عہد خلافت راشدہ کا خاتمہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عہد خلافت راشدہ کا خاتمہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

ابن خلدون نے تبدیلیوں کو ذکر کرتے ہوئے اس بات کو ذکر کیا ہے کہ خلافت اگرچہ ملوکیت میں تبدیل ہوگئی تھی مگر خلافت کے مفاہیم باقی رہ گئے تھے، تبدیلی تصرفات کے بنیادی محرک میں ہوئی تھی، پہلے بنیادی محرک دین ہوا کرتا تھا، لیکن اس وقت عصبیت اور تلواریں بنیادی محرک بن گئی تھیں، مراد یہ کہ پہلے لوگوں کے تصرفات میں بنیادی محرک دین تھا، اور خلافت شورائی تھی، بعد میں حکومت کی بنیاد عصبیت اور قوت پر ہو گئی، لیکن خلافت کے اہداف و مقاصد باقی رہ گئے تھے، یعنی اس بادشاہت کے اغراض و اہداف یہ تھے کہ وہ دین کے مقاصد کو پورا کرے، اسلامی شریعت کے مطابق عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے، ان واجبات کو بروئے کار لائے جن کا اسلام حکم دیتا ہے، یعنی بادشاہت و حکومت اسلامی و شرعی ہی باقی رہی۔

(النظریات السیاسۃ للریس: صفحہ 194 نقلا عن المقدمۃ ابن خلدون)

خلافت کے ادوار کی تلخیص کرتے ہوئے کہتے ہیں: 

’’یہ بات واضح ہو گئی کہ پہلے بغیر بادشاہت کے خلافت تھی، پھر اس کے مفاہیم بادشاہت کے ساتھ مل گئے، پھر صرف بادشاہت رہ گئی، اس لیے کہ عصبیت خلافت سے بالکل علیحدہ شے ہے اور دن اور رات کی آمد و رفت کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔‘‘

(مقدمۃ ابن خلدون: النظریات السیاسۃ: صفحہ 195)

چنانچہ پہلا دور جس کی جانب انھوں نے اشارہ کیا ہے وہ خلفائے راشدینؓ کا زمانہ تھا اور وہ خالص خلافت کا زمانہ تھا اور دوسرا دور خلفائے امویین و عباسیین اور اسی طرح خلفائے عثمانیین کا زمانہ تھا، اور وہ ایسی خلافت کا زمانہ تھا جو بادشاہت کے ساتھ ملی ہوئی تھی، یا ایسی بادشاہت کا زمانہ تھا جو خلافت کے ساتھ ملی ہوئی تھی یعنی اس زمانہ میں خلافت کے مقاصد کو بروئے کار لایا جاتا تھا، اور تیسرا دور خالص بادشاہت کا تھا جس کا مقصد بادشاہ بننا اور دنیاوی مقاصد کو حاصل کرنا تھا، اور یہ دور خلافت کی حقیقت اور اس کے دینی مفاہیم سے بالکل عاری ہو گیا تھا، یہ فقیہ و مؤرخ ابن خلدون کی جانب سے ہونے والی تبدیلیوں اور ان ادوار کی تفسیر ہے جن سے خلافت گزری۔

(مقدمۃ ابن خلدون: النظریات السیاسۃ: صفحہ 195)

بلاشبہ حقیقی خلافت یا خلافت علیٰ منہاج النبوۃ تیس سال تک رہی اور یہ خلفائے راشدینؓ کا زمانہ تھا، پھر بادشاہت آ گئی، لیکن حقیقت کے اظہار کے لیے اس تحدید کی رعایت ضروری ہے کہ خلافت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کے مفاہیم و مقاصد باقی تھے، تبدیلی اس بنیاد میں ہوئی تھی جس پر اس کا قیام ہوتا تھا، لیکن اس کی حقیقت باقی تھی، اس طرح تبدیلی کلی نہیں، بلکہ جزوی تھی، یعنی پہلے دور کی خلافت کامل و مثالی تھی، پھر بعض وجوہ سے مثالی کے درجے سے گھٹ گئی، لیکن اس کے اکثر عناصر باقی رہ گئے تھے، اس طرح یہ کم درجے کی خلافت تھی، یا ایسی خلافت تھی جو بادشاہت سے ملی ہوئی تھی۔

(مقدمۃ ابن خلدون: صفحہ 196)

اسلام میں عام لوگوں کے نزدیک مثالی و کامل اور علیٰ منہاج النبوۃ خلافت ہی قابلِ عمل ہے، اس کی بنیاد شورائیت اور امت کے مکمل انتخاب پر ہوتی ہے، واقعی حالات و ظروف اور اجتماعی اسباب و عوامل کی بناء پر اگر یہ تبدیلی ہو جائے تو اسے وقتی طور پر یا ضرورت کے طور پر ہی برداشت اور قبول کیا جا سکتا ہے، لیکن ضروری ہے کہ مثالی اور کامل خلافت کا تصور ہمیشہ لوگوں کے ذہنوں میں رہے، مذکورہ حالات و ظروف اور اسباب و عوامل کے ختم ہوتے ہی کامل و مثالی خلافت کی جانب لوٹ جانا واجب ہے، اسی لیے خالص اسلامی تحریریں مثالی و کامل خلافت کا التزام کرتی ہیں، اور اسی سے اصول و مبادی کا استنباط کرتی ہیں، نیز شرعی و حقیقی خلافت کے درمیان اور بالفعل پائی جانے والی اس خلافت کے درمیان تفریق کرتی ہیں جو حقیقت سے تھوڑا بہت دور ہوگئی تھی۔

(مقدمۃ ابن خلدون: صفحہ 197)

ابن تیمیہ رحمۃاللہ نے ذکر کیا ہے کہ خلافت کا بادشاہوں، ان کے نائبین، گورنروں، قاضیوں اور حاکموں کے ہاتھوں میں ہو جانا صرف ان کے اندر کمی کے باعث نہیں تھا، بلکہ راعی اور رعیت دونوں کے اندر کمی کے باعث تھا، اور تم جیسے ہو گے اللہ تعالیٰ تم پر ویسے ہی آدمی کو مقرر کرے گا، ارشاد ربانی ہے:

وَكَذٰلِكَ نُوَلِّىۡ بَعۡضَ الظّٰلِمِيۡنَ بَعۡضًا بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ۞ (سورۃ الأنعام آیت 129)

(مجموع الفتاویٰ: جلد 35 صفحہ 15)

ترجمہ: اور اسی طرح ہم ظالموں کو ان کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں۔  

خلفائے راشدینؓ کی حکومت ختم ہوگئی، خلافت بادشاہت میں بدل گئی تو حاکموں میں اسی طرح علما اور دینداروں میں کمی و خامی واقع ہوگئی، خلفائے اربعہ کی خلافت کے خاتمے پرجمہور صحابہ کرام ختم ہو چکے تھے، تاآنکہ بدری صحابیوں میں بہت کم لوگ بچے تھے، اور جمہور تابعین زبیر رضی اللہ عنہ اور عبدالملک کی امارت میں ختم ہوچکے تھے اور جمہور تبع تابعین اموی حکومت کے اواخر اور عباسی حکومت کے اوائل میں ختم ہو چکے تھے۔

(مجموع الفتاویٰ: جلد 10 صفحہ 207)


صفحہ 2 از 2