سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری ایام - دفاعِ اہلِ…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری ایام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

مدینہ کی زندگی میں انھیں کئی بار زہر دیا گیا، جب آخری بار زہر دیا گیا تو طبیب آیا اور کہا: زہر نے سیدنا حسنؓ کی آنتوں کو کاٹ کر رکھ دیا ہے۔

(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 97-98)

عمیر بن اسحاق کہتے ہیں: میں اور قریش کا ایک آدمی دونوں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، آپ اٹھے اور بیت الخلاء میں داخل ہوئے، پھر نکل کر کہا: میرے کلیجہ کا ایک ٹکڑا گرا ہے، جسے میں اس چھڑی سے الٹ پلٹ رہا تھا، مجھے کئی بار زہر دیا گیا، اس مرتبہ کا زہر سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ عمیر بن اسحاق کہتے ہیں: اس قرشی آدمی سے سیدنا حسنؓ کہنے لگے: مجھ سے مانگ لو قبل اس کے کہ مانگنے کا موقع نہ رہ جائے، اس نے کہا: اللہ آپ کو اچھا کر دے میں آپ سے کچھ نہیں مانگ رہا ہوں، عمیر بن اسحاق کہتے ہیں: ہم سیدنا حسنؓ کے پاس سے چلے آئے، دوسرے دن سیدنا حسنؓ کے پاس گئے تو آپ جاں کنی کی حالت میں تھے، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے اور سر کے پاس بیٹھ گئے اور پوچھا: بھائی جان! آپ کو زہر دینے والا کون ہے؟ پوچھا: تم اسے قتل کرنا چاہتے ہو؟ کہا: ہاں، انھوں نے کہا: اگر مجھے زہر دینے والا وہی ہے جسے میں سوچ رہا ہوں تو بلاشبہ میرے لیے بدلہ لینے میں اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ سخت ہے اور اگر وہ نہیں ہے تو مجھے پسند نہیں کہ میری وجہ سے کسی بَری شخص کو قتل کر دو۔

(الطبقات: تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 335، اس کی سند ضعیف ہے۔)

ا: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے لیے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وصیت:

ابن عبدالبر کہتے ہیں: کئی طرق سے ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ سیدنا حسنؓ کی وفات جب قریب ہوئی تو اپنے بھائی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے کہا: اے بھائی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو ہمارے والد کی نگاہ اس خلافت پر تھی، انھیں امید تھی کہ وہی صاحب خلافت ہوں گے، لیکن من جانب اللہ انھیں خلافت نہ مل سکی، خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوئے، جب سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی وفات قریب ہوئی تب بھی ان کی نگاہ اس پر تھی، لیکن ان کے بجائے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خلافت ملی، جب سیدنا عمر فاروقؓ جاں کنی کے عالم میں ہوئے انھوں نے خلافت چھ رکنی شوریٰ کے حوالے کر دی جس کے ایک ممبر وہ بھی تھے، انھیں یقین تھا کہ خلافت انھی کو ملے گی، لیکن ان کے بجائے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دی گئی، جب سیدنا عثمانؓ کی وفات ہوئی تو آپ کے لیے خلافت کی بیعت کی گئی، پھر خلافت ان سے چھینی جانے لگی تو تلوار نکال لی اور اسے طلب کرنے لگے، اس کے بعد نزاع سے پاک و صاف آپ کی خلافت نہیں رہی، اللہ کی قسم میرے رائے میں ہم اہل بیت میں اللہ تعالیٰ نبوت و خلافت کو جمع نہیں کرے گا، تمھارے حق میں بے وقوف کوفیوں کا تمھیں بھڑکانے اور خروج پر آمادہ کرنے کو میں برداشت نہیں کروں گا۔

(الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 391)

ابن عبدالبر نے اپنی روایت کی سندوں کو ذکر نہیں کیا اور حدیث کے متن میں نکارت ہے، ساتھ ہی ساتھ یہ حدیث خلافت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو مقدم کرنے کی ثابت شدہ حقیقت کے منافی ہے، سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی سیرت سے متعلق اپنی دونوں کتابوں میں میں نے اس چیز کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔

ب: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا آسمان کی نشانیوں میں غور و فکر کرنا اور اپنی جان کے جانے پر اللہ کے پاس ثواب کی توقع کے ساتھ صبر کرنا:

جب حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی وفات کا وقت قریب آیا تو کہا: مجھے صحن میں کر دو، تاکہ میں آسمان کی نشانیوں میں غور و فکر کروں، چنانچہ انھیں وہاں کر دیا گیا، آپ نے سر اٹھا کر دیکھا اور کہا: میں اپنی جان کے جانے پر اے اللہ! تیرے پاس ثواب کی توقع کے ساتھ صبر کر رہا ہوں، بلاشبہ میری جان مجھے سب سے عزیز ہے، اللہ کا ان کے ساتھ احسان یہ تھا کہ انھوں نے اپنی جان کے جانے پر اللہ کے پاس ثواب کی توقع کے ساتھ صبر کیا۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 209)

ایک دوسری روایت میں ہے: اے اللہ! میں اپنی جان کے جانے پر تیرے پاس ثواب کی توقع کے ساتھ صبر کر رہا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر اس جیسی مصیبت مجھے لاحق نہیں ہوئی۔

(صفۃ الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 762)

اس خوفناک منظر اور عظیم مؤقف سے پتہ چلتا ہے کہ سچے دل سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ صرف اللہ کی جانب متوجہ تھے جو اپنی کبریائی، عظمت و طاقت میں منفرد ہے، ان عبارتوں سے اللہ کے لیے خشوع و خضوع، اسی سے مکمل امید باندھنے اور صرف اللہ سے دل لگانے کے معانی کے چشمے پھوٹتے ہیں اس لیے ہمیں غیر اللہ سے اپنے دلوں کو نہیں لگانا چاہیے۔ اسی طرح وہ دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں تب بھی آسمانوں کی مخلوقات اور ان کی نشانیوں میں غور و فکر کرنے کی عبادت کو نہیں بھول رہے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے 

اِنَّ فِىۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِى الۡاَلۡبَابِ ۞(سورۃ آل عمران آیت 190)

ترجمہ: بیشک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات دن کے بار بار آنے جانے میں ان عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔

پھر اپنی جان پر غور کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ آپ کو سب سے زیادہ محبوب تھی، اس کے جانے پر اللہ کے پاس ثواب کی توقع کے ساتھ صبر کیا:

وَفِىۡۤ اَنۡفُسِكُمۡ‌ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ۞(سورۃ نمبر الذاريات آیت 21)

ترجمہ: اور خود تمہارے اپنے وجود میں بھی۔ کیا پھر بھی تمہیں دکھائی نہیں دیتا ؟

صفحہ 1 از 4