شیعہ کا ذبیحہ
احمد بن عبد اللہ بن یونس رحمۃ اللہ کا فتویٰ
اگر کوئی یہودی ایک بکری ذبح کرے اور کوئی رافضی بھی ذبح کرے تو میں یہودی کا ذبیحہ کھا لوں گا لیکن رافضیوں کا ذبیحہ نہیں کھاؤں گا، کیونکہ وہ اسلام سے مرتد ہو چکا ہے۔ (آئینہ مذہب شیعہ: جلد 2 صفحہ 1281)
اگر ایک بکری یہودی ذبح کرتا ہے اور دوسری بکری رافضی شیعہ ذبح کرتا ہے تو میں یہودی کی ذبح کی ہوئی بکری کھاؤں گا، شیعہ کی ذبح کی ہوئی بکری کا گوشت نہیں کھاؤں گا، کیونکہ یہ دین اسلام سے مرتد ہو چکے ہیں ۔
(اثناء عشریہ عقائد و نظریات کا جائزہ اور گھناؤنی سازشیں: صفحہ 212)
رافضی کا ذبیحہ
اگر ایک رافضی بکری ذبح کرے اور ایک یہودی ذبح کرے تو میں یہودی کا ذبیحہ کھا لوں گا، رافضی کا ذبیحہ نہیں کھاؤں گا۔ کیونکہ وہ (رافضی) اسلام سے برگشتہ ہو چکا ہے اور یہودی اہلِ کتاب ہے جس کا ذبیحہ حلال ہے۔
(عظمت و شان صحابہؓ: صفحہ 21)