رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ دوم)…

رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ دوم)

  مامون رشید

صفحہ 3 از 6

صحابی رسول ابو سفیانؓ کے بارے میں لکھتا ہے راویوں نے کثرت سے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اس نازک موقع پر ابوسفیان نے بظاہر حضرت علی علیہ السلام کے پرجوش حامی کا روپ دھار لیا تھا چنانچہ وہ ڈرانے دھمکانے اور چیلنج دینے لگا اور کہنے لگا: خدا کی قسم میں ان خلافت پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف مدینہ کی گلیوں کو گھوڑوں اور پیادہ سپاہیوں سے بھر دوں گا لیکن علی علیہ السلام پر یہ حقیقت چھپی ہوئی نہ تھی کہ ابوسفیان کا یہ طرز عمل محض مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے اور فتنے کی آگ بھڑکانے کے لیے تھا، تاکہ اسے اور اس جیسے ان دوسرے لوگوں کو جنہوں نے اپنے دلوں میں شرک اور نفاق چھپا رکھا تھا اسلام دشمن مقاصد حاصل کرنے کا موقع مل سکے (الخواص: صفحہ 55، 56) اپنی کتاب "الخواص" میں وہ جلیل القدر صحابی عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ کو جھوٹا اور جھوٹی گواہی دینے والا قرار دیتا ہے۔ چنانچہ صفحہ 65 پر لکھتا ہے: وہ پچاس آدمیوں کو لے آیا جنہوں نے گواہی دی کہ یہ پانی خواب کا پانی نہیں ہے۔ اور یہ اسلام میں دی جانے والی پہلی جھوٹی گواہی تھی۔ یہ بذات خود ایک من گھڑت کہانی ہے جسے بنیاد بنا کر ایک صحابی کو جھوٹا کہا جا رہا ہے. اور جو لوگ خامنائی کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ سیدہ عائشہؓ پر طعن نہیں کرتا، وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ ہاں شیعوں کا ایک گروہ ایسا ہے جو سیدہ عائشہؓ کی پاکدامنی پر کیچڑ اچھالتا ہے۔ جبکہ خامنائی والا گروه بظاہر ایسا نہیں کرتا، لیکن کیا وہ ان پر دوسرے حوالوں سے طعن نہیں کرتا؟

خامنائی اسی کتاب کے اسی صفحے پر لکھتا ہے اور جابلی افکار ان (صحابہ) کے درمیان دوباره سرایت کرنے لگے، اور دین رفتہ رفتہ دنیاوی مفادات اور مادی فوائد حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا۔ اس نے یہاں سیدہ عائشہؓ کا نام تو نہیں لیا، لیکن اگلے ہی جملے میں دیکھیں کہ وہ یہ طعنہ کس پر فٹ کرتا ہے لکھتا ہے: رسول اللہﷺ نے اپنی وفات سے پہلے ہی ان واقعات کی پیشین گوئی کر دی تھی جب آپﷺ ایک دن اپنے گھر میں عائشہ اور بعض دیگر ازواج کی موجودگی میں بیٹھے تھے۔ آپﷺ نے فرمايا: ”كالي بإحداكن قد لبحثها كلاب الخواب. وإياك أن تكوني أنت يا خميراء“ (مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ تم میں سے ایک پر جواب کے کتے بھونک رہے ہیں، اور اے حميراء (عائشہ بچنا کہ کہیں وہ تم ہی نہ ہو۔)

خامنائی اس کے ذریعے یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ دین کو دنیاوی مفادات کے لیے استعمال کرنے اور جاہلی افکار اپنانے والی ذات نعوذ باللہ سیدہ عائشہؓ کی تھی. امام ذہبیؒ شیعوں کے درجات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اگر کوئی شیعہ ترقی کر کے شیخین ابوبکر و عمر کی برائی کرنے تک پہنچ جائے، تو وہ خبیث رافضی ہے۔ (سیر أعلام النبلاء: جلد 7 صفحہ 370)

 امام سفیان ثوریؒ سے پوچھا گیا کہ کیا اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے جو ابوبکرؓ اور عمرؓ کو گالیاں دیتا ہو؟ فرمایا نہیں (شرح أصول اعتقاد أهل السنۃ والجماعۃ للالكائي: ح، 2813)

امام ابو زرعہ رازیؒ فرماتے ہیں: جب تم کسی شخص کو رسول اللہﷺ کے کسی بھی صحابی کی تنقیص کرتے ہوئے دیکھو تو جان لو کہ وہ زندیق ہے۔ (الكفايۃ للخطيب: صفحہ 49)

10: جو لوگ اتحاد ملت کے نام پر خامنائی کے تعلق خاموش رہنے اور اس کے عقائد پر گفتگو کرنے سے منع کرتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ خامنائی خود کبار علمائے اہل السنہ پر کیچڑ اچھالتا اور ان پر طرح طرح کا طعن و تشنیع کرتا تھا۔ چنانچہ کعب الاخبارؒ ایک جلیل القدر تابعی تھے۔

پہلے یہودی تھے پھر اسلام لائے اور ان کا اسلام بہت شاندار رہا امام ذہبیؒ ان کے بارے میں فرماتے ہیں:

وہ انتہائی پختہ دیندار اور حسن اسلام والے تھے۔

اور صحابہ کرامؓ کی مجلس میں کثرت سے بیٹھا کرتے تھے۔ لیکن خامنائی اپنی کتاب (الدروس العظيمة: صفحہ 142) میں ان کے بارے میں بکواس کرتے ہوئے لکھتا ہے۔

كعب الاحبار یہ احادیث گھڑا اور بیان کیا کرتا تھا۔یا تو شام کے امراء کی خوشامد کے لیے تاکہ ان کے دلوں میں اس کا مقام بڑھے اور اسے زیادہ حصہ ملے یا پھر اسلام کے خلاف اس کی دلی دشمنی کی وجہ سے تاکہ وہ رسول اللہﷺ کی احادیث کی عظیم بنیاد کو تباہ کر سکے۔

ذرا بتائیے! ایک تابعی کو اسلام کا دشمن اور احادیث کا دشمن کہا جا رہا ہے کیا یہی اتحاد ملت کی دعوت اور اختلاف سے دوری کی مثال ہے ؟

اسی طرح ایک اور جلیل القدر تابعی امام زہریؒ کے بارے میں اس کتاب کے صفحہ 143 پر لکھتا ہے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ محمد بن شهاب الزبرى امراء کی خدمت میں لگا ہوا تھا، اور وہ انہیں ایسی احادیث لکھ کر دیا کرتا تھا جو ان کے مقاصد کے موافق ہوتی تھیں۔

جو لوگ امام زہریؒ کا مقام نہیں جانتے، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ امام زہریؒ پر طعن کرنا دراصل صحیح بخاری اور صحیح مسلم پر طعن کرنے سے کسی درجہ کم نہیں ہے، کیونکہ ان کتابوں کی بے شمار صحیح احادیث امام زہری ہی کی سند سے مروی ہیں امام زہریؒ پر کتب اور حکمرانوں کے لیے احادیث گھڑنے کا الزام دراصل امت محمدیہ کے ذخیرہ حدیث کو مسمار کرنے کی ایک گھناؤنی سازش ہے۔ 

امام شافعیؒ فرماتے ہیں: اگر زہری نہ ہوئے تو مدینہ منورہ سے سنتیں ناپید ہو جائیں

اپنی کتاب الغرب: الشباب في معركة المصير: (صفحہ 99) میں خاصانی شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کے بارے میں لکھتا ہے۔ نظریاتی میدان میں، حالب صدیوں کی تکفیری فکر دراصل ابن تیمیہؒ کے افکار و آراء کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ موجودہ دور کے تکفیری گروه اپنی تکفیری سوچ کی بنیاد وہیں سے اخذ کرتے ہیں۔ اسی بنا پر اگر ہم تکفیریوں کے افکار و نظریات کو پہچاننا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کی جز تک پہنچنے کے لیے ابن تیمیہؒ ہی سے آغاز کرنا ہو گا۔

کیا ابن تیمیہؒ تکفیری تھا؟

کیا ابن تیمیہ رحمۃاللہ نے اللہ کی عصمت کا انکار کرنے والوں کی تکفیر کی؟

کیا ابن تیمیہؒ علی بن ابی طالب کی امامت کا عقیدہ نے رکھنے والوں کو کافر کہتا ہے؟

کیا ابن تیمیہؒ نے انہیں کافر ٹھہرایا جو یہ مانتا ہے کہ اللہ عرض کے اوپر ہے؟

کیا وہ ابن تیمیہؒ ہے جس نے یہ کہا کہ شام میں ہماری جنگ کفر کے خلاف جنگ ہے؟

صفحہ 3 از 6