Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دین کے دشمنوں کو مبغوض رکھنا اور ان سے کنارہ کشی اختیار کرنا حضور اکرمﷺ سے محبت کی علامت ہے


حضور پاکﷺ کی محبت کی ایک علامت یہ ہے کہ اُس شخص کو برا جانے اور مبغوض رکھے جس کو اللہ تعالیٰ جل و نشانہ اور اس کا رسولﷺ برا جانے اور مبغوض رکھیں، اور اس شخص کو دشمن رکھے جس کو خدا تعالیٰ دشمن رکھتا ہو اور اس شخص سے جدا رہے اور کنارہ کشی کرے جو آپﷺ کی سنت کا مخالف ہو اور اس نے دین میں کوئی نئی بات نکالی ہو اور اس امر کو گراں جانے جو آپﷺ کی شریعت کے خلاف ہو، اللہ تعالیٰ جل شانہ نے فرمایا:

 لا تجد قَوْمًا يَوْمِنُونَ بِالله وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشيرتهم(سورۃ المجادله: آیت 22)

ترجمہ: نہ پاوے گا تو کسی قوم کو کہ ایمان لائے ہوں ساتھ اللہ کے اور پچھلے دن کے کہ دوستی کریں اُس شخص کے جو مقابلہ کرتا ہے اللہ کا اور اس کے رسول کا اگرچہ ہوں باپ ان کے یا بیٹے ان کے یا بھائی ان کے یا کنبہ ان کا اور یہ میں اصحاب رسولﷺ جنہوں نے آپ کی خوشی کے لئے اپنے دوستوں اور باپوں اور بیٹوں کو قتل کیا ہے۔ اور آپﷺ سے حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن ابی نے عرض کیا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو میں اس کا (یعنی اپنے باپ کا) سر لے کر آؤں۔ 

(شمیم الرياض اردو ترجمہ الشفاء قاضی عیاضؒ: جلد 2 صفحہ 21)