سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور حکومت سے بے رغبتی - دفاعِ اہلِ…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور حکومت سے بے رغبتی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

3: دلوں کی حکومت بغیر پریشانی و مصیبت کے بڑھتی رہتی ہے، جب لوگوں کی نگاہ میں کوئی شخص جم جاتا ہے تو وہ لوگ بکثرت اس کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں، اس کی تعریف کرتے ہیں، اور ان کے مابین اس کی شہرت پھیل جاتی ہے۔

(أمراض النفس: صفحہ 77)

حب ذات اور حبِ جاہ کی خواہشوں کے مابین شدید تداخل ہے، اس تداخل سے بہت سی نفسانی بیماریاں جنم لیتی ہیں، ان میں سے بعض بیماریاں یہ ہیں، ریاکاری، گھمنڈ، لوگوں سے اپنے آپ کو برتر سمجھنا، خود پسندی، لوگوں کے مابین اپنی تعریف کی خواہش، انانیت، بخل، حسد، غصہ کی کثرت، دوسروں کے سامنے جھک جانا اور چاپلوسی کرنا وغیرہ۔ یہ حقیقت میں دل سے متعلق حرام چیزیں ہیں جن کو چھوڑنے کے لیے کتاب و سنت کی روشنی، اخلاقی تربیت اور مجاہدے کی ضرورت ہے۔

اسی طرح جو دنیا والوں کے نزدیک مقام و مرتبہ چاہتا ہے، اور یہی اس کی مصروفیت رہتی ہے تو وہ ان لوگوں کے لیے اپنے دین اور عزتِ نفس کو قربان کر دیتا ہے، تاکہ اپنا مقصد حاصل کر لے، اور ان کے سامنے جھک جاتا ہے تاکہ ان کی رضامندی حاصل کر لے۔

(أمراض النفس: صفحہ 78-92)

اس سلسلے میں ابن تیمیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں:

’’اسی طرح روئے زمین میں ریاست و سرداری اور بلندی و سرفرازی کے طالب کا دل ان لوگوں کے لیے نرم ہوتا ہے جو اس کے اس سلسلے میں معاون و مددگار ہوتے ہیں، وہ اگرچہ بظاہر ان کا سربراہ اور فرمانروا ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ ان سے امید لگائے رہتا ہے، ان سے ڈرتا رہتا ہے، وہ بظاہر سردار اور فرمانروا ہے، لیکن حقیقت میں ان کا فرمانبردار و غلام ہوتا ہے۔‘‘

(العبودیۃ لابن تیمیۃ: صفحہ 48-49)

یہ بہت اہم بات ہے، اسلامی قائدین کو اسے اچھی طرح سمجھنا چاہیے، اور لوگوں کے ایسے مطالبات کے سامنے رقتِ قلب اور نرمی کا مظاہرہ بالکل نہ کریں جو دین و شریعت سے متصادم ہوں۔

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما ہمیں نفس کی خفیہ خواہشوں پر مبادی و قیم کو ترجیح دینا سکھلاتے ہیں۔ سیدنا حسنؓ کے بعض ساتھیوں نے (جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح نہیں چاہتے تھے) صلح کی شدید مخالفت کی، لیکن سیدنا حسنؓ نے ان کو بہت اچھا جواب دیا، انھیں ذاتی خواہش سے اوپر اٹھانے کی کوشش کی، نیز سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دست برداری کے لیے خونریزی سے بچاؤ، امت کا اتحاد، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس کی چاہت جیسے اسباب کو لوگوں کے سامنے بیان کیا ہے، اور اپنے عظیم منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے پوری امت کی قیادت میں سیدنا حسنؓ کامیاب رہے، قومی یا غیرقومی کسی طرح کے دباؤ کو قبول نہیں کیا، اور اللہ والے قائدین ایسا ہی کرتے ہیں۔

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کرنے میں حق بجانب، کامیاب، صحیح راہ پر اور قابل تعریف تھے، کسی طرح کے حرج، ملامت یا ندامت کا احساس نہیں کرتے تھے، بلکہ وہ اس پر راضی اور خوش تھے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 12 صفحہ 141)

سیدنا حسنؓ اپنے اوپر تنقید کرنے والوں کو مضبوط دلیل اور ادب سے بھرپور جواب دیتے تھے۔ چنانچہ ابوعامر سفیان بن لیل نے جب سیدنا حسنؓ سے کہا: اے مؤمنوں کو رسوا کرنے والے تم پر سلامتی ہو تو ان سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوعامر ایسا نہ کہو، میں مؤمنوں کو رسوا کرنے والا نہیں ہوں، لیکن حکومت کے لیے ان سے جنگ کرنا مجھے پسند نہیں تھا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 12 صفحہ 141)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے قول: ’’العار خیر من النار‘‘ 

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 12 صفحہ 204)

 (شرمندگی جہنم سے بہتر ہے) نے ہمارے لیے اللہ کی جانب متوجہ ہونے سے متعلق تفقہ کے وسیع دروازے کھولے ہیں، سیدنا حسنؓ اپنی زندگی میں اس پر عامل رہے، اور اس کے نتائج سے پوری طرح واقف تھے، اس بات کا ظہور سیدنا حسنؓ کی پسندیدہ چیزوں اور حرکات و سکنات سے ہوتا ہے


صفحہ 2 از 2