فتویٰ تکفیر روافض (از حضرت مجدد الف ثانی رحمۃاللہ) - ردِ…

فتویٰ تکفیر روافض (از حضرت مجدد الف ثانی رحمۃاللہ)

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 2

ترجمہ: جس نے اصحابؓ کی تعظیم نہیں کی وہ رسول اللہﷺ پر ایمان نہیں لایا کیونکہ ان کا حسد ان کے صاحب کے حسد تک پہنچا دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس بُرے اعتقاد سے بچائے اور نیز جو قرآن و حدیث سے ہم تک پہنچے ہیں، وہ انہی کی نقل کے وسیلہ سے ہیں جب یہ مطعون ہوں گے تو ان کی نقل بھی مطعون ہوگی کیونکہ یہ نقل ایسی نہیں کہ بعض کے سوا بعض کے ساتھ مخصوص ہو بلکہ سب کے سب عدل اور صدق اور تبلیغ میں برابر ہیں پس ان میں سے کسی کا طعن دین کے طعن کو مستلزم ہے اللہ تعالیٰ اس سے بچائے اگر طعنہ دینے والے یہ کہیں کہ ہم بھی اصحابؓ کی متابعت کرتے ہیں یہ لازم نہیں کہ ہم سب اصحابؓ کے تابع ہوں بلکہ ان کی راؤں کے متضاد ہونے اور مذہبوں کے اختلاف کے باعث سب کی تابعداری ممکن نہیں تو اس کا جواب ہم دیتے ہیں کہ بعض کی متابعت اس وقت فائدہ مند ہو سکتی ہے جب کہ بعض کا انکار ان کے ساتھ شامل نہ ہو ورنہ بعض کا انکار کرنے سے بعض کی متابعت ثابت نہیں ہوتی کیونکہ حضرت امیرؓ نے خلفائے ثلاثہؓ کی عزت و تعظیم کی ہے اور ان کو اقتداء کے لائق جان کر ان سے بیعت کی ہے پس خلفائے ثلاثہؓ کا انکار کرنا اور جناب امیرؓ کی متابعت کا دعویٰ کرنا محض افتراء ہے بلکہ یہ انکار در حقیقت حضرت امیرؓ کا انکار ہے اور ان کے اقوال و افعال کا صریح رد ہے اور تقیہ کے احتمال کو حضرت اسد اللہ کے حق میں دخل دینا بڑی بے وقوفی ہے عقل صحیح ہرگز اس کو جائز نہیں سمجھتی کہ حضرت اسد اللہ باوجود کمال معرفت و شجاعت کے خلفائے ثلاثہؓ کے بغض کو تھیں سال تک پوشیدہ رکھیں اور ان کے برخلاف کچھ ظاہر نہ کریں اور منافقانہ صحبت ان کے ساتھ رکھیں حالانکہ کسی ادنیٰ مسلمان سے اس قسم کا نفاق متصور نہیں ہو سکتا اس فعل کی حقیقت کو معلوم کرنا چاہیے کہ حضرت امیرؓ کے حق میں تقیہ جائز بھی سمجھا جائے تو وہ تعظیم و توقیر جو حضرت پیغمبرﷺ خلفائے ثلاثہؓ کی کرتے تھے اور ابتداء سے انتہاء تک ان کو بزرگ جانتے رہے ہیں اس کا کیا جواب دیں گے وہاں تقیہ کی گنجائش نہیں حق امر کی تبلیغ پیغمبرﷺ پر واجب ہے وہاں تقیہ کو دخل دینا زندقہ تک پہنچا دیتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

يٰۤـاَيُّهَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ‌ وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسٰلَـتَهٗ‌ وَاللّٰهُ يَعۡصِمُكَ مِنَ النَّاسِ‌ الخ۔

(سورۃ المائدہ: آیت 67)

 ترجمہ: اے میرے رسول! جو کچھ تجھ پر تیرے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اس کو پہنچا دے اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو رسالت کا حق ادا نہیں کیا اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا۔

کفار کہا کرتے تھے کہ محمدﷺ اس وحی کو جو اس کے موافق ہو، ظاہر کر دیتا ہے اور جو اس کے مخالف ہو اس کو ظاہر نہیں کرتا اور اس کو پوشیدہ رکھتا ہے اور یہ ثابت ہے کہ نبی کو خطاء پر مقرر رکھنا جائز نہیں، ورنہ اس کی شرافت میں خلل پیدا ہو جاتا ہے پس سب خلفائے ثلاثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعظیم و توقیر کے خلاف آنحضرتﷺ سے ظاہر نہیں ہوا تو معلوم ہوا کہ ان کی تعظیم خطاء اور زوال سے محفوظ تھی۔

اب ہم اصل بات کو بیان کرتے ہیں اور ان کے اعتراض کا جواب ذرا صاف طور پر لکھتے ہیں کہ تمام اصحابؓ کی متابعت دین کے اصول کے متعلق لازم ہے اور وہ ہرگز اختلاف نہیں رکھتے اگر اختلاف ہے تو فروع میں ہے اور جو اُن میں سے بعض کو طعن کرتا ہے وہ سب کی متابعت سے محروم ہے ہر چند ان کا کلمہ متفق ہے مگر دین کے بزرگواروں کے انکار کی بدبختی اختلاف میں ڈال دیتی ہے اور اتفاق سے باہر نکال دیتی ہے بلکہ قائل کا اذکار اس کے اقوال کے انکار تک پہنچا دیتا ہے اور نیز شریعت کے پہنچانے والے سب اصحابؓ ہی ہیں جیسا کہ ذکر ہو چکا کیونکہ سب کے سب اصحابؓ عادل تھے۔ ہر ایک نے کچھ نہ کچھ شریعت ہم تک پہنچائی ہے اور ایسے ہی قرآن بھی ہر ایک سے کچھ نہ کچھ لے کر جمع کیا گیا ہے پس بعض کا انکار منکر کے مادہ میں ثابت ہوتا ہے پھر کس طرح نجات اور خلاصی کی اُمید ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اَفَتُؤۡمِنُوۡنَ بِبَعۡضِ الۡكِتٰبِ وَتَكۡفُرُوۡنَ بِبَعۡضٍ‌ فَمَا جَزَآءُ مَنۡ يَّفۡعَلُ ذٰلِكَ مِنۡکُمۡ اِلَّا خِزۡىٌ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يُرَدُّوۡنَ اِلٰٓى اَشَدِّ الۡعَذَابِ‌ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 85)

ترجمہ: کیا تم بعض کتابوں پر ایمان لاتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو نہیں جو شخص تم میں سے ایسا کرتے ہیں ان کی جزاء اس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا میں خوار و ذلیل ہوں اور آخرت میں سخت عذاب کی طرف کھینچے جائیں۔

یا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن حضرت عثمانؓ کا جمع کیا ہوا ہے، بلکہ درحقیقت جامع القرآن حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت فاروقؓ بھی ہیں اور حضرت امیرؓ کا جمع قرآن کے سوا ہے پس سوچنا چاہیے کہ ان بزرگوں کا انکار در حقیقت قرآن کا انکار ہے۔ (نعوذ باللہ)

ایک شخص نے شیعہ کے ایک مجتہد سے سوال کیا کہ قرآن حضرت عثمانِ غنیؓ کا جمع کیا ہوا ہے آپ کا اس کے حق میں کیا اعتقاد ہے؟ اس نے کہا میں اس کے انکار میں مصلحت نہیں دیکھتا، کہ اس کے انکار سے تمام دین درہم برہم ہو جاتا ہے دیگر عاقل آدمی ہرگز انکار نہیں کر سکتا کہ آنحضرتﷺ کے اصحابؓ حضورﷺ کی رحلت کے دن 33 ہزار اصحابؓ حاضر تھے جنہوں نے رضا و رغبت سے حضرت صدیقِ اکبرؓ کی بیعت کی اتنے اصحابؓ کا گمراہی پر اجماع ہونا محال ہے حالانکہ حضورﷺ نے فرمایا ہے: لَا تَجْتَمِعُ امتی عَلَى الضَّلَالَةِ (أنتهى من غنيّة)



صفحہ 2 از 2