رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ دوم)…

رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ دوم)

  مامون رشید

صفحہ 4 از 6

نہیں ہرگز نہیں! وہ تو تم ہو جو اہل السنہ کو کافر سمجھتے ہو ان کے خون و مال اور عزتوں کو حلال سمجھتے ہو، ان کو سور اور کتے سے زیادہ نجس قرار دیتے ہو، اور ان کے خلاف جنگ کو کفر کے خلاف جنگ اور جہاد قرار دیتے ہوا اور وہ تو تمہارا استاد تمہارا امام و مرشد اور ولی فقیہ خمینی ہے جو کہتا ہے رہی بات تواصب و خوارج کی اللہ ان پر لعنت برسانے دونوں جماعتیں نجس ہیں (زبدة الأحكام: صفحہ 52)

جو بھی ہو دونوں گروپوں کے کفر اور نجاست میں اشکال وارد کرنا مناسب نہیں ہے، اس لیے کہ نواصب و خوارج دونوں معروف گروہوں کا کفر یقینی طور پر مجمع علیہ ہے۔ (الطهارة للخميني: جلد 3 صفحہ 336)

قوی ترین موقف یہ ہے کہ نواصب کو ان سے حاصل ہونے والے مال غنیمت کے جواز و اباحت اور اس سے خمس نکالنے کے مسئلہ میں حربیوں کے زمرے میں شامل کر دیا جائے بلکہ یہ ظاہر ہے کہ ناصبی کا مال جہاں بھی ملے اور جیسے بھی ملے لے لینا جائز ہے، اور اس کا خمس نکالنا واجب ہے۔( تحريرالوصلية: جلد 1 صفحہ 352)

خامنائی مزید لکھتا ہے: بارہویں صدی ہجری میں محمد بن عبد الوہاب نجد کے علاقے میں نمودار ہوئے، اور ان کے ساتھ ہی تکفیری افکار نظریاتی مرحلے سے نکل کر عملی نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو گئے۔ اس دور میں محمد بن عبدالوہاب نے مسلمانوں کے احوال بیان کرنے کے لیے شرک اور کفر جیسے الفاظ کا استعمال بڑے دھڑلے سے کیا۔یہاں ہمیں شیعوں کے ہاں نواصب کی اصطلاح کو سمجھنے کی ضرورت ہے جن کی وہ تکفیر کرتے نہیں تھکتے۔

شیعہ عالم البحراني المحاسن النفسانيۃ: صفحہ 154 میں لکھتا ہے:

ناصبی وہ ہے جسے ان (مسلمانوں) کے ہاں سنی کہا جاتا ہے۔ یعنی شیعی اصطلاح میں ناصبی کا مطلب سنی ہے۔ وہ مزید لکھتا ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ناصبہ سے مراد اہل سنت ہی ہیں۔محمد تیجانی بھی یہی کہتا ہے کہ یہ بات محتاج تعارف نہیں کہ نواصب کا مذہب دراصل اہل سنت والجماعت کا ہی مذہب ہے ”الشيعة هم أهل السنة“ ان کے ایک بڑے شیخ بہبہائی اپنی کتاب (حاشية الوافي: صفحہ 114) میں لکھتا ہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ سید یہ کہتا ہے کہ سنی حقیقتاً کافر ہے۔ لیکن اس پر دنیا میں کفر کے تمام احکام لاگو نہیں ہوتے۔ یعنی ظاہری طور پر وہ دنیا میں مسلمانوں جیسا سلوک کرتے ہیں، لیکن دل میں انہیں کافر سمجھتے ہیں اور ہاں یہ مسلمانوں جیسا سلوک ہمیشہ نہیں ہوتا

نعمتہ اللہ الجزائری اپنی کتاب الأنوار النعمانيہ: جلد 2 صفحہ 20)میں لکھتا ہے: ناصبی (سنی) کے احوال و احکام دوباتوں پر مشتمل ہیں۔ پہلا یہ کہ روایات میں آیا ہےکہ وہ نجس ہے، اور وہ یہودی، عیسائی اور مجوسی سے بھی بدتر ہے۔ اور علمائے امامیہ کے اجماع کے مطابق وہ کافر اور نجس ہے۔ اور صفحہ 211 میں لکھتا ہے کہ ناصبی ہونے کی علامت یہ ہے کہ علی پر کسی اور کو مقدم کیا جائے۔ جبکہ تمام اہل سنت حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو۔ حضرت علیؓ پر مقدم کرتے ہیں۔

اب خامنائی کی اس بات پر غور کیجیے کہ تکفیری سوچ ابن تیمیہؒ اور محمد بن عبدالوہابؒ سے نکلی ہے، اور پھر ان کی کتاب بحار الانوار کھولیے ابن فرقد روایت کرتا ہے کہ میں نے ابو عبداللہ امام جعفر صادقؒ کی طرف جھوٹی منسوب روایت سے پوچھا: ناصبی کو قتل کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے کہا: اس کا خون حلال ہے لیکن تقیہ کرو اگر تم اسے دیوار کے نیچے دبا کر مار سکو یا پانی میں غرق کر سکو تاکہ تم پر کوئی گواہی نہ آئے، تو ایسا کر گزرو۔ میں نے پوچھا: اس کے مال کا کیا کیا جائے؟ جواب ملا جو مل جائے لوٹ لو۔(37/ 231)

معاصر شیعی عالم سید کمال حیدری کہتا ہے: علمائے امامی (شیعہ) میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے جس نے غیر شیعہ (یعنی اہل السنہ) پر کفر کا حکم نہ لگایا ہو۔ ہاں ان کے درمیان فرق صرف ایک بات میں ہے اور وہ یہ کہ ان میں سے بعض نے مخالفین کے ظاہر اور باطن دنیا اور آخرت دونوں کے کفر کا حکم لگایا ہے، جبکہ بعض دیگر نے انہیں ظاہر میں مسلمان اور باطن میں کافر قرار دیا ہے۔ ورنہ اس بات پر تو اجماع ہے کہ وہ باطن (آخرت) میں کافر ہی اس اجماع کی بنیاد کیا ہے؟ 

اس تکفیر کا نظریاتی اساس کیا ہے؟ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ امامیہ کے نزدیک امامت یا تو اصول دین میں سے ایک اصل ہے یا پھر اصول مذہب میں سے ایک اصل ہے۔ اسی لیے مدرسہ اہل بیت (امامی نقطہ نظر میں موجود اس تکفیری نظریے سے دستبرداری یا اس کا دفاع تب تک ممکن نہیں جب تک کہ اس مبنی بنیادی نظریے کو ہی تبدیل نہ کر دیا جائے، جب تک آپ اس بات پر قائم ہیں کہ امامت اصول دین یا اصول مذہب میں سے ہے یا دین و مذہب کی ناگزیر ضروریات ضروریات دین میں سے ہے، تو اس کا لازمی نتیجہ مخالف کی تکفیر ہی نکلے گا، اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمیں اکابرین امامیہ کی عبارات میں اس کی کھلی صراحت ملتی ہے۔ یہ آپ کے سامنے جوابر شیخ محمد حسن نجفی کی کتاب (جواہر الکلام کی 22 جلد کا صفحہ نمبر 62)

وہ اس میں لکھتے ہیں بلکہ اہل سنت پر لعن طعن سب و شتم اور ان کی تکفیر پر مبنی نصوص تواتر کی حد تک پہنچ چکی ہیں۔ اور یہ کہ وہ اس امت کے مجوسی ہیں۔ نصاریٰ سے بھی بدتر ہیں اور کتوں سے بھی زیادہ نجس (ناپاک ہیں)

كلام صريح بتكفير الشيعة لأهل السنة بدون خلاف بينهم، ويجيك شيعي يقول : السنة أنفسنا، ويجيك سني يقول : الشيعة إخواننا !!

اب بتائیے کہ تکفیری افکار کو نظریہ سے نکال کر عملی جامہ کس نے۔ پہنایا؟ کس نے مسلمانوں کا مال لوٹا، انہیں قتل کیا اور شام میں لوگوں کے سروں پر عمارتیں اور دیواریں گرا دیں؟ انہیں بموں اور بارودی مواد سے اڑایا؟

صفحہ 4 از 6