سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری ایام - دفاعِ اہلِ…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری ایام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 4

بلاشبہ کائنات و ذات میں اور نظر آنے والی اللہ کی نشانیوں میں غور و فکر کرنا، ایمان کا نہایت مضبوط و قوی ذریعہ ہے، اس لیے کہ ان چیزوں میں پیدا کرنے والے اللہ کی ایسی عظمت ہوتی ہے جو ان کے خالق کی قدرت و عظمت کا پتہ دیتی ہے، اور اس لیے بھی کہ ان میں عقلوں کو حیران کر دینے والی خوبصورتی، ترتیب اور مضبوطی ہوتی ہے، جس سے اللہ کے علم کی وسعت اور اس کی حکمت کی شمولیت کا پتہ چلتا ہے، اور اس لیے بھی کہ ان میں انواع و اقسام کے منافع اور بے شمار نعمتیں ہیں جو اللہ کی رحمت، اس کی سخاوت اور اس کے احسان کی وسعت پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ سب چیزیں ان کے خالق کو عظیم سمجھنے، اس کا شکریہ ادا کرنے، اس کے ذکر میں مشغول رہنے، دین کو اسی کے لیے خاص کرنے کی جانب دعوت دیتی ہیں اور یہی ایمان کی روح اور اصل ہے۔

(التوضیح و البیان لشجرۃ الإیمان للسعدی: صفحہ 69، الوسطیۃ فی القرآن الکریم للصلابی: صفحہ 239)

جب ہم اللہ کی تمام مخلوقات پر غور کرتے ہیں تو ہر طرح سے انھیں اپنے رب کا محتاج پاتے ہیں، پلک جھپکنے تک وہ اللہ سے مستغنیٰ نہیں ہو سکتیں، خاص طور سے محتاج ہونے کی جن دلیلوں کا مشاہدہ تم اپنی ذات میں کرتے ہو یہ چیز بندے پر واجب کر دیتی ہے کہ دینی و دنیاوی نقصانات کو روکنے اور دینی و دنیاوی منافع کو حاصل کرنے میں وہ اللہ کے لیے مکمل خشوع و خضوع کا اظہار کرے، بکثرت اسی سے دعا کرے اور اسی کے سامنے روئے گڑگڑائے، نیز بندے پر یہ بھی واجب کر دیتی ہے کہ اپنے رب پر مضبوط بھروسا رکھے، اس کے وعدہ پر مکمل اعتماد کرے، اس کی بھلائی اور احسان کی شدید امید رکھے، اس سے ایمان کے تقاضے پورے ہوتے ہیں اور عبودیت مضبوط ہوتی ہے، اس لیے کہ دعا عبادت کا مغز اور اصل ہے۔ 

(التوضیح و البیان لشجرۃ الإیمان: صفحہ 51، الوسطیۃ للصلابی: صفحہ 239)

سیدنا حسنؓ نے اپنی دنیاوی زندگی کے آخری لمحات میں غور و فکر کی عبادت کو اچھی طرح انجام دیا ہے، اور عبادت کے وسیع مفہوم کے عظیم معانی ہمیں سکھلائے ہیں۔

سیدنا علیؓ نے اپنی جان کے جانے پر اپنے رب کے پاس ثواب کی توقع کے ساتھ صبر کیا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسی طرح اللہ کے پاس ثواب کی توقع کے معانی کو سمجھتے تھے، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے جب معاذ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے معاذ! تم قرآن کی تلاوت کیسے کرتے ہو؟ تو انھوں نے جواب دیا: میں رات کے پہلے پہر سو جاتا ہوں پھر اپنی نیند کا ایک حصہ پورا کر کے قیام اللیل کرتا ہوں، اور جو کچھ اللہ تعالیٰ میسر کرتا ہے تلاوت کرتا ہوں اور اپنے سونے پر بھی عند اللہ ویسے ہی ثواب کی توقع رکھتا ہوں جیسے قیام اللیل پر۔

(صحیح البخاری: کتاب المغازی حدیث نمبر 4342)

اسی طرح کھانے اور اپنی بیوی سے ہم بستری میں جب کوئی مسلمان اللہ سے ثواب کی توقع کرتا ہے تو من جانب اللہ اسے اجر و ثواب ملتا ہے۔

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اپنی جان کے جانے پر عند اللہ ثواب کی توقع کرتے ہیں اور مصیبتوں کے وقت احتساب و تفکر کی عبادت انجام دیتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں، وہ لسانِ حال سے گویا یہ آیت تلاوت کر رہے تھے:

قُلۡ اِنَّ صَلَاتِىۡ وَنُسُكِىۡ وَ مَحۡيَاىَ وَمَمَاتِىۡ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۞ لَا شَرِيۡكَ لَهٗ‌وَبِذٰلِكَ اُمِرۡتُ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُسۡلِمِيۡنَ ۞(سورۃ الأنعام آیت 162، 163)

ترجمہ: کہہ دو کہ: بیشک میری نماز، میری عبادت اور میرا جینا مرنا سب کچھ اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اسی بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے، اور میں اس کے آگے سب سے پہلے سرجھکانے والا ہوں۔

ج: اے بھائی میرا سابقہ من جانب اللہ ایک ایسے معاملے سے پڑ رہا ہے جس طرح کے معاملے سے اس سے پہلے نہیں پڑا تھا اور اللہ کی ایسی مخلوق دیکھ رہا ہوں جیسی اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 210)

ابونعیم کہتے ہیں جب سیدنا حسنؓ کی تکلیف شدید ہو گئی تو وہ بے تاب ہو گئے، ان کے پاس ایک آدمی گئے اور کہا: اے ابومحمد! یہ بے تابی کیسی؟ معاملہ صرف اتنا ہے کہ آپ کی روح جسد خاکی سے الگ ہوگی اور آپ اپنے والدین علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما، اپنے نانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنی نانی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا، اپنے چچا حمزہ و جعفر رضی اللہ عنہما، اپنے ماموں قاسم، طیب، طاہر، اپنی خالہ رقیہ، ام کلثوم، زینب رضی اللہ عنہن کے پاس چلے جائیں گے، یہ سن کر آپ کی بے تابی ختم ہو گئی۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 210)

دوسری روایت کے مطابق مذکورہ بات کے قائل سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تھے اور یہ کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے بھائی میرا سابقہ من جانب اللہ ایسے معاملے سے پڑ رہا ہے جس طرح کے معاملے سے اس سے پہلے نہیں پڑا تھا، اور اللہ کی ایسی مخلوق دیکھ رہا ہوں جیسی اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی، تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ رو پڑے۔

(تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 109)

و فی روایۃ: یا أخی إنی أقدم علی أمر عظیم و ہول لم أقدم علی مثلہ قط

(تہذیب الکمال: جلد 6 صفحہ 254، سکب العبرات: جلد 1 صفحہ 148)

کتاب و سنت میں انسان کی روح نکلنے سے لے کر جنتیوں کے جنت اور جہنمیوں کے جہنم میں داخل ہو جانے کی پوری تفصیل موجود ہے۔ اسی لیے سلف صالحین سوئِ خاتمہ سے ڈرتے تھے، کوئی نہیں جانتا کہ اس کا خاتمہ کیسا ہو گا، اعمال کا دار و مدار تو خاتموں پر ہوتا ہے، اور مؤمنین قدم قدم پر سوئِ خاتمہ سے ڈرتے ہیں، انھیں کا اللہ تعالیٰ وصف بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:

وَّ قُلُوۡبُهُمۡ وَجِلَةٌ (سورۃ المؤمنون آیت 60)

ترجمہ: ان کے دل اس بات سے سہمے ہوتے ہیں 

نیز سکرات الموت، قبض روح اور انجام کی آگہی سے ڈرتے رہتے ہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے:

اَللّٰہُمَّ ہَوِّنْ عَلَیَّ سَکَرَاتِ الْمَوْتِ۔

(سنن الترمذی: کتاب الجنائز حدیث نمبر 978)

’’اے اللہ! تو میرے لیے سکرات الموت کو آسان کر دینا۔‘‘

سکرات الموت کے خوف کے ساتھ ملک الموت کی شکل کی ہیبت نیز اس کا ڈر اور خوف دل میں رہتا ہے۔

(الإیمان أولا: صفحہ 94)

صفحہ 2 از 4