سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری ایام - دفاعِ اہلِ…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری ایام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 4

امام قرطبیؒ کہتے ہیں: ملک الموت کا مشاہدہ اور اس سے دل پر جو خوف و دہشت طاری ہوتی ہے اپنی ہولناکی کے باعث بیان سے باہر ہے اور اس حقیقت کو وہی جانتا ہے جس کے سامنے ملک الموت ظاہر ہوتے ہیں اور وہ ان کا مشاہدہ کرتا ہے۔

(التذکرۃ: جلد 1 صفحہ 113)

سکرات الموت و ملک الموت کا خوف ہمیشہ ہمیں لاحق رہنا چاہیے، ایک دوسرا خطرناک معاملہ ہے جو ہمارے اس خوف میں اضافہ کر دیتا ہے، وہ ہے اس وقت دنیاوی زندگی کے امتحان کے نتیجہ کا ظاہر ہونا، تو کیا ہم ان لوگوں میں سے ہوں گے جن سے فرشتے کہیں گے:

اَلَّا تَخَافُوۡا وَلَا تَحۡزَنُوۡا وَاَبۡشِرُوۡا بِالۡجَـنَّةِ الَّتِىۡ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ۞ (سورۃ فصلت آیت 30)

ترجمہ: نہ کوئی خوف دل میں لاؤ، نہ کسی بات کا غم کرو، اور اس جنت سے خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا

وَ لَوۡ تَرٰٓى اِذۡ يَتَوَفَّى الَّذِيۡنَ كَفَرُوا‌ الۡمَلٰٓئِكَةُ يَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡهَهُمۡ وَاَدۡبَارَهُمۡ وَذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ۞ (سورۃ الأنفال آیت 50)

ترجمہ: اور اگر تم دیکھتے (تو وہ عجیب منظر تھا) جب فرشتے ان کافروں کی روح قبض کر رہے تھے، ان کے چہروں اور پشت پر مارتے جاتے تھے (اور کہتے جاتے تھے کہ) اب جلنے کے عذاب کا مزہ (بھی) چکھنا۔

مَنْ أَحَبَّ لِقَائَ اللّٰہِ أَحَبَّ اللّٰہُ لِقَائَ ہٗ، وَ مَنْ کَرِہَ لِقَائَ اللّٰہِ کَرِہَ اللّٰہُ لِقَائَ ہٗ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: إِنَّا لَنَکْرَہُ الْمَوْتَ، فَقَالَ: لَیْسَ ذَاکَ وَ لٰکِنَّ الْمُوْمِنُ إِذَا حَضَرَہُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِرِضْوَانٍ مِنَ اللّٰہِ وَکَرَامَتِہٖ فَلَیْسَ شَیْئٌ أَحَبُّ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہٗ، فَأَحَبَّ لِقَائَ اللّٰہِ، وَ أَحَبَّ اللّٰہُ لِقَائَ ہٗ، وَ إِنَّ الْکَافِرَ إِذَا حَضَرَہُ الْمَوْتُ بُشِّرَ بِعَذَابِ اللّٰہِ وَ عُقُوْبَتِہٖ فَلَیْسَ شَیْئٌ أَکْرَہُ إِلَیْہِ مِمَّا أَمَامَہٗ فَکَرِہَ لِقَائَ اللّٰہِ وَ کَرِہَ اللّٰہُ لِقَائَ ہٗ۔

(صحیح البخاری: حدیث نمبر 9507)

’’جو اللہ سے ملنا پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے ملنا پسند کرتے ہیں اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرتاہے اللہ تعالیٰ اس سے ملنا ناپسند کرتے ہیں اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہمیں موت ناپسند ہے تو آپ نے فرمایا: یہ مراد نہیں، بلکہ مومن کی جب موت آتی ہے تو اسے اللہ کی رضا اور اس کی تکریم کی بشارت دی جاتی ہے، اس وقت اسے سامنے والی چیز ہی سب سے زیادہ پسند ہوتی ہے اور وہ اللہ سے ملنے کو پسند کرنے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے اور جب کافر کی موت آتی ہے تو اسے اللہ کے عذاب و عقاب کی بشارت دی جاتی ہے اس وقت سامنے والی چیز اسے سب سے زیادہ ناپسند ہوتی ہے، اور وہ اللہ سے ملنے کو ناپسند کرنے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے۔‘‘

وَ عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم إِذَا خَرَجَتْ رُوْحُ الْعَبْدِ الْمُوْمِنِ تَلَقَّاہَا مَلَکَانِ یَصْعَدَانِ بِہَا -فَذَکَرَ مِنْ طِیْبِ رِیْحِہَا- وَ یَقُوْلُ أَہْلُ السَّمَائِ: رُوْحٌ طَیِّبَۃٌ جَائَ تْ مِنْ قِبَلِ الْأَرْضِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْکَ، وَ عَلٰی جَسَدٍ کُنْتِ تَعْمَّرِیْنَہُ فَیَنْطَلِقُ بِہٖ إِلٰی رَبِّہٖ ثُمَّ یَقُوْلُ: اِنْطَلِقُوْا بِہٖ إِلٰی آخِرِ الْأَجَلِ، وَ إِنَّ الْکَافِرَ إِذَا خَرَجَتْ رُوْحُہٗ -فَذَکَرَ مِنْ نَتْنِہَا- وَ یَقُوْلُ أَہْلُ السَّمَائِ: رُوْحٌ خَبِیْثَۃٌ جَائَ تْ مِنْ قِبَلِ الْاَرْضِ فَیُقَالُ: اِنْطَلِقُوْا بِہٖ إِلٰی آخِرِ الْاَجَلِ۔

(صحیح الجامع: حدیث نمبر 504)

’’ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن بندے کی روح جب نکلتی ہے تو اسے دو فرشتے لے کر اوپر جاتے ہیں، اس وقت اس کی بہترین خوشبو کو ذکر کیا اور آسمان والے کہتے ہیں: زمین سے آنے والی تو بہت اچھی روح ہے، اللہ تعالیٰ تم پر اور اس جسم پر جس میں تو تھی رحمت نازل کرے۔ پھر اسے اس کے رب کے پاس لے جایا جاتا ہے، پھر رب کہتا ہے: اسے اس کے مقررہ ٹھکانے تک لے جاؤ۔ اور کافر کی روح جب نکلتی ہے اس وقت اس کی بدبو کا ذکر کیا اور آسمان والے کہتے ہیں تم زمین سے آنے والی خبیث روح ہو، پھر کہا جائے گا: اسے اس کے مقررہ ٹھکانے تک لے جاؤ۔‘‘

قبر صاحبِ قبر کو دبوچے گی جس سے کوئی نہیں بچے گا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ لِلْقَبَرِ ضَغْطَۃٌ لَوْ نَجَا أَحَدٌ مِنْہَا لَنَجَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ۔

(مسند أحمد: جلد 6 صفحہ 55)

’’قبر دبوچے گی، اگر کوئی اس سے بچتا تو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ بچتے۔‘‘

اور قبر جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

’’جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا، یا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔‘‘

(سنن الترمذی: حدیث نمبر 2587)

اور ہمارے سامنے دوبارہ اٹھایا جانا اور قیامت کا قائم ہونا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّكُمۡ‌ اِنَّ زَلۡزَلَةَ السَّاعَةِ شَىۡءٌ عَظِيۡمٌ ۞(سورۃ الحج آیت 1)

ترجمہ: اے لوگو! اپنے پروردگار (کے غضب) سے ڈرو۔ یقین جانو کہ قیامت کا بھونچال بڑی زبردست چیز ہے۔

وہ بہت ہولناک دن ہوگا:

يَّوۡمَ يَقُوۡمُ النَّاسُ لِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ۞(سورۃ المطففين آیت 6)

ترجمہ: جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

ابوالبشر آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک کے آخری انسان سب کو زندہ کر کے اکٹھا کیا جائے گا:

(الإیمان أولا فکیف نبدأ بہ: صفحہ 96)

ذٰلِكَ يَوۡمٌ مَّجۡمُوۡعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوۡمٌ مَّشۡهُوۡدٌ ۞ (سورۃ هود آیت 103)

ترجمہ: وہ ایسا دن ہوگا جس کے لیے تمام لوگوں کو اکٹھا کیا جائے گا، اور وہ ایسا دن ہوگا جسے سب کے سب کھلی آنکھوں دیکھیں گے۔

قیامت کی ہولناکیوں کو کتاب و سنت نے بیان کیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

صفحہ 3 از 4