قرآن کا معجزہ (کوئی شیعہ حافظ نہیں ہو سکتا)
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہقرآن کریم کا دعویٰ ہے کہ:
لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الۡمُطَهَّرُوۡنَ۞
(سورۃ الواقعہ: آیت 79)
ترجمہ: اس کو ناپاک مس بھی نہیں کر سکتے یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں کے سینوں میں جامعینِ قرآن (خلفائے ثلاثہؓ) کا بغض بھرا ہوا ہے ان میں خدا کی پاک کتاب کا نقش جم نہیں سکتا قرآنِ پاک کا یہ معجزہ مانا ہوا ہے کہ شیعہ میں کوئی حافظ قرآن ہو نہیں سکتا۔ بارہا اہلِ سنت کی طرف سے اعلان ہو چکا ہے اور انعامی اشتہار بھی شائع ہو چکے ہیں کہ شیعہ میں سے کوئی مردِ میدان ایسا نکلے جو اہلِ سنت کے اس دعویٰ کو باطل کر سکے لیکن کبھی کسی شیعہ کی جرأت نہیں ہو سکی۔ یوں تو گھر بیٹھ کر عوام میں شیعہ صاحبان یہ ڈینگ مار دیا کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں بہت سے حافظ موجود ہیں لیکن شیعہ مشن کے واحد آرگن رسالہ اصلاح نمبر 6 جلد 28 ماه جمادی الآخر 1344ھ صفحہ 33، 35) میں ایک مضمون بعنوانِ "شیعہ حافظ قرآن" شائع ہوا ہے جس نے ڈھول کا پول ظاہر کر دیا ہے اس مضمون میں ایڑی چوٹی کا زور مار کر تمام شیعی دنیا کی مرد شماری پر سرسری نظر کرتے ہوئے تین اشخاص کا نام لکھا گیا ہے جن کی نسبت حافظِ قرآن ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ وہ نام یہ ہیں:
1: حافظ مولوی فیاض حسین میرٹھی
2: حافظ میر کاظم ساکن نگینہ ضلع بجنور
3: حافظ مولوی کفایت حسین پشاوری۔
یہ بات مسلم ہے کہ طول و عرض ہند و پنجاب میں لاکھوں کی تعداد میں شیعہ آباد ہیں ان میں اگر بفرضِ محال تین شخص حافظ ہوں بھی تو بحکم النادر كالمعدوم اہلِ سنت کے دعویٰ کی تردید نہیں ہوسکتی بفضلِ خدا اہلِ سنت والجماعت میں لاکھوں کی تعداد سے حافظِ قرآن اس وقت موجود ہیں پھر شیعہ کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے ان کا رسالہ "اصلاح بہت مبالغہ سے کام لیتا ہوا بھی صرف تین کی تعداد لکھ سکا ہے لیکن یہ بھی اصلاح کے ایڈیٹر صاحب کا تقیہ (جھوٹ) ہے کیونکہ ان تین میں سے آخری نام کفایت حسین کو ہم خوب جانتے ہیں چکوال کے جلسہ میں اس کو چیلنج دیا گیا تھا کہ میدان میں نکل کر اہلِ سنت و الجماعت کے مقابلہ میں ایک پارہ قرآن مجید سنا دے لیکن کفایت حسین کو ہرگز اس کی جرأت نہ ہوئی اور وہ راتوں رات وہاں سے بھاگ گیا پھر چک بیلی خان تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی میں بھی یہی شخص شیعوں نے علماءِ اہثل سنت سے مناظرہ کے لیے بلوایا لیکن کھڑے ہو کر آیت کا ایک آدھ ہی ٹکڑا پڑھا وہ بھی غلط
اِلَّا فِىۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ۞
(سورۃ الانعام: آیت 59) کو وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٌ غلط پڑھا ٹوکنے پر ایسا شرمندہ ہوا کہ فوراً منبر سے اتر کر بھاگ گیا۔