اہل سنت کے بارے میں رہبر انقلاب ایران خمینی کے افکار
مامون رشیددور حاضر کے چند خود ساختہ مفکرین اور دعات ”اتحاد امت“ کی دہائی دیتے ہوئے شیعہ سنی تقارب اور وحدت کا راگ آلاپتے رہتے ہیں، اور خمینی کے انقلابِ ایران کو قابل تقلید مثالی اسلامی انقلاب کے طور پر پیش کرتے ہیں، حتیٰ کہ ان میں سے بعضوں نے تو ”الخميني الحل الإسلامي والبديل“ کے نام سے کتابیں بھی لکھ رکھی ہے، ایسی صورت میں اگر کوئی ان کے سامنے رافضیوں کے کفریہ و شرکیہ عقائد و افکار کی بات کرتے ہیں اور سنیوں کے تعلق سے ان کے بغض و عداوت پر مبنی نظریات کا حوالہ دیتے ہیں تو ایسے مفکرین اسے فرقہ پرستی اور مسلکی عصبیت کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں اور یہ باور کراتے ہیں کہ ان کے اسوہ و قدوہ خمینی صاحب سنیوں کے تئیں محبت بھرے جذبات رکھتے ہیں اور تعصب وفرقہ پرستی سے پاک ہیں۔
اس دعوے کی تردید کے لیے سنیوں کے بارے میں خمینی کے چند زہریلے اقوال و افکار پیش ہیں ملاحظہ فرمائیں:
سب سے پہلے تو یہ واضح کر دوں کہ روافض کے ہاں اپنے علاوہ تمام مسالک کو ”عامۃ“ اور ”نواصب“ کہا جاتا ہے، اس لیے ان کی کتابوں میں جہاں جہاں یہ اصطلاحات استعمال ہوتے ہیں ان سے مراد سنی ہوتے ہیں۔
رافضی عالم سيد محسن الأمين عاملى لکھتا ہے:
الخاصة وهذا يطلقه أصحابنا على أنفسهم مقابل العامة الذين يسمون بأهل السنة
ہمارے علماء لفظ خاصہ کا اطلاق خود اپنے اوپر کرتے ہیں عامہ کے مقابلے میں جنہیں اہل سنت کہا جاتا ہے۔ (اعيان الشيعۃ: جلد 1 صفحہ 21)
رافضی فقیہ ومحدث حسین عصفور بحرانی لکھتا ہے:
بل أخبارهم عليهم السلام تنادي بأن الناصب هو ما يقال له عندهم سنيا ولا كلام في أن المراد بالناصبة فيه هم أهل السنہ
ائمہ علیہم السلام کی روایات واضح طور پر دلالت کرتی ہیں کہ ناصب سے مراد سنی ہے اور اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ان کے کلام میں موجود لفظ ناصبۃ سے مراد اہل السنہ ہیں۔
(المحاسن النفسانيۃ في اجوبة المسائل الخراسانيۃ: صفحہ 145)
خود خمینی نواصب کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”المسلم الناصب هو غير الشيعي"
ناصبی مسلمان وہ مسلمان ہے جو شیعہ مسلمان کے علاوہ ہے۔
(المكاسب المحرمۃ: جلد 2 صفحہ 149)
نیز خمینی نے متعدد مقامات پر اہل السنہ کی روایات ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے ”ومن طريق العامة“ اور شیعہ سنی کے درمیان تفریق کرنے کے لیے بارہا ”العامۃ والخاصۃ“ کی اصطلاح استعمال کیا ہے۔
1: خمینی کے نزدیک سنیوں کی مخالفت واجب و لازم بلکہ حق کی علامت اور اختلاف کے وقت وجہ ترجیح ہے، یعنی اگر کسی مسئلہ میں کئی مختلف آراء ہوں یا ائمہ سے ایک سے زائد اقوال منقول ہوں تو ایسی صورت میں وہ رائے اور قول حق اور راجح ہوگا جو اہل السنہ کی مخالفت پر مشتمل ہوگا، چنانچہ خمینی نے لکھا ہے:”إن المرجح في باب التعارض منحصر بموافقة الكتاب ومخالفة العامۃ“
(التعادل والترجيح للخميني: صفحہ 180، 210)
کہ تعارض کے باب میں ترجیح قرآن کی موافقت اور عوام کی مخالفت میں منحصر ہے۔
نیز اپنی کتاب ”التعادل والترجيح“ کے اندر ”البحث الثاني في حال الأخبار الواردة في مخالفۃ العامۃ وهي أيضا طائفتان إحداهما ما وردت في خصوص الخبرين المتعارضين، وثانيتهما ما يظهر منها لزوم مخالفتهم وترك الخبر الموافق لهم مطلقاً“
دوسری بحث: عوام کی مخالفت کے بارے میں وارد اخبار کی حالت کے بیان میں، یہ اخبار دو قسم کے ہیں:
پہلی قسم: وہ روایات جو خاص طور سے دو متعارض اخبار کے تعلق سے آئی ہوئی ہیں۔
دوسری قسم: ان روایات کی ہے جن سے عوام کی مخالفت کا لازم ہونا اور ان کے موافق خبر کو مطلقاً ترک کر دینا معلوم ہوتا ہے۔) کے عنوان سے ایک مکمل فصل قائم کیا ہے، اور اس کے تحت اپنے ائمہ کی طرف منسوب جھوٹی روایات ذکر کر کے ان سے استدلال کیا ہے، لکھتا ہے:
عن عبد الرحمٰن بن أبي عبد الله: فإن لم تجدوهما في كتاب الله، فأعرضوهما على أخبار العامة، فما وافق أخبارهم فذروه، وما خالف أخبارهم فخذوه
جعفر صادق کے شاگرد عبدالرحمٰن بن ابی عبداللہ روایت کرتے ہیں کہ: اگر تم دو باہم متعارض اقوال کو کتاب اللہ کے اندر نہ پاؤ تو انہیں عوام کی روایات پر پیش کرو! چنانچہ جو قول ان کی روایات کے موافق ہو اسے ترک کر دو اور جو ان کی روایات کے مخالف ہو اسے قبول کر لو۔
حسن بن السری سے روایت ہے کہتا ہے ابو عبداللہ (جعفر صادق) نے فرمایا:جب تمہارے سامنے دو باہم مختلف حدیثیں ہوں تو اس حدیث کو لے لو جو لوگوں (سنیوں) کے مخالف ہو۔
حسن بن جہم سے روایت ہے، کہتا ہے کہ میں نے عبد صالح (موسیٰ کاظم) سے سوال کیا کہ آپ کی جو باتیں ہم تک پہنچی ہیں کیا ان کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے علاوہ ہمارے لیے اور کوئی گنجائش ہے؟ تو آپ نے فرمایا: نہیں اللہ کی قسم تمہارے لیے قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے تو میں نے کہا کہ ابو عبداللہ (جعفر صادق) علیہ السلام سے ایک بات روایت کی جاتی ہے اور انہی سے اس کے خلاف بھی روایت کی جاتی ہے تو ہم ان دونوں میں سے کس بات کو قبول کریں؟ تو آپ نے فرمایا جو لوگوں (سنیوں) کے مخالف ہو اسے قبول کرو اور جو ان کے موافق ہو اس سے اجتناب کرو!
محمد بن عبد اللہ سے روایت ہے کہتا ہے میں نے (امام علی) رضا علیہ السلام سے کہا: کہ دو باہم مختلف روایات کے تعلق سے ہمارا تعامل کیسا ہو؟ تو آپ نے فرمایا: جب تمہارے سامنے دو باہم مختلف روایات ہوں تو دیکھو کہ ان میں سے کونسی روایت عوام کے خلاف ہے پس جو ان کے مخالف ہو اسے قبول کر لو اور جو ان کی روایات کے موافق ہو اسے چھوڑ دو!
یہ اور اس طرح کی چند روایات ذکر کرنے کے بعد خمینی لکھتا ہے:یہ اخبار اس بات کی بالکل ظاہر اور روشن دلیل ہے کہ عوام (سنیوں) کی مخالفت باہم متعارض روایات میں سے ایک کے لیے وجہ ترجیح ہے۔
بلکہ یہی مرجح فقہ کے تمام ابواب میں اور فقہاء کی زبانوں پر عام متد اول اور مشہور ہے۔
(التعادل والترجيح للخميني: صفحہ 191- 194)
اس کے بعد خمینی نے ہر باب میں سنیوں کی مطلق مخالفت کے وجوب و لزوم پر دلالت کرنے والی روایات کو نقل کیا ہے لکھتا ہے:
علی بن اسباط سے روایت ہے کہتا ہے میں نے رضا علیہ السلام سے کہا: کہ مسئلہ پیش آتا ہے لیکن میں اس کی معرفت سے قاصر رہتا ہوں اور میں جس شہر میں رہتا ہوں اس میں آپ کے اصحاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہوتا جس سے میں فتویٰ پوچھ لوں، تو آپ نے فرمایا: فقیہ شہر کے پاس جاؤ اور اس سے اپنا مسئلہ پوچھ لو، وہ تمہیں جو فتویٰ دے تم اس کے مخالف موقف کو قبول کر لو کیونکہ حق اسی (سنیوں کی مخالفت) میں ہے۔
ابو عبد اللہ جعفر صادق فرماتے ہیں: تم نے مجھ سے لوگوں (سنیوں) کی باتوں کے مشابہ جو باتیں سنی ہے وہ تقیہ کی بنیاد پر ہیں، اور جو باتیں ایسی سنی ہے جو لوگوں کی باتوں کے مشابہ نہیں ہیں ان میں کوئی تقیہ نہیں ہے۔
ابو اسحاق ارجانی سے روایت ہے کہتا ہے کہ ابو عبداللہ (جعفر صادق) کہتے ہیں:"کیا تم جانتے ہو تمہیں عوام کے قول کے برعکس مؤقف اختیار کرنے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ میں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کیوں! تو آپ نے فرمایا: کہ علی جو بھی چیز بطور دین اپناتے تھے امت ان کی بات چھوڑ کر دوسرے کی بات قبول کر لیتی تھی، اس کے پیچھے لوگوں کا مقصد ان کے حکم کو باطل و بےاثر قرار دینا ہوتا تھا، وہ لوگ امیر المؤمنین سے کسی ایسی چیز کے بارے میں دریافت کرتے تھے جس کا انہیں علم نہیں ہوتا، پس جب آپ انہیں فتویٰ دے دیتے تو وہ خود سے اس کا مخالف موقف گھڑ لیتے تھے تاکہ لوگوں کو تلبیس میں مبتلا کریں۔
ایک روایت میں ہے: ہمارے شیعہ ہمارے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے والے، ہماری باتوں کو قبول کرنے والے اور ہمارے دشمنوں کی مخالفت کرنے والے لوگ ہیں، جو ایسا نہ ہو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
ایک دوسری روایت میں ہے: اللہ کی قسم وہ لوگ جن چیزوں پر ہیں تم ان میں سے کسی بھی چیز پر نہیں ہو، اور تم لوگ جن چیزوں پر ہو وہ ان میں سے کسی چیز پر نہیں ہیں، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو وہ ذرہ برابر بھی حنیفیت پر نہیں ہیں۔
خمینی ان دونوں روایتوں پر تعلیق لگاتے ہوئے لکھتا ہے:
ان دونوں روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے عقائد، امامت کے مسائل اور امامت سے مرتبط امور میں ان کی مخالفت کی جائے گی، رہا ان (جعفر صادق) کا وہ قول جو صحیح محمد بن اسماعیل بن بزیغ کے اندر ہے کہ ”جب تم لوگوں کو کسی چیز کا اہتمام کرتے ہوئے دیکھو تو اس سے اجتناب کرو“ تو وہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان (سنیوں) کا کسی چیز پر خاص توجہ دینا اور اس پر اصرار کرنا اس کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔
بہر حال اس بات میں کوئی اشکال نہیں ہے کہ عوام کی مخالفت کرنا تعارض کے باب میں مرجحات میں سے ہے، لہٰذا ہم نے مبحث کے شروع سے لے کر یہاں تک جو کچھ ذکر کیا اس کا ماحصل یہ ہے کہ منصوص مرجح دو چیزوں میں منحصر ہے: کتاب وسنت کی موافقت اور عوام (اہل السنہ) کی مخالفت۔
(التعادل والترجيح للخميني: صفحہ 194، 197)
(کتاب سے مراد: وہ قرآن جو علی نے جمع کیا تھا، اور سنت سے مراد: شیعہ راویوں کی سند سے مروی رسول اللہﷺ کی طرف منسوب بعض جھوٹی روایات اور ائمہ معصومین کے اقوال و آثار)
ایک جگہ ان کے رافضی اصول و عقائد کے مخالف اور سنیوں کے موافق ائمہ کے چند اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتا ہے: خود ان روایات کے اندر اس بات کی دلیل موجود ہے کہ یہ روایات ائمہ سے صادر نہیں ہوئے ہیں اور یہ بعید نہیں ہے کہ ان روایات کو مخالفین نے ائمہ کی شبیہ بگاڑنے کے لئے پھیلایا ہو۔ (البيع: جلد 5 صفحہ 364)
عوام (سنیوں) کے موافق روایات عین ممکن ہے ائمہ سے صادر ہی نہ ہوئے ہوں، بلکہ دسیسہ کاروں نے انہیں ان کی حدیثوں میں داخل کر دیا ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان سے بطور تقیہ صادر ہوئے ہوں، لہٰذا ان میں سے کچھ بھی ثبوت کے اعتبار سے خالص و پائیدار نہیں ہے۔
(التعادل والترجيح: صفحہ 215)
یہاں خمینی نے کئی باتیں کی ہیں:
اول: اگر کسی مسئلہ میں ائمہ معصومین کا کوئی قول موجود نہ ہو اور شہر میں کوئی ایسا قابلِ اعتماد رافضی عالم و فقیہ بھی نہ ہو جس سے فتویٰ طلب کیا جائے تو ایسی صورت میں سنی فقیہ شہر سے مسئلہ پوچھا جائے گا اور وہ جو فتویٰ دیں گے اس کے برعکس جو موقف ہوگا اسے قبول کر لیا جائے گا کیونکہ حق ہمیشہ سنیوں کی مخالفت ہی میں ہوتا ہے۔
دوم: اگر کسی مسئلہ میں ائمہ سے ایک سے زائد باہم متعارض اقوال وروایات منقول ہوں اور ان میں سے کوئی قول سنیوں کی روایات و مسلک کے مخالف ہو تو اس قول کو قبول کیا جائے گا جو سنیوں کے مخالف ہوگا کیونکہ تعارض کے باب میں سنیوں کی مخالفت منصوص علیہ مرجحات میں سے ہے۔
سوم: اگر کسی مسئلہ میں ائمہ سے صرف ایک ہی قول منقول ہو اور وہ سنیوں کے مخالف ہو تو وہ بلاشبہ حق ہوگا لیکن اگر وہ سنیوں کے موافق ہو تو وہ تقیہ پر مبنی سمجھا جائے گا، اور یہ بھی ممکن ہے کہ درحقیقت وہ ائمہ کا قول ہو ہی نا بلکہ مخالفین نے ائمہ کی شبیہ بگاڑنے کے لئے ان طرف منسوب کر دیا ہو اور ہمارے مصادر کے اندر داخل کر دیا ہو، البتہ خمینی نے اس بات کی بھی صراحت کی ہے کہ ایسی صورت میں جہاں ائمہ کے اقوال میں تعارض نہ ہو فقط سنیوں کی موافقت کی وجہ سے ائمہ کے اقوال کو ترک نہیں کیا جائے گا۔
چہارم: اہل السنہ جن چیزوں کا خاص اہتمام کرتے ہیں ان سے اجتناب لازمی ہے کیونکہ ان کا کسی چیز پر خصوصی توجہ دینا اور اس پر اصرار کرنا اس کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔
پنجم: خمینی یہ سمجھتا ہے کہ اہل السنہ اسلام کے بجائے کسی اور دین کا پیروکار ہے، اور ہر وہ شخص جو دین اسلام کا پیروکار نہیں ہے وہ کافر ہے، لیکن وہ صراحت کے ساتھ اس چیز کا اعلان نہیں کرتا بلکہ لگی لپٹی باتوں گول مول اسلوب کے ذریعے اپنے مقصود کی ترجمانی کرتا ہے جیسا کہ اس نے جعفر صادق کے اس قول اللہ کی قسم وہ لوگ جن چیزوں پر ہیں تم ان میں سے کسی بھی چیز پر نہیں ہو، اور تم لوگ جن چیزوں پر ہو وہ ان میں سے کسی چیز پر نہیں ہیں، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو وہ ذرہ برابر بھی حنیفیت پر نہیں ہیں کو ذکر کر کے کرنے کی کوشش کی ہے۔
2: خمینی نے اپنی تالیفات و مضامین کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اہل السنہ و الجماعۃ کا دین ناقص اور غیر محفوظ ہے، اس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اصل دین کو اخذ کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی کیونکہ ان کا مقصد فقط حصولِ دنیا اور تخت سلطنت پر قبضہ کر کے حکمرانی کرنا اور مال و دولت اکٹھا کرنا تھا لکھتا ہے:
عوام (اہل السنہ) اور خواص (شیعہ روافض) کے مابین احکام کے اختلاف اور عوام پر دینی احکام کے مخفی ہونے نیز مخصصات کے پیچھے رہ جانے کی بہت ساری علتیں ہیں:
ان میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے اگرچہ امت تک تمام کلی احکام پہنچا دیا تھا، لیکن چونکہ شریعت کے ابتدائی ادوار اور شروع اسلام میں حفظ کے اسباب قوی نہ تھے اس لیے مکمل شریعت کو اس کی تمام خصوصیات کے ساتھ صرف وہی افراد ضبط کر سکے جو آپ کے راز دار اور اہل بیت تھے، اور امت میں امیر المؤمنین (علی) علیہ السلام سے زیادہ اہتمام کرنے والا اور آپ سے زیادہ ضبط کرنے والا کوئی نہ تھا، سو آپ نے اپنی شدتِ اہتمام کی وجہ سے تمام احکام اور کتاب الٰہی کی تمام خصوصیات تفسیر و تاویل، قرآنی آیات کے فہم میں معاون امور اور سنت نبویہ کے ضوابط کو ضبط کر لیا، شاید وہ قرآن جسے آپ نے جمع کیا تھا اور رسول اللہﷺ کے بعد اس کی تبلیغ کے خواہاں تھے وہ وہ قرآن تھا جو فہم قرآن میں معاون تمام خصوصیات پر مشتمل تھا جسے آپ نے رسول اللہﷺ کی تعلیم کے مطابق ضبط کر رکھا تھا، خلاصہ یہ ہے کہ اگرچہ رسول اللہﷺ نے احکام کی تبلیغ کر دی حتیٰ کہ چہرے پر دیے جانے والے زخموں کی دیت بھی بیان کر دی، لیکن جس سے ایک بھی حکم فوت نہیں ہوا اور کتاب و سنت کے تمام احکام کو ضبط کر لیا وہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام تھے، جبکہ لوگوں سے ان کی قلت اہتمام کے سبب بہت سارے احکام فوت ہو گئے، اس پر متعدد روایات دلالت کرتی ہیں۔
ان علتوں میں سے ایک علت یہ بھی ہے کہ ائمہ علیہم السلام دیگر کمالات کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کی بنسبت فہمِ کتاب وسنت میں اپنے ذاتی امتیازات کی وجہ سے رسول اللہﷺ کی جانب سے مقرر کردہ اور کتاب الٰہی میں بیان کردہ کلی اصول سے متفرع تمام تفریعات کو سمجھ گئے، چنانچہ جہاں رسول اللہﷺ نے ایک دروازہ کھولا تھا انہوں نے امت کے لیے ہزار دروازے کھول دیئے، جبکہ دوسرے اس سے قاصر رہے، لہٰذا کتاب و سنت اور ان سے نکلنے والی علمی شاخیں اور تنزیل کے نکتے سلفا عن خلف انہی کی میراث ہیں، جبکہ ان کے علاوہ دوسرے لوگ محروم ہیں۔ پس وہ صوارف جو ان ائمہ علیہم السلام کی زبانوں پر جاری ہوئے ہیں ممکن ہے ان میں سے بہت ساری چیزیں عمومات ومطلقات سے جدا رسول اللہﷺ سے صادر ہوئی ہیں اور انہیں ان کی اصل حالت میں صرف ان کے علم کے خازن امیر المؤمنین علی نے ضبط کیا ہے اور آپ نے وہ چیزیں ائمہ علیہم السلام کو ودیعت کی ہے۔
(الرسائل للخميني مع تذييلات لمجتبى الطهراني: جلد 2 صفحہ 26-27)
یہاں خمینی نے اہل السنہ کے دین کے ناقص ہونے کے کئی اسباب بیان کیے ہیں:
اول: اس زمانے میں علی کے علاوہ تمام صحابہ کرامؓ کے ہاں حفظ دین کے اسباب و مقتضیات موجود نہ تھے، کیونکہ ان کا مطمح نظر فقط متاعِ دنیا اور حکمرانی کا حصول تھا جیسا کہ یہ عام روافض کا عقیدہ ہے۔
دوم: مکمل دین وشریعت کو صرف سیدنا علیؓ نے ضبط کیا تھا جبکہ باقی تمام لوگ اس سے محروم تھے۔
سوم: وہ قرآن جسے علی نے جمع کیا تھا اور اس کی تبلیغ کے خواہاں تھے وہ قرآن ہمارے اس قرآن سے مختلف تھا کیونکہ وہ قرآن فہم قرآن میں معاون تمام خصوصیات پر مشتمل تھا جسے آپ نے رسول اللہﷺ کی تعلیم کے مطابق ضبط کر رکھا تھا۔
چہارم: ائمہ کرام اپنے ذاتی امتیازات کی وجہ سے رسول اللہﷺ کی جانب سے مقرر کردہ اور کتاب الٰہی میں بیان کردہ کلی اصول سے متفرع تمام تفریعات کو سمجھ گئے، چنانچہ جہاں رسول اللہﷺ نے ایک دروازہ کھولا تھا انہوں نے امت کے لیے ہزار دروازے کھول دیئے، جبکہ دوسرے اس سے قاصر رہے، چنانچہ جن لوگوں نے ائمہ کرام کی تعلیمات کو قبول نہیں کیا ان کا دین ناقص ہی رہا کیونکہ وہ ائمہ کی تفریعات سے محروم رہے۔
3: خمینی کے نزدیک اہل السنہ اس کے دینی دشمن اور کفار و مشرکین ہیں، اور یہود و نصاریٰ سے بھی بدتر ہیں لکھتا ہے:
”كل مخالف لنا في ديننا فهو عدونا في الدين“ ہمارا ہر دینی مخالف ہمارا دینی دشمن ہے۔
(المكاسب المحرمة للخميني: جلد 1 صفحہ 250) خمینی کی تحریروں سے یہ بات واضح ہے کہ وہ جب لفظ ”مخالف“ استعمال کرتا ہے تو اس کی مراد اہل السنہ ہوتے ہیں۔
نیز لکھتا ہے: مؤمن سے مراد شیعہ امامیہ اثناء عشریہ ہیں، چنانچہ جن روایتوں کے اندر مؤمن کا ذکر آیا ہے وہ اسی معنیٰ میں ہیں، اور جن روایتوں کے اندر اخوت کا ذکر ہے وہ بھی انہیں (سنیوں) شامل نہیں ہیں، کیونکہ ان سے اور ان کے دین و ائمہ سے برأت کے وجوب کے بعد ہمارے اور ان کے درمیان اخوت کا رشتہ باقی نہیں ہے، جیسا کہ روایات اس پر دلالت کرتے ہیں اور مذہب کے اصول اس کے متقاضی ہیں
(المكاسب المحرمة للخميني: جلد 1 صفحہ 250)
جو بھی ہو دونوں گروہوں کے کفر اور نجاست میں اشکال وارد کرنا مناسب نہیں ہے، اس لیے کہ نواصب و خوارج دونوں معروف گروہوں کا کفر یقینی طور پر مجمع علیہ ہے۔ (الطهارة للخميني: جلد 3 صفحہ 336)
خلاصہ یہ ہے کہ ناصبیوں اور خارجیوں کی نجاست پر اجماع اور بعض اخبار کے علاوہ اور کوئی دلیل نہیں ہے، اور ان اخبار میں سے کچھ ایسے ہیں جو مطلق ناصبی و خارجی کی نجاست کے اثبات کے قابل نہیں ہیں، گرچہ ہم علی الاطلاق ان کی تکفیر کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات ان کا قتل واجب قرار دیتے ہیں۔
(الطهارة للخميني: جلد 3 صفحہ 338)
مسلمانوں کے تمام فرقے خواہ حق پرور ہوں یا باطل پرست دیت میں سب برابر ہیں، سوائے ان کے جن پر کفر کا حکم لگایا گیا ہے جیسے نواصب اور خوارج۔
(تحرير الوسلية: جلد 2 صفحہ 559)
مسلمان ایک دوسرے کے وارث بنیں گے خواہ ان کے مسالک اصول اور عقائد مختلف ہی کیوں نہ ہوں، ہاں غالی قسم کے باطل پرست لوگ جن کی تکفیر کر دی گئی ہے، اور خوارج و نواصب۔
جو کفار ہیں یا کفار کے حکم میں ہیں مسلمان ان کے وارث بنیں وہ مسلمانوں کے وارث نہیں بنیں گے۔
(تحرير الوسليہ: جلد 2 صفحہ 394)
بلکہ بعض مقامات پر ایک نیا شگوفہ چھوڑتے ہوئے اہل السنہ کو جنہیں وہ ناصبی کہتا ہے مسلمان قرار دیا ہے جو کہ ایک شخص توحید و رسالت کی گواہی دے کر بن جاتا ہے، لیکن ان سے ایمان کی نفی کی ہے، چنانچہ کہتا ہے کہ نواصب مسلمان ہیں مؤمن نہیں ہیں کیونکہ مؤمن بننے کے لیے ایمانیات کے اقرار کے ساتھ ساتھ ولایت علی کی گواہی دینا بھی لازمی ہے اس لیے کہ علی کی ولایت کا اقرار ایمان کا رکن ہے، اور اس بات کی بھی صراحت کی ہے کہ ”ایمان“ کا لقب صرف اثنا عشری شیعوں کے ساتھ مختص ہے اور لفظ ”مؤمن“ سے مراد فقط شیعہ امامیہ اثناء عشریہ ہیں۔
(ملاحظہ کیجیے الوسلية: جلد 2 صفحہ 63، المكاسب المحرمۃ: جلد 1 صفحہ 250، الطهارة: جلد 3 صفحہ 323)
اور پھر مؤمن اور مسلم کے مابین متعدد امور میں اسی طرح کی تفریق کی ہے جیسا کہ مسلمان اور کافر کے بیچ کی جاتی ہے، اور بہت سارے اعمال کے لیے خصوصیت کے ساتھ ایمان کی شرط لگائی ہے۔
لکھتا ہے: میت کو غسل دینے والے کے اندر اسلام کی شرط بلکہ حالت اختیار میں ایمان کی شرط کا اعتبار لازمی ہے۔
(زبدة الأحكام: صفحہ 59، تحرير الوسلية: جلد 1 صفحہ 61)
میت کی نماز جنازہ پڑھنے والوں کے لئے مؤمن ہونا شرط ہے، پس مخالف (سنیوں) کی نماز کفایت نہیں کرے گی چہ جائیکہ کافروں کی۔
(تحرير الوسليہ: جلد 1 صفحہ 79)
(نماز) جماعت کے امام کے شرائط: اس میں کئی شرطیں ہیں: ایمان
(تحرير الوسلية: جلد 1 صفحہ 249)
نماز جمعہ کے امام کے لیے وہی شرائط ہیں جو نماز با جماعت کے امام کے لیے ہیں یعنی ایمان
(تحرير الوسلية: جلد 1 صفحہ 271)
روزہ کے صحیح ہونے کے شرائط کئی امور ہیں: اسلام، ایمان
(تحرير الوسلية: جلد 1 صفحہ 267)
اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ امامی اثناء عشری شیعوں کے علاوہ اور کسی کا روزہ صحیح نہیں ہوگا کیونکہ خمینی کے نزدیک مؤمن صرف شیعہ امامیہ ہیں۔
گواہ کی صفات: تیسری صفت یہ ہے کہ گواہ مؤمن ہو، پس غیر مؤمن کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی چہ جائیکہ غیر مسلم کی۔
(تحرير الوسلية: جلد 2 صفحہ 398)
4: خمینی کے نزدیک اہل السنہ نجس و ناپاک ہیں، لکھتا ہے:
أما النواصب والخوارج لعنهم اللہ تعالى، فهما نجسان من غير توقف
نواصب و خوارج ان پر اللہ کی لعنت ہو، دونوں گروہ بغیر کسی توقف کے نجس ہیں۔
(تحرير الوسلية: جلد 1 صفحہ 118)
رہی بات نواصب و خوارج کی اللہ ان پر لعنت برسائے دونوں جماعتیں نجس ہیں۔
(زبدة الأحكام: صفحہ 52)
جو بھی ہو دونوں گروہوں کے کفر اور نجاست میں اشکال وارد کرنا مناسب نہیں ہے، اس لیے کہ نواصب و خوارج دونوں معروف گروہوں کا کفر یقینی طور پر مجمع علیہ ہے۔
(الطهارة للخميني: جلد 3 صفحہ 336)
خلاصہ یہ ہے کہ ناصبیوں اور خارجیوں کی نجاست پر اجماع اور بعض اخبار کے علاوہ اور کوئی دلیل نہیں ہے، اور ان اخبار میں سے کچھ ایسے ہیں جو مطلق ناصبی و خارجی کی نجاست کے اثبات کے قابل نہیں ہیں۔
(الطهارة للخميني: جلد 3 صفحہ 338)
رہی بات دونوں گروہوں (نواصب و خوارج) کی تو ان کا نجس ہونا ظاہر ہے، جیسا کہ اجماع نقل کیا گیا ہے، اور اس سلسلے میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے، اور من جملہ اعاظم نے اس میں کوئی کلام نہیں کیا ہے اور اسے مسلمات کی طرح چھوڑ دیا ہے۔
اور اس پر ایک روایت سے استدلال کیا ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نواصب یہود و نصاریٰ اور مجوس سے بدتر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے کتے سے زیادہ نجس کوئی مخلوق پیدا نہیں کیا ہے اور نواصب کتے سے بھی زیادہ نجس ہیں۔
اس کے بعد لکھا ہے: تینوں فرقوں (یہود و نصاریٰ اور مجوس) کی نجاست ثابت ہو جانے کے بعد جیسا کہ پہلے بالاستیعاب ذکر کیا گیا ہے، اس خبیث فرقے کو ان کا ساتھی بنا دیا ہے، جو اس کے نجس ہونے پر دلالت کرتا ہے، اور اس میں اس بات کی بھی صراحت ہے وہ کتے سے زیادہ نجس ہیں، حکم اور موضوع کی مناسبت کے اعتبار سے بظاہر یہ تفضیل ظاہری نجاست میں ہے۔
(الطهارة للخميني: جلد 3 صفحہ 335، 336)
5: شیعوں کے لیے کسی سنی مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے، لکھتا ہے:
يجب الصلاة على كل مسلم وإن كان مخالفا للحق على الأصح، ولا يجوز على الكافر بأقسامه حتى المرتد ومن حكم بكفره ممن انتحل الإسلام كالنواصب والخوارج
صحیح ترین قول کے مطابق ہر مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنا واجب ہے، اگرچہ وہ حق کا مخالف ہی کیوں نہ ہو، اور تمام اقسام کے کافروں حتیٰ کہ مرتد اور اسلام کی طرف انتساب کرنے والے ایسے لوگ جن کے کافر ہونے کا حکم لگایا جا چکا ہے جیسے نواصب و خوارج کی نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔
(تحرير الوسلية: جلد 1 صفحہ 79)
6: خمینی کہتا ہے کہ اگر کسی شیعہ میت کا جنازہ سنی پڑھے تو کفایت نہیں کرے گا، نیز سنیوں کو شیعوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں ہے اور اگر دفن کر دیا جائے تو اسے نکال پھینکا جائے گا۔
لکھتا ہے میت کی نماز جنازہ پڑھنے والوں کے لیے مؤمن ہونا شرط ہے، پس مخالف (سنیوں) کی نماز کفایت نہیں کرے گی چہ جائیکہ کافروں کی۔
(تحرير الوسلية: جلد 1 79)
لا يجوز أن يدفن الكفار وأولادهم في مقبرة المسلمين، بل لو دفنوا نبشوا
کفار اور ان کی اولاد کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ اگر دفن کر بھی دیے جائیں تو انہیں نکال پھینکا جائے گا۔
(تحرير الوسلية: جلد 1 صفحہ 89، زبدة الأحكام: صفحہ 440)
اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ خمینی اہل السنہ کی تکفیر کرتا ہے اور ان کے ساتھ کافروں والا تعامل کرتا ہے، اس لیے اس عبارت میں اہل السنہ بھی داخل ہیں۔
7: خمینی کا فتویٰ ہے کہ مسلمانوں کے تمام فرقے خواہ حق پرور ہوں یا باطل پرست دیت میں سب برابر ہیں، سوائے ان کے جن پر کفر کا حکم لگایا گیا ہے جیسے نواصب اور خوارج۔
(تحرير الوسلية: جلد 2 صفحہ 559) یعنی سنیوں کی دیت عام مسلمانوں کی دیت کی طرح نہیں ہے کیونکہ خمینی ان کے جان و مال کو حلال سمجھتا ہے۔
8: خمینی کے نزدیک اہل السنہ حربی ہیں اور ان کے اموال شیعوں کے لیے مال غنیمت ہیں، لہٰذا ان کا مال جہاں بھی ملے اور جیسے بھی ملے خواہ چوری کر کے ہو، چھین کر ہو، سودی کاروبار کے ذریعے ہو یا جھوٹا دعویٰ کر کے ہو لے لینا جائز ہے۔ لکھتا ہے: جو مال زبردستی غنیمت بنا لیا جائے، بلکہ چوری کر کے یا اچک کر حاصل کر لیا جائے جب کہ یہ دونوں چیزیں سرقہ اور غیلہ جنگ اور اس کے حالات میں ہوں۔ اور حربیوں سے ہوں اور جو ان سے چوری کر کے اور چھین اچک کر حاصل کیا جائے مذکورہ بالا حالت کے علاوہ اسی طرح سود اور باطل دعوے وغیرہ کے ذریعے لے لیا جائے تو احوط یہی ہے کہ غنیمت تصور کر کے اس سے خمس نکال دیا جائے، قوی ترین مؤقف یہ ہے کہ نواصب کو ان سے حاصل ہونے والے مال غنیمت کے جواز و اباحت اور اس سے خمس نکالنے کے مسئلہ میں حربیوں کے زمرے میں شامل کر دیا جائے، بلکہ یہ ظاہر ہے کہ ناصبی کا مال جہاں بھی ملے اور جیسے بھی ملے لے لینا جائز ہے، اور اس کا خمس نکالنا واجب ہے۔
( تحرير الوسلية: جلد 1 صفحہ 352)
یعنی جس طرح خمینی کے نزدیک حربیوں کا مال چوری کر کے اور چھین کر لینا جائز ہے اسی طرح نواصب یعنی سنیوں کا مال بھی چوری کر کے اور لوٹ کر حاصل کرنا جائز ہے۔
9: سنیوں کو صدقہ دینا جائز نہیں ہے اگرچہ وہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں، جبکہ عام کافروں کو صدقہ دینا جائز ہے، لکھتا ہے: مندوب صدقہ دیتے وقت صدقہ لینے والے کے اندر فقر ایمان اور اسلام جیسی شرائط کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، بلکہ مندوب صدقہ مالدار، ذمی اور مخالف کو بھی دینا جائز ہے اگرچہ وہ اجنبی ہی کیوں نہ ہو، ہاں البتہ ناصبی اور حربی کو دینا جائز نہیں ہے اگرچہ وہ رشتے دار ہی کیوں نہ ہو۔
(تحرير الوسليۃ: جلد 2 صفحہ 91)
اسی طرح اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ فرض زکٰوۃ کا مستحق صرف شیعہ امامیہ اثناء عشریہ ہیں، مخالفین حق اگرچہ ان کا تعلق شیعہ مسلک سے ہی کیوں نہ ہو وہ زکوٰۃ کے مستحق نہیں ہیں، غیر امامیہ کو صرف مؤلفہ قلوب کے حصے سے دیا جا سکتا ہے۔
(زبدة الأحكام: صفحہ 200 تحرير الوسلية: جلد 1 صفحہ 310) خمس کا مستحق بھی صرف امامیہ ہیں۔
(زبدة الأحكام: صفحہ 224 تحرير الوسلية: جلد 1 صفحہ 334)
كفارات کے مالوں کے مستحق مساکین میں بھی یہی شرط لگائی ہے کہ وہ امامی ہوں۔
(تحرير الوسلية: جلد 2 صفحہ 115)
10: سنیوں کا ذبیحہ حلال نہیں ہے، جبکہ ان کے علاوہ تمام اسلامی فرقوں سے وابستہ افراد کا ذبیحہ حلال ہے، لکھتا ہے: کافر کا ذبیحہ حلال نہیں ہے خواہ وہ مشرک ہو یا نہ ہو حتیٰ کہ قوی تر مؤقف کے مطابق اہل کتاب کا ذبیحہ بھی حلال نہیں ہے، اور اس کے لیے مؤمن ہونا شرط نہیں ہے، لہٰذا تمام اسلامی فرقوں کا ذبیحہ حلال ہو گا سوائے نواصب کے اگرچہ وہ اسلام کا اظہار کریں پھر بھی ان کا ذبیحہ حلال نہ ہو گا۔
(تحرير الوسلية: جلد 2 صفحہ 146)
شکاری کتا کا شکار حلال ہونے کے لیے کئی شرائط ہیں۔
کتے کو شکاری کے لیے چھوڑنے والا مسلمان ہو یا مسلمان کے حکم میں ہو، پس اگر کتے کو کسی بھی قسم کے کافر یا جو کافر کے حکم میں ہے جیسے نواصب اللہ ان پر لعنت برسائے نے چھوڑا ہو تو اس کا شکار کرده جانور کھانا حلال نہیں ہو گا۔
(تحرير الوسلية: جلد 2 صفحہ 120)
اسی طرح وہ اس بات کا بھی قائل ہے کہ اگر کسی کے ہدی کا جانور کوئی غیر امامی اثناء عشری ذبح کر دے تو دوبارہ ہدی ذبح کرنا واجب ہے۔ لکھتا ہے: وجوبی طور پر احوط یہی ہے کہ ذبح کرنے والا مؤمن ہو اگر ذبح کرنے والا غیر مؤمن ہو تو کفایت نہیں کرے گا اور دوبارہ ذبح کرنا واجب ہو گا۔
(مناسك الحج للخميني: صفحہ 223)
11: سنیوں کی گواہی کا کوئی اعتبار نہیں ہے، کیونکہ گواہ کے شرائط میں سے ایک یہ کہ وہ مؤمن ہو اور مؤمن صرف اثناء عشری شیعہ ہیں جو ولایت علی پر ایمان رکھتے ہیں۔ لکھتا ہے!
گواہ کی صفات:
تیسری صفت یہ ہے کہ گواہ مؤمن ہو، پس غیر مؤمن کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی چہ جائیکہ غیر مسلم کی۔
(تحرير الوسليۃ: جلد 2 صفحہ 398)
12: سنی میت کو غسل دینا جائز نہیں ہے لکھتا ہے: کافروں کو غسل دینا جائز نہیں ہے اسی طرح مسلمانوں میں سے جن لوگوں کی تکفیر کی گئی ہے جیسے نواصب و خوارج وغيره ان کو بھی غسل دینا جائز نہیں ہے۔
(تحرير الوسليۃ: جلد 1 صفحہ 58)
12: سنی شیعوں کے وارث نہیں بنیں گے جبکہ شیعہ سنیوں کے وارث بنیں گے اور ان کی جائیدادوں میں سے حصہ لیں گے، لکھتا ہے: مسلمان ایک دوسرے کے وارث بنیں گے خواہ ان کے مسالک اصول اور عقائد مختلف ہی کیوں نہ ہوں۔ ہاں غالی قسم کے باطل پرست لوگ جن کی تکفیر کر دی گئی ہے، اور خوارج و نواصب، جو کفار ہیں یا کفار کے حکم میں ہیں تو مسلمان ان کے وارث بنیں وہ مسلمانوں کے وارث نہیں بنیں گے۔ (تحریر الوسلية: جلد 2 صفحہ 394)
13: سنیوں کی غیبت کرنا ان پر لعن طعن کرنا، ان کی عزتوں کو پامال کرنا اور انہیں برا بھلا کہنا جائز ہے، لکھتا ہے: یہ بالکل واضح ہے کہ حرمت صرف مؤمن کی غیبت کے ساتھ خاص ہے، یعنی صرف شیعی امامی کی غیبت حرام ہے لہٰذا مخالف (اہل السنہ) کی غیبت جائز ہے الا یہ کہ تقیہ وغیرہ اس سے باز رہنے کا متقاضی ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ غیبت کی حرمت کے دلائل ان کی غیبت کی حرمت کا اثبات نہیں کرتے ہیں۔ (المکاسب المحرمة للخميني: جلد 1 صفحہ 249)
اس کے بعد خمینی نے اپنے مؤقف کی تائید میں بعض روایات ذکر کی ہیں اور کہا: مختلف ابواب میں بہت ساری روایتوں پر غور و فکر کرنے والا ان (سنیوں) کی عزتوں کو پامال کرنے اور انہیں برا بھلا کہنے کے جواز میں ادنیٰ شک نہیں کرے گا، بلکہ خود ائمہ معصومین نے ان پر بہت زیادہ لعن طعن کیا اور ان کی بہت برائیاں کی ہے۔
(المكاسب المحرمة للخميني: جلد 1 صفحہ 251)
پھر یہ روایت ذکر کی ہے : ابو حمزہ نے ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کیا ہے، کہتا ہے میں نے ابو جعفر علیہ السلام سے کہا کہ ہمارے بعض ساتھی اپنے مخالفین پر افتراء پردازی کرتے اور تہمت دھرتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرنا بہتر ہے، پھر فرمایا اے ابو حمزہ ہمارے شیعوں کے علاوہ سارے لوگ زانیوں کی اولاد ہیں اس پر تعلیق لگاتے ہوئے لکھا کہ اس روایت سے واضح طور پر ان سنیوں پر الزام تراشی کرنے اور تہمت لگانے کا جواز معلوم ہوتا ہے، البتہ ایسا نہ کرنا افضل و احسن ہے، لیکن سوائے بعض اوقات کے رکنا مشکل ہے۔ (المكاسب المحرمة الخم للخميني: جلد 1 صفحہ 252)
14: روزِ قیامت سنیوں کی نیکیاں شیعوں کو دے دی جائیں گی اور شیعوں کے گناہ سنیوں کے سر مڑھ دیے جائیں گے، چنانچہ خمینی نے ابو جعفر محمد باقر کی طرف منسوب ایک روایت نقل کیا ہے جس میں صراحت کے ساتھ یہ مذکور ہے کہ قیامت کے دن مؤمن کے تمام گناہوں کو لے ناصبی کے ذمے ڈال دیا جائے گا، اور ناصبی کی ساری نیکیوں، بھلائی کے کاموں اور عبادت و ریاضت کو اس سے لے کر مؤمن کو عطا کر دیا جائے گا پھر اس پر تعلیق لگاتے ہوئے لکھا ہے: اس بنیاد پر کفار و منافقین اور ان کے جیسے لوگوں کا کیا ہوگا؟ کیا ان کا بدلہ وہی نہیں ہے جو اس روایت شریفہ میں ذکر کیا گیا ہے؟ کہ ان کی نیکیوں کو چھین کر مؤمنوں کو دے دیا جائے گا، اور مؤمنوں کے گناہوں کو لے کر ان پر تھوپ دیا جائے گا اس عادلانہ حکم کی جانب بہت سارے مقامات پر تاویلاً اور صراحتاً اشارہ بھی کیا گیا ہے۔
(الآداب المعنوية للصلاة: جلد 1 صفحہ 122)
غور کریں خمینی نے کس طرح اس جھوٹی اور من گھڑت روایت کو روایت شریفہ کا خطاب دیا ہے اور اس میں موجود ظالمانہ حکم کو عادلانہ حکم قرار دیا ہے۔
15: شیعہ مردوں کے لیے سنی عورتوں سے شادی کرنا اور شیعہ عورتوں کے لیے سنی مردوں سے شادی کرنا حرام ہے حتیٰ کہ سنی عورتوں سے متعہ بھی جائز نہیں ہے، لکھتا ہے: مؤمنہ عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی ناصبی مرد سے شادی کرے اسی طرح مؤمن مرد کے لیے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ کسی ناصبی عورت سے شادی کرے اس لیے کہ وہ دونوں کفار کے حکم میں ہیں اگرچہ وہ بظاہر دین اسلام کو اپنائے ہوئے ہیں۔
(تحرير الوسليۃ: جلد 2 صفحہ 256، زبدة الأحكام: صفحہ 327)
کسی مسلمان کے لیے اہل کتاب عورت کے علاوہ اور کسی قسم کی کافر عورتوں سے متعہ کرنا جائز نہیں ہے، نہ مرتدہ سے اور نہ ناصبہ سے۔
(تحرير الوسلية: جلد 2 صفحہ 258)
16: خمینی کا مؤقف ہے کہ سنیوں کے پیچھے نماز پڑھنا اصلاً جائز نہیں ہے البتہ تقیہ کرتے ہوئے اور اپنے مسلک کی سِرّیت کی حفاظت کی خاطر ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز بلکہ رسول اللہﷺ کے پیچھے نماز پڑھنے کے برابر ہے۔
(التقيۃ للخميني: صفحہ 100، 199، 198، 63، 66، 70)
17: مسائل کے تصفیہ کے لیے سنی قاضیوں کے پاس جانا حرام ہے، کیونکہ وہ طاغوت ہیں۔ لہٰذا جو ان کے پاس جاتا ہے وہ طاغوت کے پاس جاتا ہے اور تحاکم الى الطاغوت یعنی فیصلہ کے لیے طاغوت کی طرف منسوب ایک روایت جس میں مذکور ہے کہ جو فیصلہ کے لئے سنی قاضیوں سے رجوع کرتا ہے وہ طاغوت کی طرف رجوع کرتا ہے جبکہ اللہ نے طاغوت کا انکار کرنے کا حکم دیا ہے ذکر کرنے کے بعد لکھتا ہے کہ امام نے سائل کے سوال کا جواب دیتے ہوئے حقوقی یا جزائی مسائل کے تصفیہ کے لئے ظالم حکام کی طرف رجوع کرنے سے مطلق طور پر منع کر دیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو ان کی طرف رجوع کرتا ہے وہ اپنے فیصلے کے لیے طاغوت کی طرف رجوع کرتا ہے حالانکہ اللہ نے اس کا کفر کرنے کا حکم دیا ہے۔ (الحكومۃ الإسلاميۃ للخميني: صفحہ 87)
سنیوں کے قاضیوں سے رجوع کرنا لازمی طور پر ناجائز ہے۔ (الاجتهاد والتقليد: صفحہ 116)
ظالم قاضیوں کی طرف مقدمہ لے جانا حرام ہے، یعنی جن کے اندر قضا کے شرائط مکمل نہیں ہیں اگر کوئی ان کی طرف معاملہ لے جائے تو وہ گنہگار ہوگا، اور ان کے فیصلے کے نتیجے میں جو کچھ لے گا وہ حرام ہو گا۔
(تحرير الوسليۃ: جلد 2 صفحہ 365)
امام علیہ السلام جواب میں غیر شرعی محکموں کی طرف رجوع کرنے سے منع کرتے ہیں، خواہ وہ انتظامی ہوں یا عدالتی اور فرماتے ہیں کہ مسلمان عوام کو اپنے معاملات کے حل کے لئے سلطانوں ظالم حکمرانوں اور ان کے لیے کام کرنے والے ججوں کی طرف رجوع نہیں کرنا چاہیے، اگرچہ رجوع کرنے والے شخص کا حق قائم ثابت ہو اور وہ اسے حاصل کرنے کے لیے جانا چاہتا ہو، چنانچہ اگر کسی مسلمان کا بیٹا مارا جائے یا اس کا گھر لوٹ لیا جائے تو اسے بھی حق نہیں ہے کہ وہ ظالم حکمرانوں کے پاس جا کر مقدمہ کرے، جو بھی ان جیسے معاملات میں ان کے پاس جاتا ہے وہ طاغوت کے پاس جاتا ہے، یعنی غیر شرعی قوتوں کے پاس، اور وہ ان کے ذریعے جو حق لیتا ہے، وہ بطور حرام لیتا ہے، اور اگر یہ اس کا قائم شدہ حق ہے تو وہ بھی حرام ہے اور اسے اس کے تصرف کا کوئی حق نہیں ہے
(الحكومۃ الإسلاميۃ: صفحہ 136)
خلافت راشده عہد عمرؓ و عثمانؓ و علیؓ کے معروف قاضی قاضی شریح کے بارے میں لکھتا ہے: یہ شریح تقریباً پچاس سال تک قاضی کے عہدے پر فائز رہا، یہ معاویہ کا چاپلوس تھا، اس کی تعریف و توصیف کرتا تھا، اور اس کے بارے میں ایسی باتیں کہتا تھا جس کا وہ مستحق نہیں تھا، اس کا یہ رویہ امیر المؤمنین علی کی حکومت کے قائم کردہ اصولوں کو منہدم کرنے کے مترادف تھا۔ (الحكومۃ الإسلاميۃ: صفحہ 74)