رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ دوم)…

رہبر ایران علی خامنائی کے کفریہ عقائد کی جھلکیاں (حصہ دوم)

  مامون رشید

صفحہ 5 از 6

وه خود خامنائی ہے جو اپنا سارا گند دوسروں پر ڈال رہا ہے اور خود دامن بچا کر بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے اور حیرت تو اس بات پر ہے کہ وہ محمد بن عبدالوہاب کے بارے میں کہتا ہے۔ انہوں نے آغاز ہی سے وہابیت کو اس لیے ایجاد کیا تاکہ اسلام کی وحدت کو پارہ پارہ کر سکیں اور اسلامی معاشرت کے اندر اسرائیل کی طرح ایک مخصوص کیمپ قائم کر سکیں جس طرح اسرائیل کو اس مقصد کے لیے بنایا گیا تاکہ وہ اسلام کے خلاف ایک فوجی چھاؤنی کا کام ہے بالکل اسی طرح انہوں نے وہابی حکومت اور نجد کے علاقے کے ان لیڈروں کو اس لیے پیدا کیا تاکہ اسلامی معاشرے کے اندر ان کا اپنا ایک ایسا سکیورٹی مرکز موجود ہو جو ان سے جڑا ہوا ہو اور یہی وہ صورتحال ہے جو آج آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

(الوحدة الإسلامية في فكر الإمام الخامنئي: صفحہ 173)

آج بہت سے اخوانی جماعتی اور صوفی بھی خامنائی بی کی زبان بولتے ہیں، اور ستم ظریفی دیکھیں سنی کہلانے والے حضرات آج خامنائی کا دفاع کرتے ہیں، خامنائی ان کے بارے میں کہتا ہے ہم پر وہابی فرقے کو تکفیری نہیں کہہ سکتے۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ کچھ وہابی اعتدال کی طرف آ رہے ہیں۔ البتہ یہ معتدل دھڑے ابھی وہابیت پر غلبہ حاصل نہیں کر پائے۔ 

(الغرب الشباب في معركة المصير: صفحہ 100)

مبارک ہو اے خود کو سنی کہلانے والے سہولت کار!

خامنائی تجھ سے راضی ہو گیا ہے اور اس نے تجھے معتدل قرار دیا ہے۔

بحار الانوار میں ہے کہ جب قائم (مہدی) آئے گا تو

وہ سب سے پہلے ابوبکر اور عمر کی لاشیں نعود

باللہ) نکالے گا۔ انہیں جلائے گا اور ہوا میں اڑا دے گا۔ اور مسجد توڑ دے گا۔ (بحار الأنوار: 20)

خامنائی اسی مہدی کے بارے میں کہتا ہے کہ امام

مہدی کی حکومت 100 فیصد خالص اسلامی حکومت ہو گی اب آپ خود ان باتوں کو جوڑ کر

دیکھ لیں کہ خامنائی کے نزدیک اسلام کیا ہے۔

ادریس بانی کی کتاب (الاجتهاد الممانع السياسةوالثقافة والمجتمع في فكر الإمام الخامنتي:

صفحہ 84) میں خامنائی کو اعتزالی مکتبِ فکر کی طرف

منسوب کیا گیا ہے۔ نیز لکھتا ہے ولایت فقیہ کو ان اصولوں کی روشنی میں سمجھنا چاہیے جو مدرسہ عدلیہ امامیہ اور معتزل کے علم کلام میں طے پائے ہیں۔

مزید یہ کہ آج کل کے شیعوں کے بارے میں یہ بات ثابت شده حقیقت ہے کہ وہ عقائد کے بیشتر ابواب میں معتزلہ کی روش پر قائم ہیں، اور پھر اس پر اپنی طرف سے مزید گمراہیوں کا اضافہ کرتے ہیں۔

آخر میں خامنائی کے چند فقہی فتاویٰ بھی ملاحظہ فرما لیں 

کہتا ہے کہ جو چیزیں لوگوں کو اللہ کے قریب کرتی ہیں اور دین سے جوڑتی ہیں۔ ان میں روایتی

ماتمی مجالس حسینی مجالس، امام کا سوگ مناناان پر رونا اور ماتمی دستوں میں سینہ کوبی کرنا شامل ہیں۔(وانتصر الدم: صفحہ 34)

وه ان چیزوں پر خوش ہے کیونکہ اس طرح وہ لوگوں کے جذبات سے کھیل کر انہیں اپنے پیچھے لگاتا ہے۔

(الاستفتاءات الجديدة کے صفحہ 409) پر فتویٰ دیتا ہے کہ ایک عورت کسی مرد کو یہ اختیار دے سکتی ہے کہ وہ مرد اس عورت کا اپنے ہی ساتھ متعہ کا عقد کر لے۔ یعنی عورت کا نہ تو باپ ولی ہو گا نہ کوئی اور بلکہ وہ مرد خود ہی وکیل بنے گا اور خود بی دولہا خامنائی اس کا صیغہ بھی بتاتا ہے کہ وہ مرد کہے میں نے اپنی مؤکلہ فلانہ کا اپنے ساتھ اتنے حق مہر پر نکاح (متعہ) کیا اور پھر خود بی کہے میں نے قبول کیا۔

واہ کیا بات ہے یعنی ایک مرد کو اپنی معشوقہ سے زنا کرنا ہو تو خود بی وکیل اور ولی بن کر خود ہی خود سے شادی کرا دے ہوس کی تسکین بھی ہو گئی اور زناکار بھی نہ ٹھہرے! رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی۔

جب ایک شخص خامنائی سے پوچھتا ہے کیا میں ایسی عورت سے متعہ کر سکتا ہوں جس کے بارے میں مجھے شک ہو کہ شاید اس نے مجھ سے عقد کرنے سے پہلے کسی اور مرد سے بھی متعہ کیا ہو اور اس کی عدت پوری نہ ہوئی ہو؟ خامنائی جواب دیتا ہے اگر وہ دعویٰ کرے کہ وہ شادی شده نہیں ہے اور عدت میں نہیں ہے، تو اس کا اعتبار کرتے ہوئے اس سے شادی (متعہ) جائز ہے۔ مطلب تم اندھے بن جاؤ، حقیقت کی تفتیش نہ کرو اور شیطان کا نام لے کر متعہ کر لو۔ (الاستفداءات الجديدة: صفحہ 280)

ایک شخص خامنائی سے پوچھتا ہے: چاقو سے روٹی کاٹنے کا کیا حکم ہے؟ تو کہتا ہے یہ مکروہ

(ناپسندیدہ) ہونے کے ساتھ جائز ہے۔(الاستفاءات الجديدة صفحہ 322)

مجھے سمجھ نہیں آتی اگر کسی کو پیزا کاٹنا ہو تو وہ بندہ کیا کرے گا؟

یہ خامنائی کا سب سے خطرناک اور غلیظ فتویٰ ہے، ایک سائل پوچھتا ہے کسی اجنبی مرد کا نطفہ کسی عورت کے رحم میں رکھوانے (ایجار رحم) کا کیا حکم ہے؟ یعنی کسی غیر مرد کا نطفہ تم اپنی ماں بہن یا بیوی کے رحم میں رکھوا دو۔

خامنائی پوری بے شرمی سے کہتا ہے۔ اس عمل میں بذات خود کوئی حرج نہیں ہے، لیکن اس کے حرام مقدمات یعنی غیر محرم کو چھونے یا دیکھنے سے بچنا ضروری ہے۔ 

(الاستفاءات الجديدة: صفحہ 252)

کیسی بکواس ہے! تم ایک اجنبی مرد کا نطفہ جو اس عورت کا شوہر نہیں ہے۔ اس عورت کے رحم میں داخل کر رہے ہو، یہ صریح زنا ہے۔ کوئی بھی ہوشمند انسان اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔

اسی سے ملتا جلتا ایک اور فتویٰ ہے کہ چونکہ

جوڑے دوسروں کے بچے گود لے سکتے ہیں، تو کیا

ایسا ممکن ہے کہ میاں بیوی کے نطفے اور بیضے کو

ملا کر (Embryo) بننے کے ایک یا دو دن بعد اسے اس عورت کے رحم سے نکال کر کسی دوسری گود لینے

والی عورت کے رحم میں ڈال دیا جائے تاکہ وہ اسے پیدا کر کے پالے؟ خامنائی کا جواب ہے۔ اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔

(الاستفاءات الجديدة: صفحہ 252)

یہ کیسی فقہ ہے جو ایک اجنبی شخص کا نطفہ دوسری عورتوں کے رحم میں منتقل کرنے کی اجازت دینی ہے؟ کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں پڑها: 

اِنۡ اُمَّهٰتُهُمۡ اِلَّا الّٰٓـىِٔۡ وَلَدۡنَهُمۡ‌ وَاِنَّهُمۡ لَيَقُوۡلُوۡنَ مُنۡكَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَزُوۡرًا‌وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ (سورۃ المجادلہ: آیت 2)

ترجمہ: ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایسی بات کہتے ہیں جو بہت بری ہے، اور جھوٹ ہے۔ 

صفحہ 5 از 6