Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عمر اور سن وفات کی تحقیق

  علی محمد الصلابی

اکثر مؤرخین کی رائے کے مطابق سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی وفات 49ھ میں ہوئی۔ 

(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 209، تہذیب الکمال: جلد 6 صفحہ 256، أنساب الأشراف: جلد 3 صفحہ 64)

 ایک اور روایت کے مطابق 50ھ،

(فتح الباری: جلد 7 صفحہ 120)

ایک دوسری روایت کے مطابق 51ھ

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 402) میں ہوئی۔ڈاکٹر خالد الغیث نے راجح قرار دیا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات 51ھ میں ہوئی

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 402) 

اور یہی امام بخاری رحمۃاللہ کا قول ہے۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 277)

میرا بھی رجحان اسی طرف ہے۔

جعفر صادق رحمۃاللہ کا قول ہے

 کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ 47سال زندہ رہے۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 277)

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے امام ذہبی رحمۃاللہ کہتے ہیں: 

’’وہ لوگ غلطی پر ہیں جو جعفر سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ (سیدنا حسن رضی اللہ عنہ) کی عمر 48 سال تھی۔‘‘

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 277)

ڈاکٹر خالد الغیث کہتے ہیں:

’’سیدنا حسنؓ کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر 48 سال تھی۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 402)

اور اپنی رائے کی تائید ابن عبدالبر کے قول سے کی ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی ولادت نصف رمضان 3ھ میں ہوئی، اس سلسلے میں یہ سب سے صحیح بات کہی گئی ہے،

(الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 384)

ابن حجر رحمۃاللہ نے بھی اسی کو صحیح قرار دیا ہے۔

(الإصابۃ: جلد 2 صفحہ 68)

اس طرح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی عمر وفات کے وقت 48 سال ہوگی اور آپ کی وفات 51ھ میں ہوئی، واللہ تعالیٰ اعلم۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 402)

اس طرح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ دنیا سے غداروں اور خائنوں کے ہاتھ شہید ہو کر رخصت ہوئے، آپ نے اپنی زندگی میں ایک بہت بڑا کام انجام دیا اور ایسا بے مثال مصالحتی منصوبہ پیش کیا جس نے امت کے اتحاد میں زبردست کردار ادا کیا، اور چہار دانگ عالم میں اللہ کے دین کی نشر و اشاعت میں اس کے تہذیبی کردار کو لوٹا دیا، امت اسلامیہ اس جلیل القدر سردار کی قرض دار رہے گی جس نے وحدت و الفت، خونریزی سے روکنے اور لوگوں کے مابین صلح کرانے میں زبردست کردار ادا کیا ہے، اپنے عمدہ جہاد اور صبرِ جمیل کے ذریعہ ایسی مثال قائم کی ہے جس کی ہمیشہ اقتداء کی جائے گی، سیدنا حسنؓ کے زبردست کارنامے اور دنیا سے بے رغبتی کو تاریخ نے ہمارے لیے محفوظ کر دیا ہے، مرور زمانہ اور صدیوں کے فاصلے انھیں ہم سے جدا نہیں کر سکے۔

میں اس کتاب کی تالیف سے 21 صفر 1425ھ مطابق 11/4/2004ء پونے دس بجے رات فارغ ہوا۔

فضل ہمیشہ اللہ کا ہوتا ہے، میں اسی سے طلب کر رہا ہوں کہ وہ میرے اس معمولی عمل کو شرف قبولیت سے نوازے، اور اپنے کرم و احسان سے اس سے استفادہ کے لیے لوگوں کے سینوں کو کھول دے اور اس میں برکت عطا کرے۔ ارشاد ربانی ہے:

مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا وَمَا يُمۡسِكۡ فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۡ بَعۡدِه وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ ۞ (سورۃ فاطر آیت 2)

ترجمہ: جس رحمت کو اللہ لوگوں کے لیے کھول دے، کوئی نہیں ہے جو اسے روک سکے اور جسے وہ روک لے تو کوئی نہیں ہے جو اس کے بعد اسے چھڑا سکے۔ اور وہی ہے جو اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔

اس کتاب کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، فضل و کرم، سخاوت و توفیق ارزانی کا اعتراف کرتے ہوئے دلی خشوع و خضوع کے ساتھ اسی کی جناب میں گڑگڑائے اور اس کے اسماء و صفات کے توسط سے اس سے یہ دعا کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ وہ میرے اس کام کو صرف اپنے لیے خالص اور اپنے بندوں کے لیے نافع بنائے، میرے لکھے ہوئے ہر حرف پر مجھے ثواب دے، اور اسے میری نیکیوں کے پلڑے میں رکھے اور میرے ان بھائیوں کو بھی ثواب دے جنھوں نے اس کتاب کے اتمام میں ہر طرح سے میری مدد کی، میں ہر اس مسلمان سے امید کرتا ہوں جو اس کتاب کو پڑھے کہ وہ اپنی دعاؤں میں مجھے یاد رکھے گا۔ ارشاد ربانی ہے:

 رَبِّ اَوۡزِعۡنِىۡۤ اَنۡ اَشۡكُرَ نِعۡمَتَكَ الَّتِىۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَىَّ وَعَلٰى وَالِدَىَّ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًـا تَرۡضٰٮهُ وَاَدۡخِلۡنِىۡ بِرَحۡمَتِكَ فِىۡ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيۡنَ ۞ (سورۃ النمل آیت 19)

ترجمہ: میرے پروردگار! مجھے اس بات کا پابند بنا دیجیے کہ میں ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو آپ نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہیں، اور وہ نیک عمل کروں جو آپ کو پسند ہو، اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل فرما لیجیے۔

سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَ أَتُوْبُ إِلَیْکَ۔

وَ آخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔

الفقیر إلی عفو ربہ و مغفرتہ و رحمتہ و رضوانہ

علی محمد محمد الصلابی     

18/ذی الحجہ 1424ھ