رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ اول)…

رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ اول)

  مامون رشید

صفحہ 4 از 5

8: خامنائی اللہ کے ساتھ ائمہ کو پکارنے اور ان سے حاجت طلبی کرنے کو بھی جائز سمجھتا ہے۔ چنانچہ اپنی کتاب ”الاستفتاءات الجديدة: صفحہ 233) میں جب اس سے ائمہ کے مرتبے کے وسیلے سے مانگنے کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا یوں کہہ سکتے ہیں کہ ”اے اللہ! اپنے سید مہدی کے حق کے واسطے سے عطا کر“

تو خامنائی نے جواب دیا: ”ان (اہل بیت) سے براہِ راست طلب کرنے میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہے، کیونکہ وہ ان ذرائع میں سے ہیں جنہیں اللہ نے مقرر کیا ہے۔“

یہ اس کا واضح کفر ہے کیونکہ دعا بذاتِ خود ایک عبادت ہے اور اسے غیر اللہ کے لیے صرف کرنا بلاشبہ شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: 

وَّاَنَّ الۡمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدۡعُوۡا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا (سورۃ الجن: آیت 18)

ترجمہ: اور یہ کہ سجدے تو تمام تر اللہ ہی کا حق ہیں۔ اس لیے اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت مت کرو۔

اور ایک مقام پر فرمایا: 

وَالَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ مَا يَمۡلِكُوۡنَ مِنۡ قِطۡمِيۡرٍ اِنۡ تَدۡعُوۡهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡا دُعَآءَكُمۡ‌ وَلَوۡ سَمِعُوۡا مَااسۡتَجَابُوۡا لَـكُمۡ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُوۡنَ بِشِرۡكِكُمۡ وَلَا يُـنَـبِّـئُكَ مِثۡلُ خَبِيۡرٍ ( سورۃ فاطر: آیت 13، 14)

ترجمہ: اور اسے چھوڑ کر جن (جھوٹے خداؤں) کو تم پکارتے ہو، وہ کھجور کی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ اگر تم ان کو پکارو گے تو وہ تمہاری پکار سنیں گے ہی نہیں، اور اگر سن بھی لیں تو تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکیں گے، اور قیامت کے دن وہ خود تمہارے شرک کی تردید کریں گے۔ اور جس ذات کو تمام باتوں کی مکمل خبر ہے اس کی برابر تمہیں کوئی اور صحیح بات نہیں بتائے گا۔ 

جبکہ خامنائی صاف کہہ رہا ہے کہ ائمہ سے براہِ راست مانگ سکتے ہو جاہ اور وسیلہ کیا چیز ہے؟ حالانکہ قرآنی آیات صراحت کے ساتھ کہہ رہی ہیں کہ یہ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارنا ہے، اور جنہیں تم پکار رہے ہو چاہے وہ مہدی، حسن یا حسین ہی کیوں نہ ہوں وہ تمہاری پکار نہیں سن سکتے، اور روزِ قیامت وہ تمہارے اس عمل سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ قرآن نے غیر اللہ کو پکارنے کو شرک قرار دیا ہے۔

خامنائی اپنی کتاب ”تاريخ الإمام الخميني: صفحہ 109“ میں خمینی کا قول نقل کرتے ہوئے اس پر مزید اضافہ کرتا ہے: "رات کی تاریکیوں میں اللہ کے حضور دعا، تضرع، نوافل اور التجا کر کے، اور ہمارے سید و مولا امام مہدی سے توسل کر کے اس نعمت کی حفاظت کرو۔"

کتاب (المرأة في فكر الإمام الخامنئي: صفحہ 14) میں مذکور ہے:

تیسرا پہلو: سیدہ زہراء عنایت اور ملکوتی الطاف و کرم کی مالکہ ہیں، اور جو بھی ان کے وسیلے سے اللہ کی بارگاہ میں التجا کرتا ہے، وہ فیضیاب ہوتا ہے۔ امام (خامنائی) اس حوالے سے کہتا ہے: ”ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ آپ سب کے لیے اس باسعادت عید کو بابرکت فرمائے، اور آپ سب سیدۃ نساء العالمین کی الہٰی عنایت اور ملکوتی الطاف و کرم کے سائے میں رہیں“

ایک دوسرے مقام پر کہتا ہے: ہمیں اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہم ان (سیدہ زہراء) کی عنایت کا توسل اختیار کرتے ہیں۔ نیز سیدہ زہرا کی طرف محتاجی کا اظہار کرتے ہوئے امام فرماتے ہیں: ہم اس عظیم ہستی کے محتاج ہیں؛ یہ چمکتا ہوا اور روشن سورج اپنی برکات سے کائنات کی تمام موجودات کو فیض پہنچاتا ہے، اور اسی کی ایک کرن ہمارے گھروں میں بھی اجالا کرتی ہے۔

سنیوں میں سے اس کے حامی و سہولت کاران اکثر یہ دلیل دیتے ہیں کہ خامنائی تحریفِ قرآن (قرآن میں ردوبدل) کا قائل نہیں ہے۔ اور واقعی، اس نے اپنی کتاب ”الإسلام المحمدي“ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ”لوگ شیعوں پر جو جھوٹ باندھتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ شیعہ تحریفِ قرآن کے قائل ہیں۔“

لیکن ذرا غور کیجیے! خامنائی ایک طرف تو مصحف فاطمہ کے نام پر اصل قرآن کے مقابلے میں تین گنا بڑے اور مستقل قرآن کے وجود کا عقیدہ رکھتا ہے اور دوسری طرف اپنی کتاب ”الأصول الأربعة في علم الرجال“ میں شیعوں کے بڑے عالم طوسی کے بارے میں لکھتا ہے: "طوسی کی کتابوں کی قدر و قیمت ثابت کرنے کے لیے، اصل کتاب کی تحقیق سے پہلے، ہم ان کے مصنف کے معتبر ہونے اور ان کے بلند مقام کو بنیاد بنا سکتے ہیں۔" خامنائی مزید کہتا ہے: شیخ (طوسی) کی عظمت اور ان کا علمی مقام اتنی بلندی پر ہے کہ ان کی تصنیفات کی اہمیت سے انکار کی کوئی گنجائش ہی نہیں بچتی، ان کی ہر کتاب تفسیر، کلام، اصول اور فقہ کے میدان میں منفرد اور نمایاں ہے، جو کہ ابداع اور تجدید سے مالامال ہے۔

اب ذرا خامنائی کے نزدیک اس معتبر عالم، مجددِ دین اور عظیم المرتبت شخصیت طوسی کی معتبر کتابوں کو کھول کر دیکھتے ہیں۔ طوسی اپنی کتاب ”الفوائد الطوسية: صفحہ 483 میں لکھتا ہے: اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں محرمات کی تفصیل بیان کی تھی جو ہم تک پہنچی ہی نہیں۔

یعنی طوسی کے نزدیک قرآن کی کچھ آیات ہم تک پہنچی ہی نہیں!

طوسی مزید لکھتا ہے: روایات سے تواتر کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ ائمہ علیہم السلام کے سوا کسی نے پورا قرآن جمع نہیں کیا، اور جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے پورا قرآن جمع کر لیا ہے، وہ جھوٹا ہے۔ جبکہ صحیح نصوص اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جو قرآن محمدﷺ پر نازل ہوا تھا، اس میں 17 ہزار آیات تھیں۔ اور آج جو قرآن موجود ہے وہ تعداد کے اعتبار سے اس کا تقریباً ایک تہائی ہے۔ اور یہ بھی امکان ہے کہ وہ غائب شدہ آیات موجودہ آیات سے طویل رہی ہوں اور تواتر کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ مہدی جب نکلے گا تو پورا قرآن ساتھ لائے گا، اکثر لوگ اسے پڑھیں گے لیکن بہت کم لوگ اسے قبول کریں گے۔

ثابت ہوا کہ طوسی کے نزدیک موجودہ قرآن نامکمل ہے اور اس میں سے چیزیں نکال دی گئی ہیں، اور اصل قرآن مہدی کے پاس ہے جسے وہ لے کر نکلے گا۔ یہ کوئی منسوخ شدہ آیات کا معاملہ نہیں ہے بلکہ طوسی واضح طور پر موجودہ قرآن کو نامکمل اور محرف مانتا ہے۔ اب آپ خود بتائیں کہ خامنائی کیسے تحریفِ قرآن کا قائل نہیں ہے جبکہ وہ ایک ایسے شخص کی اس قدر تعریف و تمجید کر رہا ہے جو کھلے عام تحریفِ قرآن کا عقیدہ رکھتا ہے؟ 

صفحہ 4 از 5