رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ اول)…

رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ اول)

  مامون رشید

صفحہ 1 از 5

حال ہی میں وفات پانے والے سفاک رافضی، امام ضلالت اور سنی مسلمانوں کے عدو، رہبر ایران علی خامنائی کے بارے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا ہے اور ہر کس و ناکس بلا علم و بصیرت تبصرہ آرائی پر لگا ہوا ہےاور تحریکی احمقوں اور ماتمی منافقوں کے جھانسے میں آ کر اس مجرم اثیم کو مجاہد اسلام، شہید ملت، رہبر اعظم اور قائد معظم باور کرانے پر لگا ہوا ہے۔

اس سے پہلے کہ اس خائنِ امت کے حامی اور سہولت کاران آپ کو فریب میں مبتلا کریں اور تدلیس و تلبیس کے سہارے اس فتنہ پرور کی ملمع سازی کریں، درج ذیل امور کو توجہ سے پڑھیں اور غور کریں کہ کیا وہ واقعی شہید ملت ہے اور آپ کی ہمدردیوں کا مستحق ہے؟؟؟

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ خامنائی ایک اثناء عشری رافضی اور رئیس الضلال خمینی ملعون کا شاگرد خاص اور منظورِ نظر جانشین تھا، لہٰذا اس کے عقائد بھی وہی ہیں جو اثناء عشری روافض اور خمینی کے ہیں، لیکن اگر کوئی اس کی تحریروں اور تقاریر کا بغور جائزہ لے، تو اسے وہ بنیادی طور پر ایک مکار سیاست دان معلوم ہوگا۔ سیاست دان سے مراد یہ ہے کہ وہ وہی بات کہتا ہے، جس سے تقیہ و تاویل کا سہارا لے کر یوٹرن لینا اور جس کے ذریعے اپنی ذات کے گرد غیر معمولی اور تقدیسی ہالہ تیار کرنا آسان ہوتا ہے۔

چنانچہ جب قرآن کے بارے میں شیعوں کے اس نظریے (کہ قرآن مخلوق ہے) اور اس عقیدے (کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے) پر بحث ہوتی ہے، تو خامنائی اسے محض علم الکلام کے مسائل قرار دے کر ٹال دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ”اہم بات یہ ہے کہ ہم اسلام کی خدمت کے لیے کام کریں“۔

خامنائی انتہائی درجے کا گرگٹ صفت، متلون مزاج اور خاصا مکار انسان تھا، جب صحابہ کرامؓ کا ذکر آتا تو وہ بظاہر کہتا کہ: "ان پر سب و شتم مت کرو"۔ چنانچہ اس کا دفاع کرنے والے اسی ایک جملے کو پکڑ کر بطورِ نعرہ استعمال کرتے ہیں کہ ”دیکھو خامنائی صحابہؓ کا احترام کرتا ہے“۔ لیکن اسی وقت آپ دیکھیں گے کہ وہ اپنی کتابوں میں صحابہ کرامؓ کی تکفیر بھی کرتا ہے اور ان پر لعنت بھی بھیجتا ہے، اور اسے اس میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی۔ 

اسی طرح جب مجالسِ عزاء کی باری آتی ہے، تو وہ ماتم اور سینہ کوبی کی خوب تعریف کرتا ہے، لیکن دوسری طرف ایک ایسا بیان بھی جاری کر دیتا ہے جس سے اس کے حامی فائدہ اٹھا سکیں، مثلاً کہتا ہے: ”میں قبروں کو سجدہ کرنے اور مزاروں پر رینگ کر جانے کا انکار کرتا ہوں“ یہ اس کا ایک خالص پاپولسٹ اور سیاسی طریقہ کار تھا جس کے ذریعے وہ تمام فریقوں کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کرتا تھا، ہر کسی کو اس کا من چاہا چورن بیچتا تھا اور سادہ لوح عوام اور فریب خوردہ ذہنوں کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جاتا تھا.

ذیل میں اس کے کفریہ عقائد کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیں: 

1: ایرانی نظام میں "ولیِ فقیہ" کا نظام رائج ہے، جس کے پاس ملک اور مذہب کے مکمل اختیارات ہوتے ہیں، یہ دراصل '”امامِ معصوم غائب مہدی“ کا نائب ہوتا ہے، جس کے تحت فقیہ کو وہ تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں جو ایک امام معصوم کو معاشرے کو چلانے کے لیے حاصل ہوتے ہیں، بشمول اقتدار، قانون سازی، فقہ اور احکامِ شریعت کی تشریح و تفہیم پر مکمل اجارہ داری اس حد تک کہ حکمران (ولی فقیہ) کو ہر خطا سے پاک (معصوم) تصور کر لیا جاتا ہے۔ چنانچہ امت کا کوئی بھی فرد کسی بھی معاملے میں اسے غلط قرار نہیں دے سکتا، اور نہ ہی اس پر کوئی اعتراض کر سکتا ہے، چاہے وہ اعتراض کرنے والا خود مجلسِ شوریٰ ہی کیوں نہ ہو۔

چنانچہ رہبر انقلاب ایران خمینی کے نزدیک امام پر رد و تنقید کرنا اللہ پر رد وتنقید کرنا ہے، لکھتا ہے:”اس روایت کے اندر مجتہد کو حاکم قرار دیا گیا ہے، اور اس پر رد وتنقید امام پر رد و تنقید قرار دیا گیا ہے، اور امام پر رد کرنا اللہ پر رد کرنا ہے، اور اللہ پر رد کرنا شرک باللہ کے درجے میں ہے۔

(كشف الأسرار: صفحہ 207) 

در حقیقت روافض کے اس نام نہاد مہدی کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے، جسے غائب ہوئے بقول ان کے 1200 سال گزر چکے ہیں۔ جبکہ جس شخص کو یہ روافض اس امام غائب کا والد بتاتے ہیں، اس نے تو سرے سے کبھی شادی ہی نہیں کی تھی کہ اس کے ہاں اولاد پیدا ہوتی! لیکن یہ دھوکہ باز قوم اس معاملے میں اپنے ہی عوام کو دھوکہ دیتی ہے۔

مرشدِ اعلیٰ خود کو اسی مہدی کا نائب کہتا ہے۔ ملک کے تمام بڑے اور اعلیٰ فیصلے، جیسے جنگ اور امن کے اعلانات، اور اہم سیاسی تقرریاں اسی کے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔ یہ ایک ایسا عہدہ ہے جو تاحیات رہتا ہے۔ یہ صدر کے اختیارات کی طرح نہیں ہے جس کے پاس صرف عارضی اور انتظامی اختیارات ہوتے ہیں، جس کا ایک مخصوص دورانیہ ہوتا ہے اور اسے عوام منتخب کرتے ہیں۔ 

ان کے ہاں ولایت اور ولی خدا کی اطاعت ہی توحیدِ عملی کا اصل مظہر ہے۔ وہ توحید کو چار درجات میں تقسیم کرتے ہیں: توحیدِ ذات، توحیدِ صفات، توحیدِ افعال اور توحیدِ عبادی۔ ان کے نزدیک توحیدِ عملی کا اصل مظہر ولی اللہ کی اطاعت کرنا ہے۔

خامنائی اسی ”ولایت فقیہ“ کے کفریہ عقیدہ کا صرف معتقد ہی نہیں بلکہ داعی بھی تھا اور خمینی کے بعد 36 سال تک اس عہدے پر فائز رہا۔   

2: اہلِ بیت کے حوالے سے خامنائی کا عقیدہ عام مسلمانوں کے عقیدے کے بالکل برعکس ہے، چنانچہ وہ انہیں انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی طرح عصمت یعنی گناہوں اور غلطیوں سے پاک ہونے کا درجہ دیتا ہے۔ اپنی کتاب ”الإسلام المحمدي: صفحہ 89“ میں لکھتا ہے: وہ عظیم ہستیاں جنہیں اللہ تعالیٰ نے منتخب کیا اور انہیں عصمت عطا کی، خواہ وہ انبیاء ہوں یا ائمہ اطہار علیہم السلام وہ ایسے ہیں جو عالمِ ملک اور عالمِ ملکوت کے آسمان پر جگمگا رہے ہیں۔"

یعنی اس کے نزدیک ائمہ اہل بیت معصوم ہیں۔

اس کے برعکس امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:”ائمہ کی عصمت کا قائل کوئی نہیں سوائے امامیہ اور اسماعیلیہ کے“۔

 اور یہ وہ قول ہے جس میں ان کی موافقت صرف ان ملحدین اور منافقین نے کی ہے جن کے بڑے شیوخ یہودیوں، عیسائیوں اور مشرکین سے بھی بدتر ہیں۔" (منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 374)

صفحہ 1 از 5