اہل سنت کے بارے میں رہبر انقلاب ایران خمینی کے افکار - ردِ…

اہل سنت کے بارے میں رہبر انقلاب ایران خمینی کے افکار

  مامون رشید

صفحہ 5 از 6

8: خمینی کے نزدیک اہل السنہ حربی ہیں اور ان کے اموال شیعوں کے لیے مال غنیمت ہیں، لہٰذا ان کا مال جہاں بھی ملے اور جیسے بھی ملے خواہ چوری کر کے ہو، چھین کر ہو، سودی کاروبار کے ذریعے ہو یا جھوٹا دعویٰ کر کے ہو لے لینا جائز ہے۔ لکھتا ہے: جو مال زبردستی غنیمت بنا لیا جائے، بلکہ چوری کر کے یا اچک کر حاصل کر لیا جائے جب کہ یہ دونوں چیزیں سرقہ اور غیلہ جنگ اور اس کے حالات میں ہوں۔ اور حربیوں سے ہوں اور جو ان سے چوری کر کے اور چھین اچک کر حاصل کیا جائے مذکورہ بالا حالت کے علاوہ اسی طرح سود اور باطل دعوے وغیرہ کے ذریعے لے لیا جائے تو احوط یہی ہے کہ غنیمت تصور کر کے اس سے خمس نکال دیا جائے، قوی ترین مؤقف یہ ہے کہ نواصب کو ان سے حاصل ہونے والے مال غنیمت کے جواز و اباحت اور اس سے خمس نکالنے کے مسئلہ میں حربیوں کے زمرے میں شامل کر دیا جائے، بلکہ یہ ظاہر ہے کہ ناصبی کا مال جہاں بھی ملے اور جیسے بھی ملے لے لینا جائز ہے، اور اس کا خمس نکالنا واجب ہے۔

( تحرير الوسلية: جلد 1 صفحہ 352)

یعنی جس طرح خمینی کے نزدیک حربیوں کا مال چوری کر کے اور چھین کر لینا جائز ہے اسی طرح نواصب یعنی سنیوں کا مال بھی چوری کر کے اور لوٹ کر حاصل کرنا جائز ہے۔

9: سنیوں کو صدقہ دینا جائز نہیں ہے اگرچہ وہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں، جبکہ عام کافروں کو صدقہ دینا جائز ہے، لکھتا ہے: مندوب صدقہ دیتے وقت صدقہ لینے والے کے اندر فقر ایمان اور اسلام جیسی شرائط کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، بلکہ مندوب صدقہ مالدار، ذمی اور مخالف کو بھی دینا جائز ہے اگرچہ وہ اجنبی ہی کیوں نہ ہو، ہاں البتہ ناصبی اور حربی کو دینا جائز نہیں ہے اگرچہ وہ رشتے دار ہی کیوں نہ ہو۔

 (تحرير الوسليۃ: جلد 2 صفحہ 91)

اسی طرح اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ فرض زکٰوۃ کا مستحق صرف شیعہ امامیہ اثناء عشریہ ہیں، مخالفین حق اگرچہ ان کا تعلق شیعہ مسلک سے ہی کیوں نہ ہو وہ زکوٰۃ کے مستحق نہیں ہیں، غیر امامیہ کو صرف مؤلفہ قلوب کے حصے سے دیا جا سکتا ہے۔ 

(زبدة الأحكام: صفحہ 200 تحرير الوسلية: جلد 1 صفحہ 310) خمس کا مستحق بھی صرف امامیہ ہیں۔ 

(زبدة الأحكام: صفحہ 224 تحرير الوسلية: جلد 1 صفحہ 334)

كفارات کے مالوں کے مستحق مساکین میں بھی یہی شرط لگائی ہے کہ وہ امامی ہوں۔

 (تحرير الوسلية: جلد 2 صفحہ 115)

10: سنیوں کا ذبیحہ حلال نہیں ہے، جبکہ ان کے علاوہ تمام اسلامی فرقوں سے وابستہ افراد کا ذبیحہ حلال ہے، لکھتا ہے: کافر کا ذبیحہ حلال نہیں ہے خواہ وہ مشرک ہو یا نہ ہو حتیٰ کہ قوی تر مؤقف کے مطابق اہل کتاب کا ذبیحہ بھی حلال نہیں ہے، اور اس کے لیے مؤمن ہونا شرط نہیں ہے، لہٰذا تمام اسلامی فرقوں کا ذبیحہ حلال ہو گا سوائے نواصب کے اگرچہ وہ اسلام کا اظہار کریں پھر بھی ان کا ذبیحہ حلال نہ ہو گا۔

(تحرير الوسلية: جلد 2 صفحہ 146) 

شکاری کتا کا شکار حلال ہونے کے لیے کئی شرائط ہیں۔ 

کتے کو شکاری کے لیے چھوڑنے والا مسلمان ہو یا مسلمان کے حکم میں ہو، پس اگر کتے کو کسی بھی قسم کے کافر یا جو کافر کے حکم میں ہے جیسے نواصب اللہ ان پر لعنت برسائے نے چھوڑا ہو تو اس کا شکار کرده جانور کھانا حلال نہیں ہو گا۔

(تحرير الوسلية: جلد 2 صفحہ 120)

اسی طرح وہ اس بات کا بھی قائل ہے کہ اگر کسی کے ہدی کا جانور کوئی غیر امامی اثناء عشری ذبح کر دے تو دوبارہ ہدی ذبح کرنا واجب ہے۔ لکھتا ہے: وجوبی طور پر احوط یہی ہے کہ ذبح کرنے والا مؤمن ہو اگر ذبح کرنے والا غیر مؤمن ہو تو کفایت نہیں کرے گا اور دوبارہ ذبح کرنا واجب ہو گا۔

 (مناسك الحج للخميني: صفحہ 223)

11: سنیوں کی گواہی کا کوئی اعتبار نہیں ہے، کیونکہ گواہ کے شرائط میں سے ایک یہ کہ وہ مؤمن ہو اور مؤمن صرف اثناء عشری شیعہ ہیں جو ولایت علی پر ایمان رکھتے ہیں۔ لکھتا ہے!

گواہ کی صفات:

تیسری صفت یہ ہے کہ گواہ مؤمن ہو، پس غیر مؤمن کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی چہ جائیکہ غیر مسلم کی۔

(تحرير الوسليۃ: جلد 2 صفحہ 398)

12: سنی میت کو غسل دینا جائز نہیں ہے لکھتا ہے: کافروں کو غسل دینا جائز نہیں ہے اسی طرح مسلمانوں میں سے جن لوگوں کی تکفیر کی گئی ہے جیسے نواصب و خوارج وغيره ان کو بھی غسل دینا جائز نہیں ہے۔

(تحرير الوسليۃ: جلد 1 صفحہ 58)

12: سنی شیعوں کے وارث نہیں بنیں گے جبکہ شیعہ سنیوں کے وارث بنیں گے اور ان کی جائیدادوں میں سے حصہ لیں گے، لکھتا ہے: مسلمان ایک دوسرے کے وارث بنیں گے خواہ ان کے مسالک اصول اور عقائد مختلف ہی کیوں نہ ہوں۔ ہاں غالی قسم کے باطل پرست لوگ جن کی تکفیر کر دی گئی ہے، اور خوارج و نواصب، جو کفار ہیں یا کفار کے حکم میں ہیں تو مسلمان ان کے وارث بنیں وہ مسلمانوں کے وارث نہیں بنیں گے۔ (تحریر الوسلية: جلد 2 صفحہ 394)

13: سنیوں کی غیبت کرنا ان پر لعن طعن کرنا، ان کی عزتوں کو پامال کرنا اور انہیں برا بھلا کہنا جائز ہے، لکھتا ہے: یہ بالکل واضح ہے کہ حرمت صرف مؤمن کی غیبت کے ساتھ خاص ہے، یعنی صرف شیعی امامی کی غیبت حرام ہے لہٰذا مخالف (اہل السنہ) کی غیبت جائز ہے الا یہ کہ تقیہ وغیرہ اس سے باز رہنے کا متقاضی ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ غیبت کی حرمت کے دلائل ان کی غیبت کی حرمت کا اثبات نہیں کرتے ہیں۔ (المکاسب المحرمة للخميني: جلد 1 صفحہ 249)

اس کے بعد خمینی نے اپنے مؤقف کی تائید میں بعض روایات ذکر کی ہیں اور کہا: مختلف ابواب میں بہت ساری روایتوں پر غور و فکر کرنے والا ان (سنیوں) کی عزتوں کو پامال کرنے اور انہیں برا بھلا کہنے کے جواز میں ادنیٰ شک نہیں کرے گا، بلکہ خود ائمہ معصومین نے ان پر بہت زیادہ لعن طعن کیا اور ان کی بہت برائیاں کی ہے۔

(المكاسب المحرمة للخميني: جلد 1 صفحہ 251)

صفحہ 5 از 6