سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما جب جاں کنی کی حالت میں ہو گئے تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دفنانا، ہاں اگر خونریزی کا خوف ہو گا تو میرے بارے میں خون مت بہانا، مجھے مسلمانوں کے عام قبرستان میں دفن کر دینا، جب وفات ہو گئی تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے تمام ہم نوا مسلح ہو گئے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: میں آپ کو آپ کے بھائی کی وصیت اور اللہ کا واسطہ دے رہا ہوں، آپ جو چاہ رہے ہیں اسے قوم بغیر خونریزی کے ہونے نہیں دے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوار میں سیدنا حسنؓ کی تدفین کی مخالفت کرتے ہوئے مروان بن حکمؓ نے کہا: یہاں کسی صورت میں ان کو دفن نہیں کیا جائے گا، چنانچہ ابوہریرہ، جابر بن عبداللہ، ابنِ عمر، عبداللہ بن جعفر اور مسور بن مخرمہ وغیرہم رضی اللہ عنہم حسین کو اپنی رائے سے رجوع پر آمادہ کرتے رہے تاآنکہ انھوں نے رجوع کر لیا، پھر لوگوں نے آپ کو بقیع الغرقد قبرستان میں آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ فاطمۃ رضی اللہ عنہا کے جوار میں دفنا دیا۔
(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 98)
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے دفن سے متعلق ضعیف روایتیں گڈمڈ ہو گئیں اور اس سے گمراہ لوگوں کو جھوٹ اور من گھڑت باتوں کو ملانے کا موقع مل گیا، انھی میں سے بعض کا زعم باطل ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے جوار میں ان کی تدفین کا انکار کرتے ہوئے کہا تھا: یہاں کبھی کوئی چوتھا شخص نہیں ہوگا، یہ میرا گھر ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی ہی میں مجھے دے دیا تھا، لیکن یہ بات درست نہیں، اس کی سند تاریک یعنی غیر معروف ہے۔
(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 276)
ابن تیمیہ رحمۃاللہ نے ثابت کیا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انھیں اپنے حجرے میں دفن کرنے کی اجازت دے دی تھی، لیکن دوسرے لوگوں نے اسے ناپسند کیا، ان کا خیال تھا کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تدفین اس میں نہیں ہوئی تو کوئی دوسرا اس میں دفن نہیں کیا جائے گا، اور قریب تھا کہ فتنہ اٹھ کھڑا ہو۔
(مجموع الفتاویٰ: جلد 27، صفحہ 222)
تاریخی کتابوں میں جو یہ بات مذکور ہے کہ ابان بن عثمان بن عفان نے کہا: یہ بڑی تعجب خیز ہے کہ قاتلِ عثمان رضی اللہ عنہ کے بیٹے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ دفن کیا جائے اور مظلوم و شہید امیر المؤمنین کو بقیع الغرقد میں دفن کیا جائے،
(الطبقات تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 355، اس کی سند بہت ہی ضعیف ہے۔)
تو اس کی سند بہت ہی ضعیف ہے، اس کی متن میں نکارت ہے۔
(الطبقات تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 355)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوار میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے دفن پر مروان بن حکم کے اعتراض کو بعض روایتوں میں ذکر کیا گیا ہے، لیکن ان کی سندیں ضعیف ہیں، انھیں ڈاکٹر محمد صامل سلمی نے کتاب الطبقات کی تحقیق میں ذکر کیا ہے۔
(الطبقات تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 356، 357، 364، ان کی سندوں کے ضعف کو بیان کیا ہے۔)
اس سلسلے کی صحیح روایت وہ ہے جسے ابوحازم روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ جاں کنی کے عالم میں ہوئے تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دفن کرنا، لیکن اگر تمھیں خونریزی کا خوف ہو تو میرے بارے میں کوئی خون مت بہانا، مجھے عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفنا دینا، جب سیدنا حسنؓ کی وفات ہوگئی تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے تمام ہم نوا مسلح ہوگئے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ کو آپ کے بھائی کی وصیت اور اللہ کا واسطہ دے رہا ہوں، آپ جو چاہ رہے ہیں اسے قوم بغیر خونریزی کے ہونے نہیں دے گی، چنانچہ وہ آپ کو اپنی رائے سے رجوع پر آمادہ کرتے رہے تاآنکہ آپ نے رجوع کر لیا، کہتے ہیں کہ پھر لوگوں نے سیدنا حسنؓ کو بقیع الغرقد قبرستان میں دفن کردیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تمھاری کیا رائے ہے اگر موسیٰ علیہ السلام کے بیٹے کو لا کر باپ کے پاس دفنایا جاتا، پھر لوگوں کی جانب سے منع کر دیا جاتا، تو کیا ان کا منع کرنا ان پر ظلم ہوتا؟ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے کہا: ہاں، پھر انھوں نے (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) کہا:یہ اللہ کے نبی کے نواسے ہیں، انھیں لایا گیا ہے تاکہ اپنے ناناکے پاس انھیں دفنایا جائے۔
(الطبقات تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 340، اس کی سند صحیح ہے۔)
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی نماز جنازہ سعید بن عاص رضی اللہ عنہ پڑھاتے ہوئے رو رہے تھے، سیدنا حسنؓ کے مرض الموت کی مدت چالیس دن تھی۔
(المستدرک علی الصحیحین: جلد 3 صفحہ 190)
سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کو بڑھایا اس لیے کہ وہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے مدینہ کے گورنر تھے، وہ فتنے سے دور تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہ کر جنگ بھی نہیں کی تھی، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی جانب سے کوفہ کے گورنر رہے، انھی کے بارے میں فرزدق نے کہا تھا:
تری الغُرَّ الجُحَاجِحَ من قریش إذا ما الامر ذو الحدثان عالا
’’جب کہ کوئی پریشانی والا معاملہ پیش آتا ہے تو قریش کے معزز گورے سرداروں کو دیکھو گے‘‘
قیاما ینظرون إلی سعید کانہم یرون بہ ہلالا
(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 445)
’’کہ وہ کھڑے ہو کر سعید بن عاصؓ کو اس طرح دیکھتے ہیں گویا وہ انھیں ہلالِ عید (خوشی کا باعث) سمجھتے ہوں۔‘‘
سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کی فصاحت اور اس لیے بھی کہ ان کا لہجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لہجہ کے مشابہ تھا انھیں بھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کتابتِ مصحف کا مکلف بنایا تھا۔
(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 448، 449)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد نبوی کے پاس کھڑے ہو کر رو رہے تھے، اور بآواز بلند اعلان کر رہے تھے، لوگو! آج کے دن اس شخصیت نے وفات پائی ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی محبت کرتے تھے، اس لیے تمھیں رونا چاہیے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 12 صفحہ 211، الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 98)
سیدنا حسنؓ کے جنازے میں لوگ اس طرح جمع ہوگئے کہ بھیڑ کے باعث بقیع میں کسی اور کی گنجائش نہیں رہ گئی تھی۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 12 صفحہ 211)
اگر کوئی سوئی بھی پھینک دی جاتی تو کسی انسان کے سر پر ہی رہ جاتی۔
(الطبقات: تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 352، اس کی سند ضعیف ہے۔)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بردبار، تقویٰ شعار اور صاحبِ فضیلت تھے، تقویٰ شعاری ہی نے اللہ کے پاس جو کچھ ہے اس کی چاہت میں انھیں خلافت اور دنیا کو ترک کر دینے کی دعوت دی تھی، سیدنا حسنؓ کے بارے میں امام ذہبی رحمۃاللہ کہتے ہیں: یہ امام سردار، خوبصورت، عقلمند، باوقار، سخی، لائق تعریف، دین و تقویٰ شعاری میں بہتر، وضع دار اور بڑی شان والے تھے۔
(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 253)
اللہ کی رحمت اور خوشنودی ہو اس جلیل القدر سردار پر، ان کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ رکھے، سیدنا حسنؓ کی سیرت میں عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔ اللہ تعالیٰ علامہ اقبال پر رحم فرمائے انھوں نے کہا ہے:
فی روض فاطمۃ نما غصنان لم
ینجبہا فی النیرات سواہا
فامیر قافلۃ الجہاد و قطب دا
ئرۃ الوئام و الاتحاد ابناہا
حسن الذی صان الجماعۃ بعد ما
أمسی تفرقہا یحل عراہا
ترک الإمامۃ ثم أصبح فی الدیا
ر إمام الفتہا و حسنُ عَلاہا
(الدوحۃ النبویۃ الشریفۃ: صفحہ 99)