رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ دوم)…

رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ دوم)

  مامون رشید

صفحہ 2 از 6

کبار صحابہؓ پر دنیا طلبی اور مال و دولت کے حرص و ہوس کا الزام لگاتے ہوئے لکھتا ہے: یہ تمام معاملات رسول اللہﷺ کی وفات کے سات سال بعد پیش آئے اور ان انحرافات) کے پہلے آثار اس وقت نمودار ہوئے جب یہ کہا گیا کہ اسلام میں سبقت رکھنے والے یعنی رسول اللہﷺ کے وہ اصحابؓ جنہوں نے آپﷺ کے ساتھ جنگوں میں شرکت کی عام لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے ان کے لیے خصوصی مراعات بونی چاہئیں۔ چنانچہ انہیں بیت المال سے مالی مراعات دی گئیں۔ یہ امتیازی سلوک کی پہلی اینٹ تھی، اور تمام منحرف تحریکوں کا حال یہی ہوتا ہے کہ وہ ایک چھوٹے سے نقطے سے شروع ہوتی ہیں اور پھر ہر قدم کے ساتھ ان کی شدت بڑھتی چلی جاتی ہے۔

یہ انحرافات یہیں سے شروع ہوئے یہاں تک کہ

سیدنا عثمان بن عفانؓ کا دور آ گیا، جہاں تیسرے خلیفہ کے دور حکومت کے وسط تک حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ رسول اللہﷺ کے بڑے بڑے صحابہؓ اپنے زمانے کے امیر ترین لوگ بن گئے۔ یعنی وہ نامور صحابہؓ جیسے طلحہ زبیر اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم وغیرہ جن کے بڑے کارنامے تھے، وہ پہلی صف کے سرمایہ دار بن گئے یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کا انتقال ہوا اور وارثوں میں اس کا مال تقسیم کرنے لگے تو سونے کو جسے اس نے پگھلا کر اینٹوں (ڈلیوں کی شکل دے رکھی تھی، کلہاڑیوں سے توڑنا پڑا، بالکل ویسے ہی جیسے لکڑی کو کلہاڑی سے توڑا جاتا ہے۔ ذرا سوچیں کہ سونے کی مقدار کتنی زیادہ ہو گی کہ اسے کلہاڑیوں سے توڑنے کی ضرورت پڑی؟ جبکہ حال یہ ہے کہ سونا تو ماشوں اور تولوں (مثقال میں تولا جاتا ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جنہیں تاریخ نے محفوظ کیا ہے! یہ ایسی باتیں نہیں ہیں جن کے بارے میں یہ کہا جائے کہ انہیں صرف شیعوں نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے 

برگز نہیں، بلکہ یہ سب شیعہ مورخین نے لکھا ہے۔ ان لوگوں نے دینار و درہم کی جو رقوم چھوڑی تھیں وه ہوش ربا حد تک زیادہ تھیں اور یہ 

صورتحال تھی جو امیرالمؤمنین (علی ابن ابی طالب علیہ السلام) کے دور میں ان جنگوں اور فتنوں جیسے واقعات کا باعث بنی یعنی چونکہ بعض لوگوں کے نزدیک منصب اور مال کی اہمیت حد سے بڑھ چکی تھی اس لیے انہوں نے آپؓ (علی) کے ساتھ تصادم کا راستہ اختیار کیا۔ اس وقت رسول اللہﷺ کی وفات کو پچیس سال گزر چکے تھے اور بہت سی غلطیاں اور لغزشیں معاشرے میں جڑ پکڑ چکی تھیں

(الخواص: صفحہ 30)

خامنائی نے صحابی رسول عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ کے نسب میں طعن کیا ہے اور ان کی والدہ پر زنا کی تہمت لگائی اور انہیں ولد الزنا قرار دیا ہے. چنانچہ لکھتا ہے عمر بن عاص بن وائل کا تعلق قبیلہ بنی سہیم سے ہے، اور (علامہ زمخشری کی نقل کرده روایت ربیع الأبرار کے مطابق اس کی ماں تابق بنت حرملہ قبیلہ عنزہ کی ایک لونڈی تھی جسے ایک جنگ میں قیدی بنا کر مکہ لایا گیا تھا اور عبداللہ بن جدعان تیمی نے اسے خرید لیا تھا۔ وہ ان عورتوں میں سے تھی جو اپنے گھروں پر جھنڈے لگا کر اعلانیہ زنا کیا کرتی تھیں۔ چنانچہ ایک ہی رات میں ابولہب امیہ بن خلف، بشام بن مغیره ابوسفیان اور عاص بن وائل نے اس کے ساتھ زنا کیا جس سے وہ حاملہ ہوئی اور عمرو بن عاص پیدا بوا.

اس بچے کی پیدائش پر ان پانچوں مردوں میں جھگڑا ہو گیا اور ہر ایک یہ دعویٰ کرنے لگا کہ عمرو اس کا بیٹا ہے کیونکہ وہ ان سب سے مشابہت رکھتا تھا۔ آخر کار فیصلہ اس کی ماں پر چھوڑ دیا گیا تو اس نے کہا: یہ عاص بن وائل کا بیٹا ہے اور میرا یہ حمل اسی سے ٹھہرا تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق اس انتخاب کی وجہ یہ تھی کہ عاص بن وائل نے اس عورت کو اس کے دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں زیادہ اجر (رقم) دیا تھا، اسی لیے اس نے مادی مفاد کی خاطر اسے عاص کی طرف منسوب کر دیا؟

(الخواص: صفحہ 4)

 مزيد لکھتا ہے معاویہ بن ابی سفیان، عمرو بن عاص ابن ابی معیط ولید بن عقبه)، حبيب بن مسلمہ اور ابن ابی سرح عبداللہ بن سعد) یہ لوگ نہ تو دیندار تھے اور نہ ہی قرآن والے یعنی ان کا دین اور قرآن کے احکامات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ بچین میں بھی بدترین بچے تھے اور بڑے ہو کر بھی بدترین مرد ثابت ہوئے۔

(الخواص 82-83)

 کیا آپ کو مزید طعن و تشنیع کے نمونے چاہئیں؟ اس کے خامنائی کی کتاب الخواص کا مطالعہ کریں جو صحابہؓ کی شان میں گستاخیوں اور ان پر طعن و تشنيع اور سب وشتم سے بھری پڑی ہے۔ خامنائی اپنی کتاب (الدروس العظيمة من سيرة أهل البيت: صفحہ 17) میں حضرت معاویہؓ کو ایک گھٹیا شخص قرار دیتا ہے، اور صرف یہی نہیں بلکہ ان پر اور تمام بنو امیہ پر لعنت بھیجتا ہے۔

چنانچہ اپنی کتاب النداء الأخير: صفحہ 19 میں لکھتا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ بنو امیہ پر لعنت کرنا اللہ ان پر لعنت کرے اور ان کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنا باوجود اس کے کہ وہ مٹ چکے ہیں اور جہنم واصل ہو چکے ہیں در حقیقت دنیا بھر کے ظالموں کے خلاف ایک احتجاجی پکار ہے، اور یہ اس لیے ہے تاکہ ظلم کو پاش پاش کر دینے والی اس پکار کو ہمیشہ زندہ رکھا جا سکے۔ اسی طرح اپنی ایک اور کتاب( تاريخ الإمام الخميني: صفحہ 245) میں لکھتا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ بنو امیہ پر لعنت کرنا اللہ ان پر لعنت کرے اور ان کے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنا۔ باوجود اس کے کہ وہ مٹ چکے ہیں اور جہنم واصل ہو چکے ہیں اب ذرا سوچیے بنو امیہ کون ہیں؟ بنو امیہ میں سرفہرست حضرت عثمان بن عفان حضرت معاویہ اور حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ اور یہ کہہ رہا ہے کہ وہ سب جہنم واصل ہو چکے ہیں، اور پھر بھی لوگ کہتے ہیں کہ خامنائی صحابہؓ پر طعن نہیں کرتا وہ مزید لکھتا ہے اور یہ لازم ہے کہ ماتمی مجلسوں میں ان کا ذکر کیا جائے اور ان پر لعنت کی جائے۔

یعنی وہ دشمن اہل بیت پر لعن طعن کو لازم قرار دے رہا ہے جو کہ ان روافض کے نزدیک صحابہ کرامؓ کی پاکباز ہستیاں ہیں۔ اب کہاں ہیں وہ لوگ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ صحابہؓ پر طعن نہیں کرتا اور صحابہؓ کو برا بھلا کہنے سے روکتا ہے؟ جبکہ وہ خود کہہ رہا ہے کہ ماتمی جلوسوں اور مجلسوں میں بنو امیہ پر لعنت کرنا اور بھرپور طریقے سے ان کی مذمت کرنا ضروری ہے۔

صفحہ 2 از 6