رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ اول)…

رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ اول)

  مامون رشید

صفحہ 3 از 5

 خامنائی حضرت فاطمہؓ کی طرف ایک مستقل مصحف (قرآن) جسے روافض مصحف فاطمہ کا نام دیتے ہیں کی نسبت کرتا تھا، جیسا کہ درج بالا عبارت میں بھی اس کی صراحت موجود ہے کہ فرشتے حضرت فاطمہ پر آیات نازل کرتے تھے اور علیؓ ان آیات کو لکھ لیا کرتے تھے اور یہی وہ چیزیں ہیں جنہیں ائمہ شیعہ مصحف فاطمہ کہتے ہیں۔ جس سے اس موقف کو تقویت ملتی ہے کہ عام شیعہ روافض خامنائی بھی تحریف اور نقص قرآن کا قائل ہے۔ 

اسی طرح کتاب ”مقتطفات من سيرة فاطمة الزهراء و زينب: صفحہ 143“ میں ہے خامنائی کہتا ہے: متعدد روایات میں آیا ہے کہ ائمہ علیہم السلام اپنے مختلف مسائل کے حل کے لیے مصحفِ فاطمہ کی طرف رجوع کیا کرتے تھے۔ 

اس کتاب کا حاشیہ لکھنے والا شخص امیرالمؤمنین علیؓ کی طرف ایک جھوٹی روایت منسوب کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ علی نے فرمایا: ”میری بیوی کو ایک ایسا مصحف دیا گیا ہے جس میں ایسا علم ہے جس تک ان سے پہلے کوئی نہیں پہنچ سکا۔“ اور امام باقر کی طرف منسوب کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”ہمارے پاس فاطمہ کا مصحف ہے۔ اور لوگوں کو کیا معلوم کہ فاطمہ کا مصحف کیا ہے؟ اس مصحف میں تمہارے اس قرآن جیسا تین گنا (مواد) ہے، اور اللہ کی قسم! اس میں تمہارے قرآن کا ایک لفظ بھی نہیں ہے بلکہ اس میں وہ چیزیں ہیں جو اللہ نے املا کروایا ہے اور ان کی طرف وحی کی ہے۔“

یہ روایت اس لیے گھڑی گئی تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ قرآن کی کوئی تفسیر وغیرہ ہے۔ 

خامنائی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہتا ہے: ”یہ کس قدر بلند علم ہے، اور کیسی بے نظیر معرفت اور حکمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے جوانی کی عمر میں ایک عورت کو عطا کی! امیر المؤمنین علیہ السلام نے ان سے درخواست کی کہ جب وہ فرشتے کی آواز سنیں تو انہیں بتائیں تاکہ وہ سن کر اسے لکھ لیں“ 

(مقتطفات من سيرة فاطمۃ الزهراء و زينب: صفحہ 144)

گویا فاطمہ نبی بن گئیں اور علی ان کے کاتبِ وحی! 

خامنائی مزید کہتا ہے: 

پس امیرالمؤمنین علیہ السلام نے وہ سب کچھ لکھ لیا جو فرشتوں نے فاطمہ علیہا السلام پر املا کرایا، اور یہ ائمہ کے پاس ایک موجود کتاب بن گئی جس کا نام مصحفِ فاطمہ یا صحیفہ فاطمہ ہے۔

 (مقتطفات من سيرة فاطمۃ الزهراء و زينب: صفحہ 144)

یہ ہے علی خامنائی کا عقیدہ جس کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو مسلمان ہے، آپ لوگ اس کی تکفیر کیوں کرتے ہیں؟ یہ تو فلسطین کا دفاع کرتا ہے۔یہ تو کفار کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ سوادِ اعظم کے ہاں معروف اسلام پر نہیں بلکہ ایک متوازی دین اور مستقل شریعت کا پیروکار ہے، جس کے مصادر تلقی عقیدہ و احکام مختلف ہیں، قرآن بھی مختلف ہے، رواتِ دین بھی الگ ہیں، احادیث بھی مختلف ہیں، ائمہ کے فرمودات کی صورت میں وحی کا ایک زائد اور مختلف منبع بھی موجود ہے اور ولایت فقیہ کے تصور کے ذریعے اس سلسلے کو لازوال وسعت بھی حاصل ہے۔ 

خامنائی کا ایک اور انتہائی خطرناک عقیدہ ولایتِ تکوینیہ کا عقیدہ ہے، جو کہ اسلام سے خارج کر دینے والے شیعہ عقائد میں سے ایک ہے۔ 

شیعہ عقیدہ میں ولایت کی کئی قسمیں بیان کی جاتی ہیں، جن میں ولایت تشریعیہ (قانون سازی اور شریعت کی تشریح کا حق) اور ولایت تکوینیہ شامل ہیں۔ ولایت تکوینیہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کے مادی اور وجودی نظام کو چلانے، خرقِ عادت، معجزات و کرامات کے ظہور اور کائنات کے تکوینی امور جیسے پیدائش، موت، رزق، عناصرِ فطرت پر قابو میں راست تصرف کا اختیار اپنے اذن سے ائمہ معصومین کو تفویض کر رکھا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ائمہ پوری کائنات کے نظام میں تصرف کا اختیار رکھتے ہیں اور کائنات کا ذرہ ذرہ ان کے تابع ہے۔

یہ صرف ایک روحانی کمال کا دعویٰ نہیں ہے، بلکہ اس کے گہرے سیاسی مضمرات بھی ہیں۔ چنانچہ جب یہ تسلیم کر لیا جائے کہ امام کو کائنات کے ذرات پر اختیار حاصل ہے تو غیبتِ امام کے دور میں اس کا مقرر کردہ زمینی نائب (یعنی ولی فقیہ، جو کہ خامنائی خود تھا) عوام کی نظر میں ایک انتہائی مقدس، ناقابلِ احتساب، اور مطلق اختیارات کا حامل حکمران بن جاتا ہے۔ 

خامنائی اپنی کتاب ”الفكر السياسي عند خامنئي“(صفحہ 164) میں اس کی صراحت کرتے ہوئے لکھتا ہے: 

معصومین کے حوالے سے یہ روحانی مقام اللہ کی کلی خلافت اور تکوینی ولایت کی نمائندگی کرتا ہے، جس کی بنیاد پر کائنات کے تمام ذرات ان کے تابع ہیں۔

اگر کائنات کے تمام ذرات علی بن ابی طالب کے تابع تھے، تو پھر بقول ان کے، ابوبکر اور عمر کے ذرات نے ان کی خلافت کیسے چھین لی؟ ان کی سوچ کس قدر متضاد ہے! اگر ذرات تابع تھے، تو کیا ابن زیاد کے ذرات بھی حضرت حسینؓ کے تابع تھے جب اس نے انہیں شہید کیا؟ یا پھر وہ عیسائیوں کی طرح کہیں گے کہ وہ تو رب تھے اور یہودیوں نے انہیں مار دیا، کیونکہ ان کی اپنی یہی مرضی تھی؟

یہ عقیدہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ٹکراتا ہے: 

اَلَا لَـهُ الۡخَـلۡقُ وَالۡاَمۡرُ‌ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الۡعٰلَمِيۡنَ (سورۃ الأعراف آیت 54)

ترجمہ: یاد رکھو کہ پیدا کرنا اور حکم دینا سب اسی کا کام ہے۔ بڑی برکت والا ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

کسی بھی مخلوق کے لیے مطلق ولایتِ تکوینیہ ثابت کرنا مقامِ ربوبیت میں شرک اور اس کے ساتھ صریح ٹکراؤ ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: 

اِنَّ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ لَنۡ يَّخۡلُقُوۡا ذُبَابًا وَّلَوِ اجۡتَمَعُوۡا لَهٗ‌ (سورۃ الحج آیت 73)

ترجمہ: تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن جن کو دعا کے لیے پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے، چاہے اس کام کے لیے سب کے سب اکٹھے ہوجائیں، 

سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا: اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ 

آپﷺ نے فرمایا ”أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ

 (یہ کہ تو اللہ کا کوئی شریک اور مدمقابل بنائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے)(رواه البخاري ومسلم)

صفحہ 3 از 5