَ ذٰلِکَ۔

(سنن الترمذی مع تحفۃ الأحوذی: جلد 6 صفحہ 395-397 یہ حدیث حسن ہے۔)

’’میری امت میں خلافت تیس سال رہے گی پھر اس کے بعد بادشاہت ہوگی۔‘‘

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت پر تیس سال پورے ہو جاتے ہیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں آپ ربیع الاول 41ھ میں خلافت سے دست بردار ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے لے کر اس وقت تک تیس سال پورے ہو جاتے ہیں اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ربیع الاول 11ھ میں ہوئی تھی، اور یہ پیشین گوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک دلیل تھی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 16)

اس طرح ربیع الاول 41ھ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت سے دست برداری پر خلافت علی منہاج النبوۃ کا مرحلہ پورا ہو جاتا ہے۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 165)

مذکورہ حدیث نبوی درج ذیل تاریخی مراحل کی جانب اشارہ کرتی ہے:

1۔ عہد نبوت۔

2۔ عہد خلافت راشدہ۔

3۔ متشدد و ظالم بادشاہ کا عہد۔

4۔ غاصب بادشاہ کا عہد۔

5۔ پھر خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کاعہد۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر دیا ہے کہ علیٰ منہاج النبوۃ خلافت و رحمت ہو گی، پھر بادشاہت و رحمت ہوگی۔

(سنن الدارمی: جلد 2 صفحہ 114، الاشربۃ (الفتاویٰ: جلد 14 صفحہ 35)

خلفائے راشدینؓ کے بعد کے لوگوں کو بھی (اگرچہ انبیاء کے خلیفہ نہیں بلکہ بادشاہ ہیں) خلیفہ کہا جا سکتا ہے، اس کی دلیل ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہ روایت ہے جسے امام بخاریؒ و امام مسلمؒ دونوں نے اپنے صحیح میں نقل کیا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

کَانَتْ بَنُوْاِسْرَائِیْلَ یَسُوْسُہُمُ الْأَنْبِیَائُ کُلَّمَا ہَلَکَ نَبِیٌّ خَلَفَہُ نَبِیٌّ وَ إِنَّہٗ لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ، وَ سَتُکُوْنُ خُلَفَائُ فَتَکْثُرُ، قَالُوْا: فَمَا تَاْمُرُنَا؟ قَالَ: وَفُّوْا بِبَیْعَۃِ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ، ثُمَّ أَعْطُوْہُمْ حَقَّہُمْ فَإِنَّ اللّٰہَ سَائِلُہُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاہُمْ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 3455)

’’بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کرتے تھے، جب کوئی نبی وفات پا جاتا تو اس کا خلیفہ و جانشین دوسرا نبی ہوتا، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، خلیفہ ہوں گے جو بکثرت ہوں گے، لوگوں نے پوچھا: آپﷺ ہمیں کس بات کا حکم دیتے ہیں؟ آپﷺ نے جواب دیا: اول بہ اول خلیفہ کی بیعت کو پورا کرنا، انھیں ان کا حق دینا، اللہ تعالیٰ ان سے ان کی رعایا کے بارے میں پوچھ تاچھ کرنے والا ہے۔‘‘

آپﷺ کا قول ’’فتکثر‘‘ خلفائے راشدینؓ کے علاوہ خلفاء کی دلیل ہے، اس لیے کہ خلفائے راشدینؓ کثیر نہیں تھے، آپﷺ کا قول ’’وفوا بیعۃ الأول فالأول‘‘ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ایک دوسرے سے اختلاف کریں گے حالاں کہ خلفائے راشدینؓ نے ایک دوسرے سے اختلاف نہیں کیا تھا، آپﷺ کا قول ’’فأعطوہم حقہم فإن اللّٰہ سائلہم عما استر عاہم‘‘ حکام کو مال اور غنیمت میں ان کا حق دینے سے متعلق اہل سنت کے مذہب کی دلیل ہے۔

(مجموع الفتاویٰ جلد 35 صفحہ 15)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس امت کے سب سے بہتر بادشاہ ہیں، جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ علی منہاج النبوۃ خلیفہ تھے، لیکن ان کی خلافت بادشاہت تھی، نیز ان کی بادشاہت بادشاہت اور رحمت تھی، آپ کی بادشاہت میں جو رحمت، حلم و بردباری، اور مسلمانوں کو نفع رسانی تھی وہ سب باتیں بتلاتی ہیں کہ وہ دوسرے بادشاہوں سے بہتر تھے۔

(مذکورہ کتاب: جلد 4 صفحہ 292)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ عالم، پرہیزگار، اور عادل تھے، لیکن وہ ان اوصاف میں خلفاء اربعہ سے کمتر تھے، جیسا کہ اولیاء بلکہ ملائکہ اور انبیاء کے مابین تفاوت پایا جاتا ہے، چنانچہ ان کی خلافت و حکومت اگرچہ اجماعِ صحابہؓ اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے سونپ دینے کے باعث صحیح تھی، مگر ان سے پہلے خلفاء کی خلافت کے طرز پر نہیں تھی، انھوں نے بہت ساری ایسی مباح چیزوں میں وسعت دے دی جن سے خلفاء اربعہ بچ رہے تھے، نیز عبادات و معاملات میں خلفاء اربعہ کی فضیلت بالکل ظاہر و باہر ہے۔

(الناہیۃ عن طعن امیر المومنین معاویۃ: صفحہ 87)

صفحہ 1 از 2