سیدنا عمرو بن عاص اور معاویہ رضی اللہ عنہما کی جانب سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی فوجوں کا جائزہ
علی محمد الصلابیصحیح بخاری میں وارد ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا سامنا پہاڑ جیسے فوجی دستوں کے ساتھ کیا، اس پر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے خیال میں یہ دستے اپنے مقابل فوجیوں کا کام تمام کر کے ہی واپس لوٹیں گے، اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ (جو دونوں میں بہتر تھے) نے کہا: اے عمرو، اگر یہ لوگ قتل کردیے گئے تو ان کے معاملات، ان کی عورتوں اور ان کی جاگیروں کا کون ذمہ دار ہوگا؟ چنانچہ انھوں نے ان (سیدنا حسنؓ) کے پاس قریش کے دو آدمیوں عبدالرحمٰن بن سمرہ اور عبداللہ بن عامر بن کریز رضی اللہ عنہما کو بھیجا اور کہا: تم دونوں ان کے پاس جاؤ، بات چیت کرو، کچھ ان کے مطالبات کو مان لینے اور اپنے کچھ مطالبات منوانے کی بات کرو۔
(صحیح البخاری: کتاب الصلح حدیث نمبر 2704)
ا: عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ جیسا مشہور فوجی جرنیل، تجربہ کار سیاست دان اور لڑائیوں کا طویل تجربہ رکھنے والا کہہ رہا ہے: میرے خیال میں یہ فوجی دستے اپنے مقابل فوجیوں کا کام تمام کر کے ہی لوٹیں گے۔
ب: فوجی صورت حال کا جائزہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس طرح پیش کرتے ہیں: بغیر دونوں فریقوں کے زبردست نقصانات کے کسی فریق کو فتح اور فوجی بالادستی نہیں مل سکتی، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ہی اگرچہ فتح مند ہوتے پھر بھی وہ اچھے مسلمانوں کے قتل، یتیموں، بیواؤں اور امت اسلامیہ کے لیے بڑی بڑی اخلاقی، اقتصادی، سیاسی اور اجتماعی خرابیوں کی شکل میں جنگ کے نتائج کو برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔
ج: اسی لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسلامی معاشرے میں اثر و رسوخ رکھنے والے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے نزدیک محترم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے دو عظیم شخصیتوں کا انتخاب فرمایا، دونوں قریش کے تھے۔
ایک عبدالرحمٰن بن سمرہ بن حبیب بن ربیعہ بن عبدشمس بن عبدمناف، ابوسعید قرشی رضی اللہ عنہ تھے، آپ فتح مکہ کے دن مشرف بہ اسلام ہوئے، آپ اشراف میں سے تھے، بصرہ میں قیام کیا، جنگ سجستان میں شریک ہوئے۔
(سیر أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 571)
وہی ہیں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
یَا عَبْدَالرَّحْمٰنِ لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَۃَ فَإِنَّکَ إِنْ أُعْطِیْتَہَا مِنْ غَیْرِ مَسْاَلَۃٍ أُعِنْتَ عَلَیْہَا، وَ إِنْ أُعْطِیْتَہَا عَنْ مَسْاَلَۃٍ وُکِّلْتَ إِلَیْہَا۔
(صحیح مسلم: کتاب الإیمان حدیث نمبر 1652)
’’اے عبدالرحمٰن! امارت کا مطالبہ مت کرو، اگر بغیر مطالبے کے امارت تمھیں دی گئی تو الہٰی مدد تمھیں ملے گی اور اگر مطالبے پر ملی تو تنہا تمھارے حوالے کردی جائے گی (یعنی الہٰی مدد نہیں ملے گی)۔‘‘
مسند بقی بن مخلد میں ان کی روایت کردہ چودہ حدیثیں ہیں، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما، سعید بن مسیب، عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ، حبان بن عمیر، ابن سیرین، حسن، ان کے بھائی سعید بن ابوالحسن اورحمید بن ہلال وغیرہم نے روایت کی ہے۔
ایک روایت کے مطابق ان کا نام عبدکلال تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عبدالرحمٰن سے بدل دیا۔
(سیر أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 572)
آپ کی وفات بصرہ میں 50ھ میں ہوئی، دوسری روایت کے مطابق 51ھ میں۔
(سیر أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 572)
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ ایک مجاہد، جلیل القدر صحابی تھے، اس زمانے میں آپ کو اچھا مقام حاصل تھا، بہت ساری فتوحات میں آپ شریک رہے، عہدِ عثمانی میں فتح کرنے والی فوجوں کے امیر رہے، سجستان کو بغیر جنگ کے فتح کیا، اس کے بعد ’’بُست‘’ اور اس سے متصل علاقوں کو فتح کیا، کابل اور زابلستان تک پہنچ کر ان دونوں کو فتح کیا، اور بہت سارا مالِ غنیمت ابن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔
(تاریخ دمشق: جلد 26 صفحہ 289، 290)
دوسرے عبداللہ بن عامر بن کریز بن ربیعہ بن عبدشمس بن عبدمناف بن قصی قرشی رضی اللہ عنہ تھے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 8 صفحہ 91)
عہد نبوی 4ھ میں آپ کی ولادت ہوئی۔
(تہذیب التہذیب: جلد 5 صفحہ 272)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب 7ھ میں عمرۃ القضاء ادا کرنے آئے اور مکہ میں داخل ہوئے تو آپﷺ کے پاس عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو لایا گیا۔ ابن حجر رحمۃاللہ کہتے ہیں: آپ نے زبان نکالی اور جمائی لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے منہ میں اپنا تھوک ڈال دیا اور پوچھا: یہ سلمیہ کے لڑکے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، آپﷺ نے فرمایا: یہ ہمارے مشابہ ہے اور ان کے منہ میں آپﷺ اپنا تھوک ڈالتے رہے اور ان کے لیے شیطان سے بچاؤ کی دعا کرتے رہے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تھوک کو نگلتے رہے، آپﷺ نے فرمایا: بلاشبہ یہ سیراب کیے ہوئے ہیں، چنانچہ جو زمین بھی آپ کھودتے وہاں سے پانی نکلنے لگتا۔
(تہذیب التہذیب: جلد 5 صفحہ 272)
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے متعلق اپنی کتاب میں عہد ذوالنورین میں گورنروں کے ادارے پر گفتگو کے وقت میں نے سیدنا عثمان غنیؓ کی سوانح حیات لکھی ہے۔
(عثمان بن عفان للصلابی: صفحہ 302)
ابن تیمیہ رحمۃاللہ کے قول کے مطابق ان کی نیکیاں اور لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت معروف ہیں۔
(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 189، 190)
ان کے بارے میں امام ذہبیؒ فرماتے ہیں: سیدنا عثمان بن عفانؓ کاشمار عرب کے بڑے امراء، بہادروں اور شہسواروں میں ہوتا تھا، ان میں نرمی و بردباری تھی۔
(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 21)
جنگ جمل و صفین سے آپؓ بالکل الگ تھلگ رہے۔
مذکورہ دونوں شخصیتوں کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے بھیجا جانا اس با ت کی دلیل تھی کہ وہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی قیمت پر بھی صلح کی کامیابی کے حریص تھے، اور معاملے کی باگ ڈور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور آپ کے مؤیدین کے ہاتھوں رہی۔ صحیح بخاری کی سابقہ روایت نیز دیگر روایات کے مطابق سیدنا حسنؓ کا فوجی محاذ نہایت مضبوط تھا، رہا معاملہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنے اور قتل کرنے کی کوشش کا، تو اس کا تعلق جنگی حالات اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حقیقت میں یا بطور افواہ صلح سے ہے، افواہ پھیلانے والے ناکام رہے، سیدنا حسنؓ پر حملہ کرنے والا قتل کر دیا گیا، اس کے بعد آپ آگے بڑھے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل گئے۔
اگر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی دھاک نہ ہوتی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان سے گفتگو کرنے، ان کے مطالبات اور شرائط کو مان لینے کی ضرورت نہ ہوتی، اپنے جاسوسوں کے ذریعہ سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی کمزوری اور قوت کے انتشار کو جان لیتے، نیز کسی سے گفتگو کرنے اور ان کے مطالبات و شرائط کو مان لینے کی زحمت اٹھائے بغیر کوفہ میں داخل ہو جاتے۔
(صحیح البخاری: حدیث نمبر 7109)
اپنے اعوان و انصار کے ساتھ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے جنگ کر سکتے تھے، لیکن سیدنا حسن رضی اللہ عنہ امن و سلامتی کو پسند کرتے تھے اور فتنہ و تفرقہ بازی کو ناپسند کرتے تھے، آپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی باہمی پھوٹ کو ختم کر کے انھیں متحد کردیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا:
إِنَّ ابْنِیْ ہٰذَا سَیِّدٌ وَ لَعَلَّ اللّٰہُ یُصْلِحُ بِہٖ بَیْنَ فِئَتَیْنِ عَظِیْمَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔
(سیر أعلام النبلاء: جلد 7 صفحہ 262)
’’میرا یہ لاڈلا سردار ہے، اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے مابین صلح کرائے گا۔‘‘