رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ اول)…

رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ اول)

  مامون رشید

صفحہ 2 از 5

مزید فرماتے ہیں: "جس نے رسول اللہ کے علاوہ کسی اور کی غیر مشروط اطاعت کو واجب قرار دیا، اور اس کی دی گئی ہر خبر کی تصدیق کو لازمی ٹھہرایا، اور دین میں اس کے ہر حکم اور خبر میں اس کی عصمت یا حفاظت کو ثابت کیا، تو اس نے اس شخص کو رسول اللہ کے برابر لا کھڑا کیا اور رسالت کی خصوصیات میں اسے آپﷺ کا مدمقابل بنا دیا۔

 (جامع الرسائل لابن تيميہؒ رشاد سالم: جلد 1 صفحہ 273)

کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ابنِ تیمیہؒ کی یہ بات محض ایک الزامی حجت ہے؟ نہیں! بلکہ خامنائی نے اپنی کتابوں اور خطابات کے اندر خود ان باتوں کی صراحت کی ہے۔

کتاب ”الوحدة الإسلامية في فكر الإمام السيد علي خامنئي: صفحہ 53“ میں خامنائی کا قول نقل کیا گیا ہے کہتا ہے:”اہلِ بیت کے بارے میں اصل بات یہ ہے کہ وہ (اہل السنہ) ہماری طرح اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ علمی سلسلہ اہل بیت پر ختم ہوتا ہے، بلکہ وہ انہیں صرف ایسے راویوں کے طور پر دیکھتے ہیں جو نبی کریمﷺ سے حدیث نقل کرتے ہیں۔ جبکہ ہم اس نظریے کو نہیں مانتے۔ ہمارا ماننا یہ ہے کہ رسولِ اکرمﷺ کے اہل بیت نے جو کچھ بھی بیان فرمایا ہے، وہ ایک (مستقل) حکم الٰہی تصور کیا جاتا ہے اور اس کی حیثیت نبی کی حدیث جیسی ہی ہے اور ہم انہیں معصوم (گناہوں سے پاک) تسلیم کرتے ہیں۔“

یہی بات اس کے استاد خمینی نے بھی کی ہے، لکھتا ہے”وہ خطا نسیان لغزش اور زیادتی و سرکشی سے معصوم ہیں“

(الأربعون حديثا: صفحہ 125)

”ان ائمہ کے تعلق سے سہو اور غفلت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا“

(الحكومة الإسلاميۃ: صفحہ 91) 

ائمہ کی روحانیت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے:ان کے اندر غفلت، نیند و بیداری اور نسیان نہیں پائی جاتی۔

(الأربعون حديثا: صفحہ 374)

بلکہ یہاں تک لکھتا ہے کہ ائمہ کی معصومیت کامل و مطلق ہے، حتیٰ کہ ان کی معصومیت بہت سارے انبیاء کی عصمت سے اعلیٰ و اکمل ہے کیونکہ وہ انبیاء مکمل طور پر معصوم نہ تھے، اور شیطان کی چھیڑ چھاڑ سے محفوظ نہ رہ سکے تھے۔

(الآداب المعنوية للصلاة: جلد 1 صفحہ 63) 

3: خامنائی مکمل صراحت کے ساتھ کھلے عام یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ائمہ کی بات براہِ راست اللہ کا حکم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ائمہ کو انبیاء کے برابر لا کھڑا کیا ہے جو اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے، جیسا کہ قرآن میں انبیاء کے بارے میں ہے:

وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى، اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰى

ترجمہ: اور وہ اپنی خواہشِ نفس سے باتیں نہیں کرتے۔ یہ تو سراسر وحی ہے جو ان پر نازل کی جاتی ہے۔(سورۃ النجم: آیت 3، 4)

چنانچہ وہ کہتا ہے: ہمارا ماننا یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کے اہل بیت نے جو کچھ بھی بیان فرمایا ہے، وہ ایک (مستقل) حکمِ الٰہی ہے اور اس کی حیثیت نبی کی حدیث جیسی ہی ہے۔ 

(الوحدة الإسلاميۃ في فكر الإمام السيد علي خامنئي: صفحہ 53)

خامنائی کے استاد اور پہلے رہبر ایران خمینی نے بھی یہی بات کی ہے لکھتا ہے:

اہل بیت جو کہ معصوم و مطہر ہیں، اور جن پر وحی نازل ہوتی ہے اور فرشتے اترتے ہیں۔

(شرح دعاء السحر: صفحہ 64)

معصومین اہل بیت علیہم السلام جو کہ وحی کے معاون ہیں، ان کے اقوال و علوم وحی الہٰی اور کشف محمدی ہیں۔

(الآداب المعنوية للصلاة: جلد 1 صفحہ 207) 

ائمہ کو آسمان و زمین کے مابین اسباب و وسائط قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے:

وہ الٰہی آسمان اور مخلوق زمین کے مابین ربط قائم کرنے والے اسباب و وسائط ہیں۔

(شرح دعاء السحر: صفحہ 4) 

4: خامنائی نے حضرت فاطمہؓ کو معصوم قرار دیا ہے اور انہیں رسول اللہﷺ کے مرتبے پر لا کھڑا کیا ہے۔

 کتاب ”المرأة في فكر الإمام الخامنئي: صفحہ 16“ میں ہے: "ساتواں پہلو یہ ہے کہ سیدہ فاطمہؓ ایک معصوم ہستی ہیں، ان کے بارے میں امام (خامنائی) فرماتے ہیں: وہ بلا شبہ معصوم ہیں، وہ اپنی ذمہ داری کے اعتبار سے (اصطلاحی) رسول نہیں ہیں، اور نہ ہی اپنی سرکاری یا رسمی ذمہ داری کے لحاظ سے امام یا رسول اللہﷺ کی جانشین (خلیفہ) ہیں، لیکن اپنے مرتبے اور روحانی مقام کے لحاظ سے وہ رسول اور امام کے درجے پر فائز ہیں۔ 

یاد رہے کہ شیعہ اپنے ائمہ کو سوائے محمدﷺ کے تمام انبیاء سے افضل قرار دیتے ہیں، بلکہ خامنائی کے استاد خمینی نے تو بلا استثناء ائمہ کو تمام انبیاء سے افضل قرار دیا ہے کہتا ہے"ہمارے مسلک کے بدیہیات میں سے یہ ہے کہ ہمارے ائمہ کو ایک ایسا مقام حاصل ہے جہاں تک نہ تو کوئی مقرب فرشتہ پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی کوئی نبی مرسل" (الحكومة الإسلامية: صفحہ 52)

ان کے نزدیک ائمہ، حضرت ابراہیم، اسماعیل، الیاس اور یسع علیہم السلام سے بھی افضل ہیں۔ یہ خالص کفر ہے جس میں کوئی دو رائے نہیں، لیکن یہاں خام نائی نے سیدہ فاطمہؓ کو نبی کریمﷺ کے بالکل ہم پلہ قرار دیا ہے۔

5: خامنائی کا عقیدہ تھا کہ حضرت فاطمہؓ کے پاس فرشتے آتے تھے اور ان پر قرآن کی آیات نازل ہوتی تھیں، چنانچہ کہتا ہے: امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: بے شک فاطمہ محدثہ تھیں، یعنی فرشتے ان پر نازل ہوتے تھے، وہ ان سے مانوس ہوتے اور ان سے گفتگو کیا کرتے تھے۔ اس سلسلے میں متعدد روایات موجود ہیں اور امام صادق علیہ السلام سے مروی اس روایت میں یہ بھی صراحت ہے کہ فرشتے سیدہ فاطمہ زہراء علیہا السلام کے پاس آتے، ان سے باتیں کرتے اور انہیں اللہ کی آیات پڑھ کر سناتے تھے۔ اسی طرح امیرالمؤمنین علیہ السلام سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ زہراء علیہا السلام نے آپ سے ذکر کیا کہ فرشتے آتے ہیں، ان سے گفتگو کرتے ہیں اور انہیں کچھ مسائل و حقائق بتاتے ہیں، اس پر امیر المؤمنین علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ جب بھی وہ فرشتے کی آواز سنیں تو آپ (علیہ السلام) کو مطلع کریں تاکہ جو کچھ وہ سن رہی ہیں، آپ اسے تحریر کر لیں۔ چنانچہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے وہ سب کچھ لکھ لیا جو فرشتوں نے فاطمہ زہراء علیہا السلام پر املاء کرایا۔ اور یہی وہ تحریر ہے جو ائمہ علیہم السلام کے پاس ایک کتاب کی صورت میں موجود رہی جسے مصحف فاطمہ یا صحیفۂ فاطمہ کہا جاتا ہے۔ 

(المرأة في فكر الإمام الخامنئي: صفحہ 16) 

صفحہ 2 از 5