Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ اول)

  مامون رشید

حال ہی میں وفات پانے والے سفاک رافضی، امام ضلالت اور سنی مسلمانوں کے عدو، رہبر ایران علی خامنائی کے بارے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا ہے اور ہر کس و ناکس بلا علم و بصیرت تبصرہ آرائی پر لگا ہوا ہےاور تحریکی احمقوں اور ماتمی منافقوں کے جھانسے میں آ کر اس مجرم اثیم کو مجاہد اسلام، شہید ملت، رہبر اعظم اور قائد معظم باور کرانے پر لگا ہوا ہے۔

اس سے پہلے کہ اس خائنِ امت کے حامی اور سہولت کاران آپ کو فریب میں مبتلا کریں اور تدلیس و تلبیس کے سہارے اس فتنہ پرور کی ملمع سازی کریں، درج ذیل امور کو توجہ سے پڑھیں اور غور کریں کہ کیا وہ واقعی شہید ملت ہے اور آپ کی ہمدردیوں کا مستحق ہے؟؟؟

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ خامنائی ایک اثناء عشری رافضی اور رئیس الضلال خمینی ملعون کا شاگرد خاص اور منظورِ نظر جانشین تھا، لہٰذا اس کے عقائد بھی وہی ہیں جو اثناء عشری روافض اور خمینی کے ہیں، لیکن اگر کوئی اس کی تحریروں اور تقاریر کا بغور جائزہ لے، تو اسے وہ بنیادی طور پر ایک مکار سیاست دان معلوم ہوگا۔ سیاست دان سے مراد یہ ہے کہ وہ وہی بات کہتا ہے، جس سے تقیہ و تاویل کا سہارا لے کر یوٹرن لینا اور جس کے ذریعے اپنی ذات کے گرد غیر معمولی اور تقدیسی ہالہ تیار کرنا آسان ہوتا ہے۔

چنانچہ جب قرآن کے بارے میں شیعوں کے اس نظریے (کہ قرآن مخلوق ہے) اور اس عقیدے (کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے) پر بحث ہوتی ہے، تو خامنائی اسے محض علم الکلام کے مسائل قرار دے کر ٹال دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ”اہم بات یہ ہے کہ ہم اسلام کی خدمت کے لیے کام کریں“۔

خامنائی انتہائی درجے کا گرگٹ صفت، متلون مزاج اور خاصا مکار انسان تھا، جب صحابہ کرامؓ کا ذکر آتا تو وہ بظاہر کہتا کہ: "ان پر سب و شتم مت کرو"۔ چنانچہ اس کا دفاع کرنے والے اسی ایک جملے کو پکڑ کر بطورِ نعرہ استعمال کرتے ہیں کہ ”دیکھو خامنائی صحابہؓ کا احترام کرتا ہے“۔ لیکن اسی وقت آپ دیکھیں گے کہ وہ اپنی کتابوں میں صحابہ کرامؓ کی تکفیر بھی کرتا ہے اور ان پر لعنت بھی بھیجتا ہے، اور اسے اس میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی۔ 

اسی طرح جب مجالسِ عزاء کی باری آتی ہے، تو وہ ماتم اور سینہ کوبی کی خوب تعریف کرتا ہے، لیکن دوسری طرف ایک ایسا بیان بھی جاری کر دیتا ہے جس سے اس کے حامی فائدہ اٹھا سکیں، مثلاً کہتا ہے: ”میں قبروں کو سجدہ کرنے اور مزاروں پر رینگ کر جانے کا انکار کرتا ہوں“ یہ اس کا ایک خالص پاپولسٹ اور سیاسی طریقہ کار تھا جس کے ذریعے وہ تمام فریقوں کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کرتا تھا، ہر کسی کو اس کا من چاہا چورن بیچتا تھا اور سادہ لوح عوام اور فریب خوردہ ذہنوں کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جاتا تھا.

ذیل میں اس کے کفریہ عقائد کے چند نمونے ملاحظہ فرمائیں: 

1: ایرانی نظام میں "ولیِ فقیہ" کا نظام رائج ہے، جس کے پاس ملک اور مذہب کے مکمل اختیارات ہوتے ہیں، یہ دراصل '”امامِ معصوم غائب مہدی“ کا نائب ہوتا ہے، جس کے تحت فقیہ کو وہ تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں جو ایک امام معصوم کو معاشرے کو چلانے کے لیے حاصل ہوتے ہیں، بشمول اقتدار، قانون سازی، فقہ اور احکامِ شریعت کی تشریح و تفہیم پر مکمل اجارہ داری اس حد تک کہ حکمران (ولی فقیہ) کو ہر خطا سے پاک (معصوم) تصور کر لیا جاتا ہے۔ چنانچہ امت کا کوئی بھی فرد کسی بھی معاملے میں اسے غلط قرار نہیں دے سکتا، اور نہ ہی اس پر کوئی اعتراض کر سکتا ہے، چاہے وہ اعتراض کرنے والا خود مجلسِ شوریٰ ہی کیوں نہ ہو۔

چنانچہ رہبر انقلاب ایران خمینی کے نزدیک امام پر رد و تنقید کرنا اللہ پر رد وتنقید کرنا ہے، لکھتا ہے:”اس روایت کے اندر مجتہد کو حاکم قرار دیا گیا ہے، اور اس پر رد وتنقید امام پر رد و تنقید قرار دیا گیا ہے، اور امام پر رد کرنا اللہ پر رد کرنا ہے، اور اللہ پر رد کرنا شرک باللہ کے درجے میں ہے۔

(كشف الأسرار: صفحہ 207) 

در حقیقت روافض کے اس نام نہاد مہدی کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے، جسے غائب ہوئے بقول ان کے 1200 سال گزر چکے ہیں۔ جبکہ جس شخص کو یہ روافض اس امام غائب کا والد بتاتے ہیں، اس نے تو سرے سے کبھی شادی ہی نہیں کی تھی کہ اس کے ہاں اولاد پیدا ہوتی! لیکن یہ دھوکہ باز قوم اس معاملے میں اپنے ہی عوام کو دھوکہ دیتی ہے۔

مرشدِ اعلیٰ خود کو اسی مہدی کا نائب کہتا ہے۔ ملک کے تمام بڑے اور اعلیٰ فیصلے، جیسے جنگ اور امن کے اعلانات، اور اہم سیاسی تقرریاں اسی کے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔ یہ ایک ایسا عہدہ ہے جو تاحیات رہتا ہے۔ یہ صدر کے اختیارات کی طرح نہیں ہے جس کے پاس صرف عارضی اور انتظامی اختیارات ہوتے ہیں، جس کا ایک مخصوص دورانیہ ہوتا ہے اور اسے عوام منتخب کرتے ہیں۔ 

ان کے ہاں ولایت اور ولی خدا کی اطاعت ہی توحیدِ عملی کا اصل مظہر ہے۔ وہ توحید کو چار درجات میں تقسیم کرتے ہیں: توحیدِ ذات، توحیدِ صفات، توحیدِ افعال اور توحیدِ عبادی۔ ان کے نزدیک توحیدِ عملی کا اصل مظہر ولی اللہ کی اطاعت کرنا ہے۔

خامنائی اسی ”ولایت فقیہ“ کے کفریہ عقیدہ کا صرف معتقد ہی نہیں بلکہ داعی بھی تھا اور خمینی کے بعد 36 سال تک اس عہدے پر فائز رہا۔   

2: اہلِ بیت کے حوالے سے خامنائی کا عقیدہ عام مسلمانوں کے عقیدے کے بالکل برعکس ہے، چنانچہ وہ انہیں انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی طرح عصمت یعنی گناہوں اور غلطیوں سے پاک ہونے کا درجہ دیتا ہے۔ اپنی کتاب ”الإسلام المحمدي: صفحہ 89“ میں لکھتا ہے: وہ عظیم ہستیاں جنہیں اللہ تعالیٰ نے منتخب کیا اور انہیں عصمت عطا کی، خواہ وہ انبیاء ہوں یا ائمہ اطہار علیہم السلام وہ ایسے ہیں جو عالمِ ملک اور عالمِ ملکوت کے آسمان پر جگمگا رہے ہیں۔"

یعنی اس کے نزدیک ائمہ اہل بیت معصوم ہیں۔

اس کے برعکس امام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:”ائمہ کی عصمت کا قائل کوئی نہیں سوائے امامیہ اور اسماعیلیہ کے“۔

 اور یہ وہ قول ہے جس میں ان کی موافقت صرف ان ملحدین اور منافقین نے کی ہے جن کے بڑے شیوخ یہودیوں، عیسائیوں اور مشرکین سے بھی بدتر ہیں۔" (منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 374)

مزید فرماتے ہیں: "جس نے رسول اللہ کے علاوہ کسی اور کی غیر مشروط اطاعت کو واجب قرار دیا، اور اس کی دی گئی ہر خبر کی تصدیق کو لازمی ٹھہرایا، اور دین میں اس کے ہر حکم اور خبر میں اس کی عصمت یا حفاظت کو ثابت کیا، تو اس نے اس شخص کو رسول اللہ کے برابر لا کھڑا کیا اور رسالت کی خصوصیات میں اسے آپﷺ کا مدمقابل بنا دیا۔

 (جامع الرسائل لابن تيميہؒ رشاد سالم: جلد 1 صفحہ 273)

کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ابنِ تیمیہؒ کی یہ بات محض ایک الزامی حجت ہے؟ نہیں! بلکہ خامنائی نے اپنی کتابوں اور خطابات کے اندر خود ان باتوں کی صراحت کی ہے۔

کتاب ”الوحدة الإسلامية في فكر الإمام السيد علي خامنئي: صفحہ 53“ میں خامنائی کا قول نقل کیا گیا ہے کہتا ہے:”اہلِ بیت کے بارے میں اصل بات یہ ہے کہ وہ (اہل السنہ) ہماری طرح اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ علمی سلسلہ اہل بیت پر ختم ہوتا ہے، بلکہ وہ انہیں صرف ایسے راویوں کے طور پر دیکھتے ہیں جو نبی کریمﷺ سے حدیث نقل کرتے ہیں۔ جبکہ ہم اس نظریے کو نہیں مانتے۔ ہمارا ماننا یہ ہے کہ رسولِ اکرمﷺ کے اہل بیت نے جو کچھ بھی بیان فرمایا ہے، وہ ایک (مستقل) حکم الٰہی تصور کیا جاتا ہے اور اس کی حیثیت نبی کی حدیث جیسی ہی ہے اور ہم انہیں معصوم (گناہوں سے پاک) تسلیم کرتے ہیں۔“

یہی بات اس کے استاد خمینی نے بھی کی ہے، لکھتا ہے”وہ خطا نسیان لغزش اور زیادتی و سرکشی سے معصوم ہیں“

(الأربعون حديثا: صفحہ 125)

”ان ائمہ کے تعلق سے سہو اور غفلت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا“

(الحكومة الإسلاميۃ: صفحہ 91) 

ائمہ کی روحانیت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے:ان کے اندر غفلت، نیند و بیداری اور نسیان نہیں پائی جاتی۔

(الأربعون حديثا: صفحہ 374)

بلکہ یہاں تک لکھتا ہے کہ ائمہ کی معصومیت کامل و مطلق ہے، حتیٰ کہ ان کی معصومیت بہت سارے انبیاء کی عصمت سے اعلیٰ و اکمل ہے کیونکہ وہ انبیاء مکمل طور پر معصوم نہ تھے، اور شیطان کی چھیڑ چھاڑ سے محفوظ نہ رہ سکے تھے۔

(الآداب المعنوية للصلاة: جلد 1 صفحہ 63) 

3: خامنائی مکمل صراحت کے ساتھ کھلے عام یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ائمہ کی بات براہِ راست اللہ کا حکم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ائمہ کو انبیاء کے برابر لا کھڑا کیا ہے جو اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے، جیسا کہ قرآن میں انبیاء کے بارے میں ہے:

وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى، اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰى

ترجمہ: اور وہ اپنی خواہشِ نفس سے باتیں نہیں کرتے۔ یہ تو سراسر وحی ہے جو ان پر نازل کی جاتی ہے۔(سورۃ النجم: آیت 3، 4)

چنانچہ وہ کہتا ہے: ہمارا ماننا یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کے اہل بیت نے جو کچھ بھی بیان فرمایا ہے، وہ ایک (مستقل) حکمِ الٰہی ہے اور اس کی حیثیت نبی کی حدیث جیسی ہی ہے۔ 

(الوحدة الإسلاميۃ في فكر الإمام السيد علي خامنئي: صفحہ 53)

خامنائی کے استاد اور پہلے رہبر ایران خمینی نے بھی یہی بات کی ہے لکھتا ہے:

اہل بیت جو کہ معصوم و مطہر ہیں، اور جن پر وحی نازل ہوتی ہے اور فرشتے اترتے ہیں۔

(شرح دعاء السحر: صفحہ 64)

معصومین اہل بیت علیہم السلام جو کہ وحی کے معاون ہیں، ان کے اقوال و علوم وحی الہٰی اور کشف محمدی ہیں۔

(الآداب المعنوية للصلاة: جلد 1 صفحہ 207) 

ائمہ کو آسمان و زمین کے مابین اسباب و وسائط قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے:

وہ الٰہی آسمان اور مخلوق زمین کے مابین ربط قائم کرنے والے اسباب و وسائط ہیں۔

(شرح دعاء السحر: صفحہ 4) 

4: خامنائی نے حضرت فاطمہؓ کو معصوم قرار دیا ہے اور انہیں رسول اللہﷺ کے مرتبے پر لا کھڑا کیا ہے۔

 کتاب ”المرأة في فكر الإمام الخامنئي: صفحہ 16“ میں ہے: "ساتواں پہلو یہ ہے کہ سیدہ فاطمہؓ ایک معصوم ہستی ہیں، ان کے بارے میں امام (خامنائی) فرماتے ہیں: وہ بلا شبہ معصوم ہیں، وہ اپنی ذمہ داری کے اعتبار سے (اصطلاحی) رسول نہیں ہیں، اور نہ ہی اپنی سرکاری یا رسمی ذمہ داری کے لحاظ سے امام یا رسول اللہﷺ کی جانشین (خلیفہ) ہیں، لیکن اپنے مرتبے اور روحانی مقام کے لحاظ سے وہ رسول اور امام کے درجے پر فائز ہیں۔ 

یاد رہے کہ شیعہ اپنے ائمہ کو سوائے محمدﷺ کے تمام انبیاء سے افضل قرار دیتے ہیں، بلکہ خامنائی کے استاد خمینی نے تو بلا استثناء ائمہ کو تمام انبیاء سے افضل قرار دیا ہے کہتا ہے"ہمارے مسلک کے بدیہیات میں سے یہ ہے کہ ہمارے ائمہ کو ایک ایسا مقام حاصل ہے جہاں تک نہ تو کوئی مقرب فرشتہ پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی نبی مرسل" (الحكومة الإسلامية: صفحہ 52)

ان کے نزدیک ائمہ، حضرت ابراہیم، اسماعیل، الیاس اور یسع علیہم السلام سے بھی افضل ہیں۔ یہ خالص کفر ہے جس میں کوئی دو رائے نہیں، لیکن یہاں خام نائی نے سیدہ فاطمہؓ کو نبی کریمﷺ کے بالکل ہم پلہ قرار دیا ہے۔

5: خامنائی کا عقیدہ تھا کہ حضرت فاطمہؓ کے پاس فرشتے آتے تھے اور ان پر قرآن کی آیات نازل ہوتی تھیں، چنانچہ کہتا ہے: امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: بے شک فاطمہ محدثہ تھیں، یعنی فرشتے ان پر نازل ہوتے تھے، وہ ان سے مانوس ہوتے اور ان سے گفتگو کیا کرتے تھے۔ اس سلسلے میں متعدد روایات موجود ہیں اور امام صادق علیہ السلام سے مروی اس روایت میں یہ بھی صراحت ہے کہ فرشتے سیدہ فاطمہ زہراء علیہا السلام کے پاس آتے، ان سے باتیں کرتے اور انہیں اللہ کی آیات پڑھ کر سناتے تھے۔ اسی طرح امیرالمؤمنین علیہ السلام سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ زہراء علیہا السلام نے آپ سے ذکر کیا کہ فرشتے آتے ہیں، ان سے گفتگو کرتے ہیں اور انہیں کچھ مسائل و حقائق بتاتے ہیں، اس پر امیر المؤمنین علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ جب بھی وہ فرشتے کی آواز سنیں تو آپ (علیہ السلام) کو مطلع کریں تاکہ جو کچھ وہ سن رہی ہیں، آپ اسے تحریر کر لیں۔ چنانچہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے وہ سب کچھ لکھ لیا جو فرشتوں نے فاطمہ زہراء علیہا السلام پر املاء کرایا۔ اور یہی وہ تحریر ہے جو ائمہ علیہم السلام کے پاس ایک کتاب کی صورت میں موجود رہی جسے مصحف فاطمہ یا صحیفۂ فاطمہ کہا جاتا ہے۔ 

(المرأة في فكر الإمام الخامنئي: صفحہ 16) 

 خامنائی حضرت فاطمہؓ کی طرف ایک مستقل مصحف (قرآن) جسے روافض مصحف فاطمہ کا نام دیتے ہیں کی نسبت کرتا تھا، جیسا کہ درج بالا عبارت میں بھی اس کی صراحت موجود ہے کہ فرشتے حضرت فاطمہ پر آیات نازل کرتے تھے اور علیؓ ان آیات کو لکھ لیا کرتے تھے اور یہی وہ چیزیں ہیں جنہیں ائمہ شیعہ مصحف فاطمہ کہتے ہیں۔ جس سے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ عام شیعہ روافض خامنائی بھی تحریف اور نقص قرآن کا قائل ہے۔ 

اسی طرح کتاب ”مقتطفات من سيرة فاطمة الزهراء و زينب: صفحہ 143“ میں ہے خامنائی کہتا ہے: متعدد روایات میں آیا ہے کہ ائمہ علیہم السلام اپنے مختلف مسائل کے حل کے لیے مصحفِ فاطمہ کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔ 

اس کتاب کا حاشیہ لکھنے والا شخص امیرالمؤمنین علیؓ کی طرف ایک جھوٹی روایت منسوب کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ علی نے فرمایا: ”میری بیوی کو ایک ایسا مصحف دیا گیا ہے جس میں ایسا علم ہے جس تک ان سے پہلے کوئی نہیں پہنچ سکا۔“ اور امام باقر کی طرف منسوب کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”ہمارے پاس فاطمہ کا مصحف ہے۔ اور لوگوں کو کیا معلوم کہ فاطمہ کا مصحف کیا ہے؟ اس مصحف میں تمہارے اس قرآن جیسا تین گنا (مواد) ہے، اور اللہ کی قسم! اس میں تمہارے قرآن کا ایک لفظ بھی نہیں ہے بلکہ اس میں وہ چیزیں ہیں جو اللہ نے املا کروایا ہے اور ان کی طرف وحی کی ہے۔“

یہ روایت اس لیے گھڑی گئی تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ قرآن کی کوئی تفسیر وغیرہ ہے۔ 

خامنائی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہتا ہے: ”یہ کس قدر بلند علم ہے، اور کیسی بے نظیر معرفت اور حکمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے جوانی کی عمر میں ایک عورت کو عطا کی! امیر المؤمنین علیہ السلام نے ان سے درخواست کی کہ جب وہ فرشتے کی آواز سنیں تو انہیں بتائیں تاکہ وہ سن کر اسے لکھ لیں“ 

(مقتطفات من سيرة فاطمۃ الزهراء و زينب: صفحہ 144)

گویا فاطمہ نبی بن گئیں اور علی ان کے کاتبِ وحی! 

خامنائی مزید کہتا ہے: 

پس امیرالمؤمنین علیہ السلام نے وہ سب کچھ لکھ لیا جو فرشتوں نے فاطمہ علیہا السلام پر املا کرایا، اور یہ ائمہ کے پاس ایک موجود کتاب بن گئی جس کا نام مصحفِ فاطمہ یا صحیفہ فاطمہ ہے۔

 (مقتطفات من سيرة فاطمۃ الزهراء و زينب: صفحہ 144)

یہ ہے علی خامنائی کا عقیدہ جس کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو مسلمان ہے، آپ لوگ اس کی تکفیر کیوں کرتے ہیں؟ یہ تو فلسطین کا دفاع کرتا ہے۔یہ تو کفار کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ سوادِ اعظم کے ہاں معروف اسلام پر نہیں بلکہ ایک متوازی دین اور مستقل شریعت کا پیروکار ہے، جس کے مصادر تلقی عقیدہ و احکام مختلف ہیں، قرآن بھی مختلف ہے، رواتِ دین بھی الگ ہیں، احادیث بھی مختلف ہیں، ائمہ کے فرمودات کی صورت میں وحی کا ایک زائد اور مختلف منبع بھی موجود ہے اور ولایت فقیہ کے تصور کے ذریعے اس سلسلے کو لازوال وسعت بھی حاصل ہے۔ 

خامنائی کا ایک اور انتہائی خطرناک عقیدہ ولایتِ تکوینیہ کا عقیدہ ہے، جو کہ اسلام سے خارج کر دینے والے شیعہ عقائد میں سے ایک ہے۔ 

شیعہ عقیدہ میں ولایت کی کئی قسمیں بیان کی جاتی ہیں، جن میں ولایت تشریعیہ (قانون سازی اور شریعت کی تشریح کا حق) اور ولایت تکوینیہ شامل ہیں۔ ولایت تکوینیہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کے مادی اور وجودی نظام کو چلانے، خرقِ عادت، معجزات و کرامات کے ظہور اور کائنات کے تکوینی امور جیسے پیدائش، موت، رزق، عناصرِ فطرت پر قابو میں راست تصرف کا اختیار اپنے اذن سے ائمہ معصومین کو تفویض کر رکھا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ائمہ پوری کائنات کے نظام میں تصرف کا اختیار رکھتے ہیں اور کائنات کا ذرہ ذرہ ان کے تابع ہے۔

یہ صرف ایک روحانی کمال کا دعویٰ نہیں ہے، بلکہ اس کے گہرے سیاسی مضمرات بھی ہیں۔ چنانچہ جب یہ تسلیم کر لیا جائے کہ امام کو کائنات کے ذرات پر اختیار حاصل ہے تو غیبتِ امام کے دور میں اس کا مقرر کردہ زمینی نائب (یعنی ولی فقیہ، جو کہ خامنائی خود تھا) عوام کی نظر میں ایک انتہائی مقدس، ناقابلِ احتساب، اور مطلق اختیارات کا حامل حکمران بن جاتا ہے۔ 

خامنائی اپنی کتاب ”الفكر السياسي عند خامنئي“(صفحہ 164) میں اس کی صراحت کرتے ہوئے لکھتا ہے: 

معصومین کے حوالے سے یہ روحانی مقام اللہ کی کلی خلافت اور تکوینی ولایت کی نمائندگی کرتا ہے، جس کی بنیاد پر کائنات کے تمام ذرات ان کے تابع ہیں۔

اگر کائنات کے تمام ذرات علی بن ابی طالب کے تابع تھے، تو پھر بقول ان کے، ابوبکر اور عمر کے ذرات نے ان کی خلافت کیسے چھین لی؟ ان کی سوچ کس قدر متضاد ہے! اگر ذرات تابع تھے، تو کیا ابن زیاد کے ذرات بھی حضرت حسینؓ کے تابع تھے جب اس نے انہیں شہید کیا؟ یا پھر وہ عیسائیوں کی طرح کہیں گے کہ وہ تو رب تھے اور یہودیوں نے انہیں مار دیا، کیونکہ ان کی اپنی یہی مرضی تھی؟

یہ عقیدہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ٹکراتا ہے: 

اَلَا لَـهُ الۡخَـلۡقُ وَالۡاَمۡرُ‌ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ (سورۃ الأعراف آیت 54)

ترجمہ: یاد رکھو کہ پیدا کرنا اور حکم دینا سب اسی کا کام ہے۔ بڑی برکت والا ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

کسی بھی مخلوق کے لیے مطلق ولایتِ تکوینیہ ثابت کرنا مقامِ ربوبیت میں شرک اور اس کے ساتھ صریح ٹکراؤ ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: 

اِنَّ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ لَنۡ يَّخۡلُقُوۡا ذُبَابًا وَّلَوِ اجۡتَمَعُوۡا لَهٗ‌ (سورۃ الحج آیت 73)

ترجمہ: تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن جن کو دعا کے لیے پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے، چاہے اس کام کے لیے سب کے سب اکٹھے ہوجائیں، 

سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا: اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ 

آپﷺ نے فرمایا ”أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ

 (یہ کہ تو اللہ کا کوئی شریک اور مدمقابل بنائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے)(رواه البخاري ومسلم)

8: خامنائی اللہ کے ساتھ ائمہ کو پکارنے اور ان سے حاجت طلبی کرنے کو بھی جائز سمجھتا ہے۔ چنانچہ اپنی کتاب ”الاستفتاءات الجديدة: صفحہ 233) میں جب اس سے ائمہ کے مرتبے کے وسیلے سے مانگنے کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا یوں کہہ سکتے ہیں کہ ”اے اللہ! اپنے سید مہدی کے حق کے واسطے سے عطا کر“

تو خامنائی نے جواب دیا: ”ان (اہل بیت) سے براہِ راست طلب کرنے میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہے، کیونکہ وہ ان ذرائع میں سے ہیں جنہیں اللہ نے مقرر کیا ہے۔“

یہ اس کا واضح کفر ہے کیونکہ دعا بذاتِ خود ایک عبادت ہے اور اسے غیر اللہ کے لیے صرف کرنا بلاشبہ شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: 

وَّاَنَّ الۡمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدۡعُوۡا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا (سورۃ الجن: آیت 18)

ترجمہ: اور یہ کہ سجدے تو تمام تر اللہ ہی کا حق ہیں۔ اس لیے اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت مت کرو۔

اور ایک مقام پر فرمایا: 

وَالَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ مَا يَمۡلِكُوۡنَ مِنۡ قِطۡمِيۡرٍ اِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡا دُعَآءَكُمۡ‌ وَلَوۡ سَمِعُوۡا مَااسۡتَجَابُوۡا لَـكُمۡ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُوۡنَ بِشِرۡكِكُمۡ وَلَا يُـنَـبِّـئُكَ مِثۡلُ خَبِيۡرٍ ( سورۃ فاطر: آیت 13، 14)

ترجمہ: اور اسے چھوڑ کر جن (جھوٹے خداؤں) کو تم پکارتے ہو، وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ اگر تم ان کو پکارو گے تو وہ تمہاری پکار سنیں گے ہی نہیں، اور اگر سن بھی لیں تو تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکیں گے، اور قیامت کے دن وہ خود تمہارے شرک کی تردید کریں گے۔ اور جس ذات کو تمام باتوں کی مکمل خبر ہے اس کی برابر تمہیں کوئی اور صحیح بات نہیں بتائے گا۔ 

جبکہ خامنائی صاف کہہ رہا ہے کہ ائمہ سے براہِ راست مانگ سکتے ہو جاہ اور وسیلہ کیا چیز ہے؟ حالانکہ قرآنی آیات صراحت کے ساتھ کہہ رہی ہیں کہ یہ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارنا ہے، اور جنہیں تم پکار رہے ہو چاہے وہ مہدی، حسن یا حسین ہی کیوں نہ ہوں وہ تمہاری پکار نہیں سن سکتے، اور روزِ قیامت وہ تمہارے اس عمل سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ قرآن نے غیر اللہ کو پکارنے کو شرک قرار دیا ہے۔

خامنائی اپنی کتاب ”تاريخ الإمام الخميني: صفحہ 109“ میں خمینی کا قول نقل کرتے ہوئے اس پر مزید اضافہ کرتا ہے: "رات کی تاریکیوں میں اللہ کے حضور دعا، تضرع، نوافل اور التجا کر کے، اور ہمارے سید و مولا امام مہدی سے توسل کر کے اس نعمت کی حفاظت کرو۔"

کتاب (المرأة في فكر الإمام الخامنئي: صفحہ 14) میں مذکور ہے:

تیسرا پہلو: سیدہ زہراء عنایت اور ملکوتی الطاف و کرم کی مالکہ ہیں، اور جو بھی ان کے وسیلے سے اللہ کی بارگاہ میں التجا کرتا ہے، وہ فیضیاب ہوتا ہے۔ امام (خامنائی) اس حوالے سے کہتا ہے: ”ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ آپ سب کے لیے اس باسعادت عید کو بابرکت فرمائے، اور آپ سب سیدۃ نساء العالمین کی الہٰی عنایت اور ملکوتی الطاف و کرم کے سائے میں رہیں“

ایک دوسرے مقام پر کہتا ہے: ہمیں اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہم ان (سیدہ زہراء) کی عنایت کا توسل اختیار کرتے ہیں۔ نیز سیدہ زہرا کی طرف محتاجی کا اظہار کرتے ہوئے امام فرماتے ہیں: ہم اس عظیم ہستی کے محتاج ہیں؛ یہ چمکتا ہوا اور روشن سورج اپنی برکات سے کائنات کی تمام موجودات کو فیض پہنچاتا ہے، اور اسی کی ایک کرن ہمارے گھروں میں بھی اجالا کرتی ہے۔

سنیوں میں سے اس کے حامی و سہولت کاران اکثر یہ دلیل دیتے ہیں کہ خامنائی تحریفِ قرآن (قرآن میں ردوبدل) کا قائل نہیں ہے۔ اور واقعی، اس نے اپنی کتاب ”الإسلام المحمدي“ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ”لوگ شیعوں پر جو جھوٹ باندھتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ شیعہ تحریفِ قرآن کے قائل ہیں۔“

لیکن ذرا غور کیجیے! خامنائی ایک طرف تو مصحف فاطمہ کے نام پر اصل قرآن کے مقابلے میں تین گنا بڑے اور مستقل قرآن کے وجود کا عقیدہ رکھتا ہے اور دوسری طرف اپنی کتاب ”الأصول الأربعة في علم الرجال“ میں شیعوں کے بڑے عالم طوسی کے بارے میں لکھتا ہے: "طوسی کی کتابوں کی قدر و قیمت ثابت کرنے کے لیے، اصل کتاب کی تحقیق سے پہلے، ہم ان کے مصنف کے معتبر ہونے اور ان کے بلند مقام کو بنیاد بنا سکتے ہیں۔" خامنائی مزید کہتا ہے: شیخ (طوسی) کی عظمت اور ان کا علمی مقام اتنی بلندی پر ہے کہ ان کی تصنیفات کی اہمیت سے انکار کی کوئی گنجائش ہی نہیں بچتی، ان کی ہر کتاب تفسیر، کلام، اصول اور فقہ کے میدان میں منفرد اور نمایاں ہے، جو کہ ابداع اور تجدید سے مالامال ہے۔

اب ذرا خامنائی کے نزدیک اس معتبر عالم، مجددِ دین اور عظیم المرتبت شخصیت طوسی کی معتبر کتابوں کو کھول کر دیکھتے ہیں۔ طوسی اپنی کتاب ”الفوائد الطوسية: صفحہ 483 میں لکھتا ہے: اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں محرمات کی تفصیل بیان کی تھی جو ہم تک پہنچی ہی نہیں۔

یعنی طوسی کے نزدیک قرآن کی کچھ آیات ہم تک پہنچی ہی نہیں!

طوسی مزید لکھتا ہے: روایات سے تواتر کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ ائمہ علیہم السلام کے سوا کسی نے پورا قرآن جمع نہیں کیا، اور جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے پورا قرآن جمع کر لیا ہے، وہ جھوٹا ہے۔ جبکہ صحیح نصوص اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جو قرآن محمدﷺ پر نازل ہوا تھا، اس میں 17 ہزار آیات تھیں۔ اور آج جو قرآن موجود ہے وہ تعداد کے اعتبار سے اس کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ اور یہ بھی امکان ہے کہ وہ غائب شدہ آیات موجودہ آیات سے طویل رہی ہوں اور تواتر کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ مہدی جب نکلے گا تو پورا قرآن ساتھ لائے گا، اکثر لوگ اسے پڑھیں گے لیکن بہت کم لوگ اسے قبول کریں گے۔

ثابت ہوا کہ طوسی کے نزدیک موجودہ قرآن نامکمل ہے اور اس میں سے چیزیں نکال دی گئی ہیں، اور اصل قرآن مہدی کے پاس ہے جسے وہ لے کر نکلے گا۔ یہ کوئی منسوخ شدہ آیات کا معاملہ نہیں ہے بلکہ طوسی واضح طور پر موجودہ قرآن کو نامکمل اور محرف مانتا ہے۔ اب آپ خود بتائیں کہ خامنائی کیسے تحریفِ قرآن کا قائل نہیں ہے جبکہ وہ ایک ایسے شخص کی اس قدر تعریف و تمجید کر رہا ہے جو کھلے عام تحریفِ قرآن کا عقیدہ رکھتا ہے؟ 

بالخصوص تب جب تقیہ اور نفاق ان کے مذہب کا بنیادی رکن ہے

اگر اہل سنت میں سے کوئی ایسی بات کہتا تو ہم اس کے کافر ہونے میں کوئی شبہ نہیں کرتے جبکہ یہ اس بدبخت کی امامت اور رفعت شان کی گواہی دے رہا ہے