رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ دوم)…

رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ دوم)

  مامون رشید

صفحہ 1 از 6

9: جب بھی شیعوں کا ذکر آتا ہے، تو بعض لوگ ان کے مذکورہ بالا کفریہ عقائد کو چھوڑ کر صرف یہ کہتے ہیں کہ یہ صحابہؓ پر طعن کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے ہاں ائمہ کو انبیاء سے بالاتر سمجھنے اور کائنات کے ذرات پر ائمہ کی ولایت تکوینیہ کا عقیدہ صحابہؓ کے بارے میں ان کے عقیدے سے بھی زیادہ خطرناک اور شرکِ اکبر ہے۔

بہرحال، صحابہ کرامؓ اس دین کے ستون اور نبی کریمﷺ کے انصار و مددگار ہیں، اس لیے اب ہم صحابہ کرامؓ کے حوالے سے داعی وحدت امت خامنائی کے افکار کا جائزہ لیتے ہیں:

خامنائی اپنی (کتاب الخواص صفحہ : 58) میں صحابہؓ کے بارے میں لکھتا ہے کہ جب خلافت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو ملی، حالانکہ علی اس کے حقدار تھے تو سوائے فاطمہ اور چند صحابہ کے کسی نے علی کی مدد نہیں کی اور سب ان پر کتوں کی طرح ٹوٹ پڑے۔

معاذ اللہ یہ صحابہؓ کی شان میں کتنی بڑی گستاخی ہے کہ انہیں کتے سے تشبیہ دی جائے افسوس کی بات ہے یہ کہ اس کے باوجود سہولت کاران رافضیت کو سمجھ نہیں آئے گا اور اسے قائد معظم باور کرائیں گے۔

وہ مزید لکھتا ہے: پس علی دو گروہوں کے درمیان پھنس گئے۔ پہلا گروہ ان کے حق کو نظر انداز کرنے والا اور دوسرا منافق اور حاسد تھا۔ یہاں خامنائی صحابہؓ کو صریحاً منافق کہہ رہا ہے۔ اب کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ وہ صحابہؓ پر طعن نہیں کرتا؟ کیا خامنائی کے حامیوں سے یہ سب باتیں مخفی ہیں اور وہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ وہ بظاہر صحابہؓ کو گالی دینے سے منع کرتا تھا؟ وہ صحابہؓ کو منافق اور کتوں کی طرح ٹوٹ پڑنے والا کہہ رہا ہے، کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی گالی ہو سکتی ہے؟

پھر وہ حضرت علیؓ کے بارے میں کہتا ہے: ہاں انہوں نے نبیﷺ کی تجہیز و تکفین کے حوالے سے اپنا فرض نبھایا، لیکن افسوس کہ دوسروں نے ان کی اس مصروفیت کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔

گویا صحابہؓ معاذ اللہ اسی تاک میں تھے کہ سیدنا علیؓ مصروف ہوں تو ہم خلافت چرا لیں! حقیقت یہ ہے کہ امت کو اس وقت ایک خلیفہ کی اشد ضرورت تھی جو امت کے معاملات کو سنبھالتا، اس لیے صحابہ کرامؓ نے خلیفہ کے انتخاب میں جلدی کی۔

سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی اور بعد میں حضرت علیؓ نے بھی خوشی سے بیعت کی۔

لیکن خامنائی کہتا ہے: انہوں نے ان کی مصروفیت کا فائدہ اٹھایا اور خلافت پر قبضہ کر کے اسے چرا لیا، اور ان کے حق سے انہیں محروم کر دیا۔ اور اس بزدلانہ حرکت کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ کیا حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو چور بزدل منافق اور حق غصب کرنے والا کہنا گالی نہیں ہے؟ خامنائی کے حامیوں کے نزدیک شاید یہ گالی شمار نہیں ہوتی۔

اے بد نصیب سہولت کاران تم لوگوں سے جھوٹ کیوں بولتے ہو کہ وہ صحابہؓ کو گالی نہیں دیتا؟ اگر کوئی تمہارے باپ کے بارے میں یہ الفاظ کہے تو تم برداشت نہیں کرو گے تو رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے بارے میں یہ سب کیسے برداشت کر لیتے ہو؟

بلکہ اگر وہی باتیں ہم خود اس خامنائی کے بارے میں کہیں، جن کا وہ حقیقتاً حقدار ہے، تو تم ہمیں فوراً منافق قرار دو گے کیونکہ تمہارے ہاں کسی کو کافر قرار دینا سب سے آسان کام ہے۔ تم تحریکی اخوانی اور رافضیت کے سہولت کاران جن کے لیے اپنے مخالف کو صیہونی کافر اور منافق کہنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

خامنائی اپنی کتاب ”الخواص“ کے صفحہ 59 میں حضرت عمر فاروقؓ پر الزام لگاتا ہے کہ انہوں نے لات مار کر حضرت فاطمہؓ کے گھر کا دروازہ توڑ دیا تھا اور ان کی بے حرمتی کرتے ہوئے گھر میں داخل ہو گئے تھے، اسی طرح صفحہ 61 میں لکھا ہے حضرت عمرؓ نے رسول اللہﷺ کو حضرت علیؓ کے نام خلافت کی وصیت لکھنے سے روک دیا تھا۔

خامنائی اپنی کتاب إن النصر مع الصبر میں ان لوگوں کی تعریف کرتا ہے جو صحابہؓ پر لعنت بھیجتے ہیں۔ چنانچہ صفحہ 138 پر لکھتا ہے: 

سید نزاری ایک انتہائی عبادت گزار شخص تھا۔ مجھے یاد ہے وہ روزانہ بلند آواز میں زیارت عاشوراء پڑھا کرتا تھا۔ سب کو معلوم ہے کہ زیارت عاشوراء کے متن میں کیا کچھ ہے۔ وہ اہل بیت پر درود و سلام بھیجتا اور ان کے دشمنوں پر لعنت کرتا تھا، اور پھر وہ راستے میں چلتے ہوئے اپنا یہ وظیفہ جاری رکھتا تھا۔

شیعہ سیاق و سباق میں اہل بیت کے دشمنوں پر لعنت کا سیدھا مطلب حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ پر لعنت کرنا ہے، یہ بات پر وہ شخص جانتا ہے جو شیعہ عقائد سے واقف ہے، اس کے باوجود خامنائی اسے عابد و زاہد قرار دے رہا ہے۔

اپنی کتاب (الخواص: صفحہ 63) میں جلیل القدر صحابی حضرت عبد الرحمٰن بن عوفؓ پر طعن کرتے ہوئے لکھتا ہے: عبد الرحمٰن میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ کھلم کھلا مخالفت کرتے، اس لیے انہوں نے مکر و فریب کا سہارا لیا اور اسی دھوکے کے ذریعے عبد الرحمٰن بن عوفؓ اور ان کے گروہ نے لوگوں کو حق اور انصاف کے محور سے ہٹانے میں کامیابی حاصل کر لی اور یوں امام علی علیہ السلام تنہا، بے یار و مددگار رہ گئے اور ان کا حق چھین لیا گیا، ان کی حالت یہ تھی کہ ان کا دل ان تکالیف اور مصائب کی وجہ سے پھٹا جا رہا تھا جو انہوں نے ان لوگوں اور ان جیسے دوسرے افراد کے ہاتھوں جھیلیں۔

مزید لکھتا ہے اور ابوبکر پر تعجب ہے کہ وہ دوسروں پر تفرقہ بازی کا الزام لگاتے ہیں، جبکہ وہ یہ بھول بیٹھے کہ وہی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے مسلمانوں کی جمعیت کو منتشر کیا اور رسول اللہﷺ کی تدفین کو چھوڑ کر اپنے گروہ کے ساتھ سقیفہ میں خلافت کے معاملے پر گٹھ جوڑ کرنے چلے گئے، انہوں نے پردے کے پیچھے ایسی سازشوں کے تانے بانے بنے جن کا مقصد خلافت کو اس کے حقیقی حقدار سے چھین کر غصب کرنا تھا (الخواص: صفحہ 57)

صفحہ 1 از 6