سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور حکومت سے بے رغبتی
علی محمد الصلابیدنیا کو چھوڑ کر جو کچھ اللہ کے پاس ہے اسے اور اجر و ثواب کو طلب کرنے میں حسن رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے اسوہ و نمونہ تھے، مناصب اور کرسیوں کو چھوڑنا انسانوں پر گراں گزرتا ہے، ان کے بارے میں بھائی، ساتھی اور رشتہ دار ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں، پرانی تاریخ کو پلٹ کر دیکھنے پر عجیب و غریب باتیں دکھائی دیں گی۔
دنیا کے بہت کم لوگ ریاست و سرداری کو چھوڑتے ہیں، بہت سے لوگ ایسے ملیں گے جو مال و دولت اور عورتوں وغیرہ کو چھوڑ دیتے ہیں، لیکن ریاست و سرداری اور مناصب کو چھوڑنے میں ناکام رہتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ سرداری کی محبت آخری چیز ہوتی ہے جو صالحین کے دلوں سے نکلتی ہے، سفیان ثوری کے اس قول پر غور کرو، سب سے کم جس چیز سے آدمی بے رغبت ہوتا ہے وہ ریاست و سرداری ہے، آدمی کھانے، پینے، مال اور کپڑوں سے بے رغبت ہو جاتا ہے، لیکن ریاست و سرداری سے بے رغبت نہیں ہوتا، اگر کوئی اسے چھیننے لگے تو اس سے جنگ پر آمادہ ہو جاتا ہے اور اس کا دشمن بن جاتا ہے، ریاست و سرداری کی محبت سے بچو اس لیے کہ یہ آدمی کو سونے اور چاندی سے زیادہ پسندیدہ ہوتی ہے، وہ ایک گنجلک معاملہ ہے جسے پرکھ رکھنے والے بابصیرت علماء ہی جان پاتے ہیں، اپنے آپ کا جائزہ لو اور خالص نیت سے کام کرو، ایسا معاملہ لوگوں سے قریب ہو چکا ہے، جس کے لیے آدمی مر جانا چاہتا ہے۔
(حلیۃ الأولیاء: جلد 6 صفحہ 376، فقہ الفتن: عبداللہ شعبان: صفحہ 142)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ہمیں سکھلا رہے ہیں کہ ہم کس طرح مناصب اور کرسیوں کو چھوڑ دیں اگر ایسا کرنے میں اللہ کی رضا، امت کی مصلحت، خونریزی سے رکاوٹ اور امت کا اتحاد مضمر ہو۔
دنیا سے بے رغبتی پر معاون چیزوں میں سے امیدوں کا اختصار، موت کی یاددہانی اور قبروں کی زیارت ہے، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی انگوٹھی پر یہ شعر لکھا ہوا تھا:
قدم لنفسک ما استطعت من التقی إن المنیۃ نازل بک یا فتی
’’تقویٰ کے کام جتنا کر سکے کر لے، اے نوجوان! تجھے موت سے دوچار ہونا ہی ہے۔‘‘
أصبحت ذا فرح کأنک لا تری أحباب قلبک فی المقابر و البلی
(تاریخ دمشق: جلد 86 صفحہ 14)
’’تم بہت خوش ہو گویا تم اپنے جگری ساتھیوں کو نہیں دیکھ رہے ہو جو قبروں میں جا کر بوسیدہ ہو رہے ہیں۔‘‘
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اپنے زمانے کے زاہدوں میں سے تھے، زہد میں سیدنا حسنؓ کو سبقت حاصل تھی، سیدنا حسنؓ نے دنیا اور اس کے ساز و سامان کو ترک کر دیا تھا، لوگوں کے نزدیک مقام و مرتبہ کی چاہت کو چھوڑ کر رضائے الہٰی کے کاموں میں مشغول تھے، اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں سیدنا حسنؓ کو قدر و منزلت اور عزت و شرف سے نوازا تھا، جب کہ آپ کو اس کی چاہت نہیں تھی، بلکہ اس سے اس خوف سے بہت دور بھاگتے تھے کہ کہیں لوگوں کے سبب آپ کا رشتہ اللہ تعالیٰ سے کمزور نہ ہوجائے۔ فرمان الہٰی ہے:
اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَيَجۡعَلُ لَهُمُ الرَّحۡمٰنُ وُدًّا ۞ (سورۃ مريم آیت 96)
ترجمہ: (ہاں) بیشک جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، خدائے رحمن ان کے لیے دلوں میں محبت پیدا کردے گا۔
اور حدیث میں وارد ہے:
إن اللّٰہ إذا أحب عبدا نادی یا جبریل إنی أحب فلانا فیحبہ جبریل ثم یحبہ
أہل السماء ثم یوضع لہ القبول فی الأرض۔
(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2637)
’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اعلان کرتاہے اے جبریل میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں، تو اس سے جبریل علیہ السلام محبت کرنے لگتے ہیں پھر آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر روئے زمین میں اس کو مقبولیت حاصل ہوجاتی ہے۔‘‘
بہرحال اخروی مقام و مرتبہ کی طلب پر بلاچاہت و طلب دنیاوی مقام و مرتبہ حاصل ہو جاتا ہے، اس کے برعکس دنیاوی مقام و مرتبہ کی طلب پر اخروی مقام و مرتبہ نہیں حاصل ہوتا، سعادت مند وہ ہے جو باقی رہنے والی چیز کو فانی پر ترجیح دے۔ ابوالفتح بُستی کا قول ہے:
أمران مفترقان لست تراہما یتشوقان لخلطۃ و تلاقی
’’دو الگ الگ چیزیں ہیں جنھیں تم اکٹھا ہوتے اور ملتے ہوئے نہیں دیکھو گے۔‘‘
طلب المعاد مع الریاسۃ و العلی فدع الذی یفنی لما ہو باقی
(أمراض النفس: دیکھیے۔ انس کرزون: صفحہ 77)
’’دنیاوی سرداری و سربلندی کے ساتھ آخرت کی چاہت، اس لیے فانی کو باقی کی چاہت میں چھوڑ دو۔‘‘
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما ہمیں سکھلا رہے ہیں کہ رضائے الہٰی کی چاہت میں دنیاوی شہرت، حکومت، طاقت اور مقام و مرتبہ سے ہم کس طرح بے رغبت بنیں، دنیاوی معاملے سے دست برداری کے باعث سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی سربلندی و سرداری میں اضافہ ہو گیا، سیدنا حسنؓ ذاتی مفاد سے اوپر اٹھنے اور دوسروں کے لیے ایثار کی علامت بن گئے، نیز امت کے اتحاد اور خونریزی سے بچاؤ کی مصلحت کو کسی اور مصلحت پر مقدم کرنے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امت کے واسطے قابل فخر نمونہ بن گئے، مقام و مرتبہ کی شدید خواہش بہت سارے لوگوں کے دلوں میں انتہا کو پہنچ چکی ہے، اور وہاں تک پہنچنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے لیے بہت ساری طاقت اور اموال خرچ کرتے ہیں، دھوکہ بازی اور بہت سارے حیلوں کو اپناتے ہیں اور اسے مال کی چاہت پر درج ذیل اسباب کے باعث ترجیح دیتے ہیں:
1: اس لیے کہ مقام و منصب کے ذریعہ سے مال کے حصول تک پہنچنا بالمقابل مال کے ذریعہ سے مقام و منصب تک پہنچنے سے زیادہ آسان ہے، چنانچہ عالم یا پرہیزگار جسے لوگوں کے دلوں میں مقام و مرتبہ حاصل ہوچکا ہو اگر وہ مالدار بننا چاہے تو لوگ اسے اپنے مال اور عملی تعاون سے ایسا بنا دیں گے۔
2: مال ضائع یا ختم ہو سکتا ہے، اسے خطرات لاحق رہتے ہیں، لیکن مقام و مرتبہ جب دلوں میں داخل ہوجائے تو ان کا مالک ہو جاتا ہے اور مضبوطی سے ان میں جگہ بنا لیتا ہے، اسے کوئی خطرہ نہیں ہوتا الا یہ کہ کوئی ایسی بات ہو جائے جس سے صاحبِ جاہ کے بارے میں لوگوں کا نظریہ بدل جائے۔
3: دلوں کی حکومت بغیر پریشانی و مصیبت کے بڑھتی رہتی ہے، جب لوگوں کی نگاہ میں کوئی شخص جم جاتا ہے تو وہ لوگ بکثرت اس کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں، اس کی تعریف کرتے ہیں، اور ان کے مابین اس کی شہرت پھیل جاتی ہے۔
(أمراض النفس: صفحہ 77)
حب ذات اور حبِ جاہ کی خواہشوں کے مابین شدید تداخل ہے، اس تداخل سے بہت سی نفسانی بیماریاں جنم لیتی ہیں، ان میں سے بعض بیماریاں یہ ہیں، ریاکاری، گھمنڈ، لوگوں سے اپنے آپ کو برتر سمجھنا، خود پسندی، لوگوں کے مابین اپنی تعریف کی خواہش، انانیت، بخل، حسد، غصہ کی کثرت، دوسروں کے سامنے جھک جانا اور چاپلوسی کرنا وغیرہ۔ یہ حقیقت میں دل سے متعلق حرام چیزیں ہیں جن کو چھوڑنے کے لیے کتاب و سنت کی روشنی، اخلاقی تربیت اور مجاہدے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح جو دنیا والوں کے نزدیک مقام و مرتبہ چاہتا ہے، اور یہی اس کی مصروفیت رہتی ہے تو وہ ان لوگوں کے لیے اپنے دین اور عزتِ نفس کو قربان کر دیتا ہے، تاکہ اپنا مقصد حاصل کر لے، اور ان کے سامنے جھک جاتا ہے تاکہ ان کی رضامندی حاصل کر لے۔
(أمراض النفس: صفحہ 78-92)
اس سلسلے میں ابن تیمیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں:
’’اسی طرح روئے زمین میں ریاست و سرداری اور بلندی و سرفرازی کے طالب کا دل ان لوگوں کے لیے نرم ہوتا ہے جو اس کے اس سلسلے میں معاون و مددگار ہوتے ہیں، وہ اگرچہ بظاہر ان کا سربراہ اور فرمانروا ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ ان سے امید لگائے رہتا ہے، ان سے ڈرتا رہتا ہے، وہ بظاہر سردار اور فرمانروا ہے، لیکن حقیقت میں ان کا فرمانبردار و غلام ہوتا ہے۔‘‘
(العبودیۃ لابن تیمیۃ: صفحہ 48-49)
یہ بہت اہم بات ہے، اسلامی قائدین کو اسے اچھی طرح سمجھنا چاہیے، اور لوگوں کے ایسے مطالبات کے سامنے رقتِ قلب اور نرمی کا مظاہرہ بالکل نہ کریں جو دین و شریعت سے متصادم ہوں۔
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما ہمیں نفس کی خفیہ خواہشوں پر مبادی و قیم کو ترجیح دینا سکھلاتے ہیں۔ سیدنا حسنؓ کے بعض ساتھیوں نے (جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح نہیں چاہتے تھے) صلح کی شدید مخالفت کی، لیکن سیدنا حسنؓ نے ان کو بہت اچھا جواب دیا، انھیں ذاتی خواہش سے اوپر اٹھانے کی کوشش کی، نیز سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دست برداری کے لیے خونریزی سے بچاؤ، امت کا اتحاد، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس کی چاہت جیسے اسباب کو لوگوں کے سامنے بیان کیا ہے، اور اپنے عظیم منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے پوری امت کی قیادت میں سیدنا حسنؓ کامیاب رہے، قومی یا غیرقومی کسی طرح کے دباؤ کو قبول نہیں کیا، اور اللہ والے قائدین ایسا ہی کرتے ہیں۔
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کرنے میں حق بجانب، کامیاب، صحیح راہ پر اور قابل تعریف تھے، کسی طرح کے حرج، ملامت یا ندامت کا احساس نہیں کرتے تھے، بلکہ وہ اس پر راضی اور خوش تھے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 12 صفحہ 141)
سیدنا حسنؓ اپنے اوپر تنقید کرنے والوں کو مضبوط دلیل اور ادب سے بھرپور جواب دیتے تھے۔ چنانچہ ابوعامر سفیان بن لیل نے جب سیدنا حسنؓ سے کہا: اے مؤمنوں کو رسوا کرنے والے تم پر سلامتی ہو تو ان سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوعامر ایسا نہ کہو، میں مؤمنوں کو رسوا کرنے والا نہیں ہوں، لیکن حکومت کے لیے ان سے جنگ کرنا مجھے پسند نہیں تھا۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 12 صفحہ 141)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے قول: ’’العار خیر من النار‘‘
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 12 صفحہ 204)
(شرمندگی جہنم سے بہتر ہے) نے ہمارے لیے اللہ کی جانب متوجہ ہونے سے متعلق تفقہ کے وسیع دروازے کھولے ہیں، سیدنا حسنؓ اپنی زندگی میں اس پر عامل رہے، اور اس کے نتائج سے پوری طرح واقف تھے، اس بات کا ظہور سیدنا حسنؓ کی پسندیدہ چیزوں اور حرکات و سکنات سے ہوتا ہے