Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کیا سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما قوت رکھتے ہوئے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبردار ہوئے تھے یا کمزوری کی حالت میں؟

  علی محمد الصلابی

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما قوت رکھتے ہوئے دست بردار ہوئے تھے، اس کے بہت سارے دلائل ہیں، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

1۔ وہ قانونی حیثیت جو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو حاصل تھی:

آپ کی بیعت امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد رمضان 40ھ میں انجام پائی، آپ کا انتخاب شورائی طریقہ پر ہوا، آپ حجاز، یمن، عراق، اور ان تمام علاقوں کے قانونی خلیفہ ہو گئے جو سیدنا حسنؓ کے والد کے تابع تھے، سیدنا حسنؓ چھ مہینے خلیفہ رہے، یہ مدت اس خلافت راشدہ میں شامل ہے، جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ اس کی مدت تیس سال ہوگی، پھر بادشاہت ہوگی۔ امام ترمذیؒ نے اپنی سند سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

اَلْخِلَافَۃُ فِیْ أُمَّتِیْ ثَلَاثُوْنُ سَنَۃً ثُمَّ مُلْکٌ بَعْدَ ذٰلِکَ

(سنن الترمذی مع تحفۃ الأحوذی: جلد 6 صفحہ 395، 397)

’’میری امت میں خلافت تیس سال رہے گی پھر اس کے بعد بادشاہت ہوگی۔‘‘

ابن کثیر رحمۃاللہ نے اس حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی خلافت کو لے کر تیس سال پورے ہوتے ہیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں سیدنا حسنؓ ربیع الاول 41ھ میں دست بردار ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ربیع الاول 11ھ میں ہوئی، وہاں سے لے کر یہاں تک تیس سال پورے ہوتے ہیں، اور یہ پیشین گوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک نشانی ہے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 134)

اس طرح سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پانچویں خلیفۂ راشد ہوں گے۔

(مرویات خلافۃ معاویہ: صفحہ 155)

خلافتِ حسن رضی اللہ عنہ کی قانونی حیثیت کے بارے میں بہت سارے علمائے اہلِ سنت نے گفتگو کی ہے، انھی میں ابوبکر ابن العربی،

 (أحکام القرآن لابن العربی: جلد 4 صفحہ 1720)

قاضی عیاض، (شرح النووی علی صحیح مسلم: جلد 12 صفحہ 201)

ابن کثیر (البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 134)

 شارح طحاویہ (شرح الطحاویۃ: صفحہ 545)، 

 مناوی (فیض القدیر: جلد 2 صفحہ 409)، 

اور ابن حجر ہیثمی (الصواعق المحرقۃ: جلد 2 صفحہ 397) ہیں۔ 

اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو قانونی حیثیت حاصل تھی اگر وہ چاہتے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو پریشان کر سکتے تھے، اور اہلِ شام کا اعتماد حاصل کرنے یا کم از کم ان کے مابین سیدنا معاویہؓ کا مؤقف کمزور کرنے کے لیے ان کے درمیان منظم طور پر اعلامی جنگ چھیڑ سکتے تھے، قانونی حیثیت حاصل ہونے اور نواسۂ رسولﷺ ہونے کے باعث سیدنا حسنؓ کو معنوی طاقت و قوت اور روحانی اثر و نفوذ حاصل تھا۔