سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری ایام - دفاعِ اہلِ…

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی کے آخری ایام

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الۡاَرۡضُ دَكًّا دَكًّا ۞ وَّجَآءَ رَبُّكَ وَالۡمَلَكُ صَفًّا صَفًّا ۞ وَجِاىْٓءَ يَوۡمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ يَوۡمَئِذٍ يَّتَذَكَّرُ الۡاِنۡسَانُ وَاَنّٰى لَـهُ الذِّكۡرٰى۞ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِىۡ قَدَّمۡتُ لِحَـيَاتِى‌۞(سورۃ الفجر آیت 21 تا 24)

ترجمہ: ہرگز ایسا نہیں چاہیے۔ جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا۔ اور تمہارا پروردگار اور قطاریں باندھے ہوئے فرشتے (میدان حشر میں) آئیں گے۔ اور اس دن جہنم کو سامنے لایا جائے گا، تو اس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اس وقت سمجھ آنے کا موقع کہاں ہوگا؟ وہ کہے گا کہ: کاش! میں نے اپنی اس زندگی کے لیے کچھ آگے بھیج دیا ہوتا۔

ارشاد نبوی ہے: ’’جہنم کو لایا جائے گا، اس کی ستر ہزار رسیاں ہوں گی، ہر رسی کو ستر ہزار فرشتے تھامے کھینچ رہے ہوں گے۔‘‘ 

(صحیح المسلم: کتاب صفۃ النار: صحیح الجامع حدیث نمبر 8001)

چنانچہ وہ بہت ہی ہولناک منظر ہو گا جس سے دل پھٹ رہے ہوں گے۔

(رحلۃ إلی الدار الآخرۃ: صفحہ 390)

اسی لیے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے کہا تھا: 

’’اَلْعَارُ خَیْرٌ مِنَ النَّارِ‘‘

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 12 صفحہ 204)

’’باعث شرم بات جہنم سے بہتر ہے۔‘‘

اور اسی بناء پر اپنے بارے میں ڈر گئے کہ کہیں قیامت کے دن اللہ کے سامنے ان کا محاسبہ نہ ہو جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما چکے ہیں۔

أَوَّلُ مَا یُقْضٰی بَیْنَ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فِی الدَّمَائِ۔ 

(صحیح الجامع: حدیث نمبر 2577)

’’قیامت کے دن لوگوں کے مابین سب سے پہلے خون سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے۔‘‘

قیامت کے خوفناک منظر کو یہ حدیث پیش کرتی ہے:

یَجِیْئُ الْمَقْتُوْلُ بِالْقَاتِلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ نَاصِیَتُہٗ بِیَدِہٖ وَ أَوْدَاجُہٗ تَشْخَبُ دَمًا فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ سَلْ ہٰذَا فِیْمَا قَتَلَنِیْ؟ حَتّٰی یُدْنِیْہُ مِنَ الْعَرْشِ۔

(صحیح الجامع: حدیث نمبر 8031)

’’قیامت کے دن مقتول قاتل کو لے کر آئے گا، اس کی پیشانی اس کے ہاتھ میں ہوگی، اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہوگا وہ کہے گا: اے میرے پروردگار اس سے پوچھئے کس وجہ سے اس نے مجھے قتل کیا تھا؟ یہاں تک کہ اسے عرش سے قریب کر دے گا۔‘‘

یہ ہولناکیاں ہوں گی جن سے سب کو دوچار ہونا پڑے گا، جب جنتی جوانوں کے سردار موت و ما بعد الموت سے ڈرتے ہیں، تو قارئین کرام ہماری اور آپ کی حیثیت کیا ہے؟ ہمیں عبرت حاصل کرنا اور اس سخت ترین مرحلے کے لیے عمل کرنا چاہیے، ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہم پر رحم فرمائے اور ہماری لغزشوں کو معاف فرمائے، بلاشبہ وہ مہربان، بردبار، ودود و رحیم ہے۔


صفحہ 4 از 4