اہل سنت کے بارے میں رہبر انقلاب ایران خمینی کے افکار - ردِ…

اہل سنت کے بارے میں رہبر انقلاب ایران خمینی کے افکار

  مامون رشید

صفحہ 2 از 6

علی بن اسباط سے روایت ہے کہتا ہے میں نے رضا علیہ السلام سے کہا: کہ مسئلہ پیش آتا ہے لیکن میں اس کی معرفت سے قاصر رہتا ہوں اور میں جس شہر میں رہتا ہوں اس میں آپ کے اصحاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہوتا جس سے میں فتویٰ پوچھ لوں، تو آپ نے فرمایا: فقیہ شہر کے پاس جاؤ اور اس سے اپنا مسئلہ پوچھ لو، وہ تمہیں جو فتویٰ دے تم اس کے مخالف موقف کو قبول کر لو کیونکہ حق اسی (سنیوں کی مخالفت) میں ہے۔

ابو عبد اللہ جعفر صادق فرماتے ہیں: تم نے مجھ سے لوگوں (سنیوں) کی باتوں کے مشابہ جو باتیں سنی ہے وہ تقیہ کی بنیاد پر ہیں، اور جو باتیں ایسی سنی ہے جو لوگوں کی باتوں کے مشابہ نہیں ہیں ان میں کوئی تقیہ نہیں ہے۔

ابو اسحاق ارجانی سے روایت ہے کہتا ہے کہ ابو عبداللہ (جعفر صادق) کہتے ہیں:"کیا تم جانتے ہو تمہیں عوام کے قول کے برعکس مؤقف اختیار کرنے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ میں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کیوں! تو آپ نے فرمایا: کہ علی جو بھی چیز بطور دین اپناتے تھے امت ان کی بات چھوڑ کر دوسرے کی بات قبول کر لیتی تھی، اس کے پیچھے لوگوں کا مقصد ان کے حکم کو باطل و بےاثر قرار دینا ہوتا تھا، وہ لوگ امیر المؤمنین سے کسی ایسی چیز کے بارے میں دریافت کرتے تھے جس کا انہیں علم نہیں ہوتا، پس جب آپ انہیں فتویٰ دے دیتے تو وہ خود سے اس کا مخالف موقف گھڑ لیتے تھے تاکہ لوگوں کو تلبیس میں مبتلا کریں۔

ایک روایت میں ہے: ہمارے شیعہ ہمارے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے والے، ہماری باتوں کو قبول کرنے والے اور ہمارے دشمنوں کی مخالفت کرنے والے لوگ ہیں، جو ایسا نہ ہو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ 

ایک دوسری روایت میں ہے: اللہ کی قسم وہ لوگ جن چیزوں پر ہیں تم ان میں سے کسی بھی چیز پر نہیں ہو، اور تم لوگ جن چیزوں پر ہو وہ ان میں سے کسی چیز پر نہیں ہیں، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو وہ ذرہ برابر بھی حنیفیت پر نہیں ہیں۔  

خمینی ان دونوں روایتوں پر تعلیق لگاتے ہوئے لکھتا ہے: 

ان دونوں روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے عقائد، امامت کے مسائل اور امامت سے مرتبط امور میں ان کی مخالفت کی جائے گی، رہا ان (جعفر صادق) کا وہ قول جو صحیح محمد بن اسماعیل بن بزیغ کے اندر ہے کہ ”جب تم لوگوں کو کسی چیز کا اہتمام کرتے ہوئے دیکھو تو اس سے اجتناب کرو“ تو وہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان (سنیوں) کا کسی چیز پر خاص توجہ دینا اور اس پر اصرار کرنا اس کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔

بہر حال اس بات میں کوئی اشکال نہیں ہے کہ عوام کی مخالفت کرنا تعارض کے باب میں مرجحات میں سے ہے، لہٰذا ہم نے مبحث کے شروع سے لے کر یہاں تک جو کچھ ذکر کیا اس کا ماحصل یہ ہے کہ منصوص مرجح دو چیزوں میں منحصر ہے: کتاب وسنت کی موافقت اور عوام (اہل السنہ) کی مخالفت۔ 

(التعادل والترجيح للخميني: صفحہ 194، 197)

(کتاب سے مراد: وہ قرآن جو علی نے جمع کیا تھا، اور سنت سے مراد: شیعہ راویوں کی سند سے مروی رسول اللہﷺ کی طرف منسوب بعض جھوٹی روایات اور ائمہ معصومین کے اقوال و آثار) 

ایک جگہ ان کے رافضی اصول و عقائد کے مخالف اور سنیوں کے موافق ائمہ کے چند اقوال نقل کرنے کے بعد لکھتا ہے: خود ان روایات کے اندر اس بات کی دلیل موجود ہے کہ یہ روایات ائمہ سے صادر نہیں ہوئے ہیں اور یہ بعید نہیں ہے کہ ان روایات کو مخالفین نے ائمہ کی شبیہ بگاڑنے کے لئے پھیلایا ہو۔ (البيع: جلد 5 صفحہ 364) 

عوام (سنیوں) کے موافق روایات عین ممکن ہے ائمہ سے صادر ہی نہ ہوئے ہوں، بلکہ دسیسہ کاروں نے انہیں ان کی حدیثوں میں داخل کر دیا ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان سے بطور تقیہ صادر ہوئے ہوں، لہٰذا ان میں سے کچھ بھی ثبوت کے اعتبار سے خالص و پائیدار نہیں ہے۔

(التعادل والترجيح: صفحہ 215)

یہاں خمینی نے کئی باتیں کی ہیں:

اول: اگر کسی مسئلہ میں ائمہ معصومین کا کوئی قول موجود نہ ہو اور شہر میں کوئی ایسا قابلِ اعتماد رافضی عالم و فقیہ بھی نہ ہو جس سے فتویٰ طلب کیا جائے تو ایسی صورت میں سنی فقیہ شہر سے مسئلہ پوچھا جائے گا اور وہ جو فتویٰ دیں گے اس کے برعکس جو موقف ہوگا اسے قبول کر لیا جائے گا کیونکہ حق ہمیشہ سنیوں کی مخالفت ہی میں ہوتا ہے۔

دوم: اگر کسی مسئلہ میں ائمہ سے ایک سے زائد باہم متعارض اقوال وروایات منقول ہوں اور ان میں سے کوئی قول سنیوں کی روایات و مسلک کے مخالف ہو تو اس قول کو قبول کیا جائے گا جو سنیوں کے مخالف ہوگا کیونکہ تعارض کے باب میں سنیوں کی مخالفت منصوص علیہ مرجحات میں سے ہے۔

سوم: اگر کسی مسئلہ میں ائمہ سے صرف ایک ہی قول منقول ہو اور وہ سنیوں کے مخالف ہو تو وہ بلاشبہ حق ہوگا لیکن اگر وہ سنیوں کے موافق ہو تو وہ تقیہ پر مبنی سمجھا جائے گا، اور یہ بھی ممکن ہے کہ درحقیقت وہ ائمہ کا قول ہو ہی نا بلکہ مخالفین نے ائمہ کی شبیہ بگاڑنے کے لئے ان طرف منسوب کر دیا ہو اور ہمارے مصادر کے اندر داخل کر دیا ہو، البتہ خمینی نے اس بات کی بھی صراحت کی ہے کہ ایسی صورت میں جہاں ائمہ کے اقوال میں تعارض نہ ہو فقط سنیوں کی موافقت کی وجہ سے ائمہ کے اقوال کو ترک نہیں کیا جائے گا۔ 

چہارم: اہل السنہ جن چیزوں کا خاص اہتمام کرتے ہیں ان سے اجتناب لازمی ہے کیونکہ ان کا کسی چیز پر خصوصی توجہ دینا اور اس پر اصرار کرنا اس کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔

پنجم: خمینی یہ سمجھتا ہے کہ اہل السنہ اسلام کے بجائے کسی اور دین کا پیروکار ہے، اور ہر وہ شخص جو دین اسلام کا پیروکار نہیں ہے وہ کافر ہے، لیکن وہ صراحت کے ساتھ اس چیز کا اعلان نہیں کرتا بلکہ لگی لپٹی باتوں گول مول اسلوب کے ذریعے اپنے مقصود کی ترجمانی کرتا ہے جیسا کہ اس نے جعفر صادق کے اس قول اللہ کی قسم وہ لوگ جن چیزوں پر ہیں تم ان میں سے کسی بھی چیز پر نہیں ہو، اور تم لوگ جن چیزوں پر ہو وہ ان میں سے کسی چیز پر نہیں ہیں، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو وہ ذرہ برابر بھی حنیفیت پر نہیں ہیں کو ذکر کر کے کرنے کی کوشش کی ہے۔

صفحہ 2 از 6