سیدنا حسن، حسین اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے روابط
علی محمد الصلابیسیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے لیے ایک لاکھ کا حکم دیا، آپ تک پہنچایا گیا تو اپنے پاس موجود لوگوں سے آپ نے کہا: تم میں سے جو جتنا لے لے وہ اس کا ہے، اور سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے لیے ایک لاکھ کا حکم دیا، آپ تک پہنچایا گیا تو آپ نے اپنے پاس موجود دس آدمیوں پر دس دس ہزار تقسیم کر دیے، اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کے لیے بھی ایک لاکھ کا حکم دیا۔
(تاریخ دمشق: جلد 62 صفحہ 133)
سیدنا معاویہؓ جب بھی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے ملتے تو ان کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے کہتے: نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید ہو اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ملتے تو ان کا بھی اچھی طرح استقبال کرتے ہوئے کہتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی کو خوش آمدید ہو، اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے لیے تین لاکھ، اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے لیے ایک لاکھ کا حکم دیا۔
(تاریخ دمشق: جلد 62 صفحہ 133)
حسن سند سے مروی بعض روایات میں وارد ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے مسلسل رابطے میں رہتے تھے، ان کی ضروریات اور مطالبات کو فوراً پورا کرتے اور کافی مقدار میں انھیں عطیات دیتے تھے،
(مصنف ابن أبی شیبۃ: جلد 11 صفحہ 94، اس کی سند حسن ہے۔ مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزید بن معاویۃ حول الحسین: صفحہ 177)
شیعہ حضرات نے خود سیدنا حسن، حسین اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عطیات کا اعتراف کیا ہے۔
(جلاء العیون للمجلسی: صفحہ 376، والکافی فی الفروع کتاب الحقیقۃ باب الأسماء و الکنی: جلد 6 صفحہ 19، الأمالی للطوسی: جلد 22 صفحہ 334، شرح ابن أبی الحدید: جلد 2 صفحہ 823، اور ڈاکٹر محمد شیبانی نے اپنی کتاب: مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزید حول الحسین صفحہ 177 میں اس کی تفصیل ذکر کی ہے۔)
قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے روابط اچھے تھے، طرفین کے تعلقات عزت و احترام پر مبنی تھے، کوفہ سے نکل کر مدینہ میں قیام کرنے کے بعد سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے ساتھ اہل کوفہ کے تعلقات منقطع نہیں ہوئے تھے، بلکہ طرفین کے تعلقات ان خطوط کے توسط سے باقی تھے جنھیں اہل کوفہ بھیجتے رہتے تھے، وہ خطوط موجودہ حکومت کی مخالفت کی دعوت اور خلافت کے لیے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے زیادہ حق دار ہونے اور لوگوں کو اس پر آمادہ کرنے پر مشتمل ہوا کرتے تھے، یہ خطوط سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو متاثر نہ کر سکے، بلکہ انھیں کوفہ کے شیعوں کے بارے میں واضح تصور اور تاثر دیا، اور آگاہ کیا کہ وہ فتنہ و فساد والے ہیں، امت کا اتحاد و اتفاق نہیں چاہتے۔
(مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزید بن معاویۃ حول الحسین: صفحہ 178)
یزید بن اصم کہتے ہیں: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس خطوط کا ایک بنڈل پہنچ چکا تھا تو آپ نے کہا: اے لونڈی لگن لے کر آ، وہ لے کر آئی اور پانی ڈال دیا، اور سیدنا حسنؓ نے ان تمام خطوط کو اس پانی میں ڈال دیا، اس میں سے ایک خط بھی نہیں کھولا اور نہ ہی اسے پڑھا، میں نے پوچھا: اے ابومحمد! یہ خطوط کن کے پاس سے آئے تھے؟ کہا: اہل عراق کے پاس سے، ایسی قوم کے پاس سے جو باطل سے باز آ کر حق کی جانب رجوع کرنے والی نہیں ہے، میں ان سے اپنے بارے میں نہیں لیکن ان کے بارے میں ڈرتا ہوں، اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی جانب اشارہ کیا۔
(المعرفۃ و التاریخ: جلد 2 صفحہ 756، اس کی سند حسن ہے، معجم الکبیر للطبرانی و قال المجمع الزوائد: جلد 6 صفحہ 243)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد شیعہ سلیمان بن صرد کے مکان پر اکٹھے ہوئے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات پر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے پاس تعزیت کا خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا: ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جانے والے کے بالمقابل عظیم ترین اخلاق سے نوازا ہے، ہم آپ کے شیعہ (ہم نوا) ہیں، آپ کی مصیبت ہماری مصیبت، آپ کا غم ہمارا غم، آپ کی خوشی ہماری خوشی ہے، ہم آپ کے حکم کے منتظر ہیں۔
(أنساب الاشراف: جلد 3 صفحہ 152، الأخبار الطوال: صفحہ 221، 222)
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے ان کے خط کا جواب دیا: مجھے امید ہے کہ خلافت سے علیحدگی کے بارے میں میرے بھائی کی رائے اور ظالموں سے جہاد کے بارے میں میری رائے درست ہے، جب تک ابن ہند (معاویہ رضی اللہ عنہ) زندہ ہیں، زمین دوز ہو کر روپوش ہوجاؤ، اپنی خواہش کو چھپائے رکھو، زمین کی کشادگیوں میں رہ کر محتاط رہو، اگر ان کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور میں زندہ رہتا ہوں تو ان شاء اللہ تم تک میری رائے پہنچے گی۔
(الأنساب الاشراف: جلد 3 صفحہ 152)، الأخبار الطوال: صفحہ 221، 222، مواقف المعارضۃ: صفحہ 179)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد مسلمانوں کے نزدیک سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا اہم مقام تھا، لوگوں کا یہ خیال کافی مضبوط تھا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد خلافت کے تنہا امیدوار سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ہیں، کبار اہل حجاز اور زعمائے کوفہ آپ سے ملنے آیا کرتے تھے، انھیں یقین تھا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد وہی خلیفہ ہوں گے۔
(أنساب الأشراف: جلد 3 صفحہ 152، نقلا عن مواقف الصحابۃ فی خلافۃ یزید: صفحہ 179)
کوفیوں نے اپنی کوشش میں صرف سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو بلانے ہی پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ انھوں نے محمد بن حنفیہ کو بھی اپنے پاس آنے کی دعوت دی، لیکن وہ اپنے اور آلِ علی سے متعلق اہل کوفہ کی خطرناکی کو تاڑ گئے، چنانچہ ان کے پیچھے بھاگنے اور ان کے باطل خیالات کی تصدیق سے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو آگاہ کرنے لگے، انھوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے ہی ذریعہ سے اپنی روزی روٹی چلائیں اور ہمارا ہی خون بہائیں۔
(الطبقات لابن سعد: جلد 5 صفحہ 356)
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور اہل کوفہ کے مابین خط و کتابت سے مدینہ میں بنوامیہ کو اندیشے لاحق ہوگئے، چنانچہ انھوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں مشورہ طلب کرنے کے لیے معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا، جواباً انھوں نے ان لوگوں کو لکھا کہ ان سے بالکل کوئی تعرض نہ کرو۔
(أنساب الأشراف: جلد 3 صفحہ 152، مواقف المعارضۃ: صفحہ 180)
وہ خطوط، نیز سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور کوفیوں کے مابین مضبوط تعلقات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مخفی رہیں ایسا ممکن نہیں تھا، اسی لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کرتے تھے کہ وہ اللہ سے ڈریں، مسلمانوں میں اختلاف نہ پیدا کریں، اور مسلمانوں کے معاملے میں اللہ کا حوالہ دے کر انھیں نصیحت کرتے تھے۔
(أنساب الأشراف: جلد 3 صفحہ 152، مواقف المعارضۃ: صفحہ 180)
سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما اپنے عہد میں مخلص تھے، سیدنا معاویہؓ کے لیے دونوں اپنی بیعت پر قائم رہے، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی رائے میں سیدنا حسن و معاویہ رضی اللہ عنہما کی زندگی میں، اسی طرح بھائی کی وفات کے بعد صلح ان پر لازم و ضروری ہے۔