Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

صلح کے بعد حسن رضی اللہ عنہ کی مدنی زندگی

  علی محمد الصلابی

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دست برداری کے بعد سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کوفہ چھوڑ دیا، سیدنا حسنؓ کے ساتھ آپ کے جو ساتھی اور بنوہاشم کے لوگ تھے ان کو لے کر آپ مدینہ چلے آئے اور وہیں قیام پذیر ہو گئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بنوہاشم کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے، حالاں کہ ان کے قائد حسن بن علی رضی اللہ عنہما تھے، اس وقت مدینہ میں بہت سے علماء صحابہ اور ایسے بہت سے تابعین قیام پذیر تھے جو علماء صحابہؓ کے شاگرد تھے اور انھی کے نقش قدم پر چل رہے تھے۔ یہ لوگ انصار و مہاجرین اور دوسرے لوگوں کا مجموعہ تھے۔ عبادت، لوگوں کی تعلیم اور یاد کردہ حدیثوں کی روایت ان کا اصل مقصد تھا، جو پوری امت کرتی تھی وہی یہ لوگ بھی کرتے تھے، کسی بھی جماعت سے اپنا ہاتھ نہیں کھینچتے تھے، انھی میں سے عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس، ابوہریرہ، ابوسعید خدری اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم تھے،

(تاریخ الطبری: جلد 6 صفحہ 80، المدینۃ فی العصر الأموی: صفحہ 84، شرّاب)

علمی زندگی کے لیے مدینہ کی فضا بہتر تھی، اس لیے کہ اس میں علم کے طالب روایتِ حدیث، تفسیر قرآن اور احکام فقہیہ کے استنباط کے لیے فارغ تھے، اس لیے علم کے لیے لوگ وہاں جاتے تھے، وہاں سکون و اطمینان تھا جو علم و تحقیق کے لیے معاون ہوتا ہے۔

(المدینۃ فی العصر الأموی: صفحہ 62 شرّاب)