فتویٰ تکفیر روافض (از حضرت مجدد الف ثانی رحمۃاللہ) - ردِ…

فتویٰ تکفیر روافض (از حضرت مجدد الف ثانی رحمۃاللہ)

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 2

جو روافض اصحابؓ و ازواجِ رسول اللہﷺ کو علانیہ گالیاں دیتے اور لعنت و تبرّ اوردِ زبان رکھتے اور قرآنِ کریم کا انکار کرتے ہیں بلاشبہ کافر ہیں ان کی تکفیر کے فتاویٰ علماءِ ہند و پاک ہی سے نہیں بلکہ علمائے حرمین شریفین سے صادر ہو چکے ہیں، لیکن ذیل میں ہم صرف چند بزرگانِ اسلام اہلِ باطن کی وہ تحریرات درج کرتے ہیں جو انہوں نے غالی روافض کی تکفیر کے متعلق لکھی ہیں سب سے پہلے حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃاللہ کے دو مکتوب لکھے جاتے ہیں۔

از مکتوبات مترجم اُردو:

یقینی طور پر تصور فرمائیں کہ بدعتی کی صحبت کا فساد کافر کی صحبت سے زیادہ مؤثر ہے اور تمام بدعتی فرقوں میں بدتر اس گروہ کے لوگ ہیں جو پیغمبرﷺ کے اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بغض رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں ان کا نام کفار رکھا ہے: لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌ الخ۔

(سورۃ الفتح: آیت 29)

قرآن اور شریعت کی تبلیغ اصحابِ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ہی کی ہے اگر ان پر طعن لگائیں تو قرآن اور شریعت پر طعن آتا ہے قرآن کو حضرت عثمانؓ نے جمع کیا ہے اگر سیدنا عثمانؓ مطعون ہے تو قرآنِ مجید بھی مطعون ہے حق تعالیٰ ان زندیقوں کے ایسے اتقاد سے بچائے۔ مخالفت اور جھگڑے میں جو اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان واقعہ ہوئے ہیں نفسانی خواہشوں پر محمول نہیں ہے کیونکہ خیر البشرﷺ کی صحبت میں ان کے نفسوں کا تزکیہ ہو چکا تھا اور ان کا نفس امارہ پن سے آزاد ہو گیا تھا اس قدر جانتا ہوں کہ حضرت امیرؓ اس بارہ میں حق پر تھے ان کی مخالفت خطاء پر لیکن یہ خطاء اجتہادی ہے فسق کی حد تک نہیں پہنچاتی بلکہ اس قسم کی خطاء میں ملامت کی مجال نہیں (جو جھگڑے بعد از خلاف اصحابِ ثلاثہؓ واقع ہوئے)

کیونکہ خطاء کرنے والے کو بھی ایک درجہ ثواب کا حاصل ہے اور کمبخت یزید، اصحابؓ سے نہیں ہے اس کی بدبختی میں کسی کو کلام نہیں جو کام اس بدبخت نے کیا ہے کافر بھی نہیں کرتا اہلِ سنت والجماعت میں سے بعض علماء نے اس کو لعنت کرنے پر توقف کیا ہے تو اس لحاظ سے نہیں کہ وہ اس سے راضی ہیں بلکہ اس کے رجوع اور توبہ کے احتمال پر ہے۔ 

مکتوب نمبر 80:

تہتر (73) فرقوں میں سے ہر ایک فرقہ شریعت کی تابعداری کا مدعی ہے اور اپنی نجات کا دعویٰ کرتا ہے لیکن وہ دلیل جو پیغمبر صادقﷺ کے ان متعدد فرقوں میں سے ایک فرقہ ناجیہ کی تمیز کے لیے بیان فرمائی ہے، یہ ہے:

الَّذِينَ هُمْ عَلَى مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِی۔

دو یعنی فرقہ ناجیہ وہ لوگ ہیں جو اس طریق پر ہوں، جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں۔

اصحابؓ کا ذکر صاحبِ شریعتﷺ کے کافی ہونے کے باوجود اس مقام میں اس واسطے ہو سکتا ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ میرا طریقہ بعینہ اصحابؓ کا طریق ہے اور نجات کا راستہ صرف ان کے طریق سے وابستہ ہے جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

مَنۡ يُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰهَ ‌الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 80)

ترجمہ: پس رسول کی اطاعت عین حق کی اطاعت ہے اور ان کی مخالفت مین حق تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔

جن لوگوں نے خدا تعالیٰ کی اطاعت کو رسول اللہﷺ کی اطاعت کے خلاف تصور کیا ہے حق تعالیٰ نے ان کے حال کی خبر دی ہے اور ان پر کفر کا حکم لگایا ہے، حق تعالیٰ فرماتا ہے:

وَيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يُّفَرِّقُوۡا بَيۡنَ اللّٰهِ وَرُسُلِهٖ وَيَقُوۡلُوۡنَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَّنَكۡفُرُ بِبَعۡضٍ وَّيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّتَّخِذُوۡا بَيۡنَ ذٰ لِكَ سَبِيۡلًا ۞

(سورۃ النساء: آیت 150)

اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡـكٰفِرُوۡنَ حَقًّا‌ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 151)

ترجمہ: اور ارادہ کرتے ہیں اللہ اور اس کے درمیان فرق ڈالیں اور کہتے ہیں کہ بعض کے ساتھ ہم ایمان لاتے اور بعض سے ہم انکار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے درمیان راستہ اختیار کر لیں یہی لوگ پکے کافر ہیں۔ 

پس مذکورہ بالا صورت میں اصحابِ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طریق و تابعداری کے برخلاف حضورِ اکرمﷺ کی تابعداری کا دعویٰ کرنا باطل اور جھوٹا ہے بلکہ حقیقت میں وہ اتباع رسول اللہﷺ کی عین نافرمانی ہے پس اس مخالف طریق میں نجات کی کیا مجال۔

وَيَحۡسَبُوۡنَ اَنَّهُمۡ عَلٰى شَىۡءٍ‌ اَلَاۤ اِنَّهُمۡ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ۞

(سورۃ المجادلہ: آیت 18)

ترجمہ: اور گمان کرتے ہیں یہ کہ وہ اوپر کسی چیز کے ہیں خبردار تحقیق وہی جھوٹے ہیں۔

ان کے حال کے موافق ہے اور اس میں شک نہیں کہ وہ فرقہ جس نے آنحضرتﷺ کی تابعداری کو لازم پکڑا ہے اہلِ سنت و الجماعت ہی ہیں خدائے تعالیٰ ان کی سعی کو مشکور فرمائے پس یہی لوگ فرقہ ناجیہ ہیں کیونکہ پیغمبرﷺ کے اصحابؓ کو طعنہ لگانے والے ان کی اتباع سے محروم ہیں جیسے کہ شیعہ خارجیہ اور معتزلہ جو مذہب نیا رکھتے ہیں ان کا رئیس واصل بن عطاء سیدنا حسن بصری رحمۃاللہ کے شاگردوں میں سے تھے جو ایمان اور کفر کے درمیان واسطہ ثابت کرنے کے باعث امام سے جدا ہو گیا اور امام صاحب نے اس کے حق میں فرمایا: اعتزل عنا (ہم سے جدا ہو گیا) اسی طرح باقی فرقوں کو خیال کر لو۔ 

مَا آمَنَ بِرَسُولِ اللهِ مَنْ لَّمْ يُوقَرُ أَصْحَابَهُ۔

صفحہ 1 از 2